سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

پانی جُنبی نہیں ہوتا

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: اغتسل بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم في جَفْنَةٍ، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم ليتوضأ منها أو يغتسل، فقالت: له يا رسول الله، إني كنت جُنُبًا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن الماء لا يَجْنُبُ».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج میں سے کسی زوجہ نے ایک بڑے برتن میں (موجود پانی سے) غسل کیا۔ بعد ازاں نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ اس برتن (میں موجود پانی) سے وضوء یا غسل کرنا چاہتے تھے۔ آپ کی اس زوجہ نے کہا کہ یارسول اللہ! میں تو جنبی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا۔ آپ ﷺ وضو یا غسل کے ارادے سے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اپنی زوجہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ جنبی تھیں (اس لیے انہوں نے اُس پانی سے غسلِ جنابت کیا تھا)۔ آپ ﷺ نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ کہ پانی تو پاک ہوتا ہے اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔

حوالہ

توضيح الأحكام للشيخ البسام، ط5، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، 1423ه. سُبل السلام، للصنعاني، دار الحديث. تسهيل الإلمام للشيخ صالح الفوزان، بعناية: عبدالسلام السليمان، ط1، 1427ه. شرح الشيخ ابن عثيمين، تحقيق صبحي رمضان وآخر، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه. منحة العلَّام للشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1427ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
مختلف اقسام کے پانی کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com