سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سورتوں اور آیات کے فضائل

15 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔

عن عائشة رضي الله عنها «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على سَرِيَّةٍ فكان يَقْرَأ لأصحابه في صلاتهم، فَيَخْتِمُ بـ«قل هو الله أحد» فلما رجعوا ذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: سَلُوهُ لأَيِّ شيء صَنَع ذلك؟ فسألُوه، فقال: لِأنَّها صِفَةُ الرحمن عز وجل ، فأنا أُحِب أَنْ أَقْرَأ بها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أَخْبِرُوه: أنَّ الله تعالى يُحِبُّه».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟“۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے کسی صحابی کو ایک سریہ کا امیر بنایا، تاکہ وہ (سریہ میں شامل) لوگوں کے انتظامی امور سنبھالیں، (اختلاف کی صورت میں) ان کے درمیان فیصلہ کریں اور کسی طرح کی کوئ بد نظمی نہ پیدا ہو۔ آپ ﷺ امیر اسی کو بناتے، جو لوگوں میں دین، علم اور کارکردگی کے اعتبار سے سب سے مناسب ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جنگوں میں امیر ہی نماز کے امام ہوتے تھے اور اپنی علمی اور دینی برتری کی وجہ سے فتوے بھی وہی دیتے۔ چانچہ (مذکورہ) امیر اللہ تعالیٰ اور اس کے اسما و صفات سے محبت کی وجہ سے ہر نماز کی دوسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پڑھتے تھے، اس لیے کہ جو شخص جس چیز سے محبت کرتا ہے، وہ اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔ یہ لوگ جب غزوے سے واپس اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ یہ محض اتفاق تھا یا اس کی کوئ وجہ تھی؟ امیر نے کہا کہ میں اس لیے ایسا کرتا تھا کہ یہ سورت رحمٰن کی صفات پر مشتمل ہے، اس لیے میں اسے بار بار پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بتادو کہ جس طرح وہ اس سورت سے محبت کی وجہ سے اسےبار بار پڑھتا تھا، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی عظیم صفات پر مشتمل ہے، جن پراس میں مذکور اسما دلالت کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

حوالہ

تيسير العلام للبسام الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة- العاشرة، 1426 هـ - 2006 م. تنبيه الأفهام للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة - الإمارات - مكتبة التابعين- القاهرة- الطبعة الأولى 1426. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري -طبعة دار الفكر- دمشق -الأولى 1381. صحيح البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيلالجعفي البخاري - تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة - الطبعة الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، أبو الحسين مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي- دار المنهاج- القاهرة- مصر -الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: «بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی۔ انھوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور بتایا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے، جو آج ہی کھولا گیا ہے۔ یہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا۔ پھر اس سے ایک فرشتہ اترا، تو جبریل نے بتایا کہ یہ ایک فرشتہ ہے، جو آسمان سے اترا ہے، یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا تھا۔ اس نے سلام عرض کیا اور کہا: مبارک ہو! آپ کو دوایسے نور عطا کیے گئے ہیں، جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے؛ ایک سورۃ الفاتحہ اور دوسری سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تم پڑھو گے، تو (اس کا ثواب) تمھیں ضرور دیا جائے گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی، ”نقیض“ یعنی ایسی اونچی آواز، جو لکڑی کو کوئی سامان تیار کرنے کے لیے پھاڑتے وقت پیدا ہو۔ ”من فوقہ“ یعنی آسمان یا آپ کے سر کی جانب سے۔ ایک قول یہ ہے کہ دروازے کے کھلنے کی آواز کی طرح آواز آئی تھی۔ تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی، چنانچہ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے یعنی آسمانی دنیا کا دروازہ۔ آج ہی کھولا گیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا۔ پھر اس سے یعنی دروازے سے ایک فرشتہ اترا، تو جبریل نے کہا: یہ ایک فرشتہ ہے، جو آسمان سے اترا ہے۔ یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا تھا۔ اس نے یعنی فرشتے نے سلام عرض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دو نور کی خوش خبری مبارک ہو، ان دونوں سورتوں کو نور سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ایسا نور ہے، جو ان پر عمل پیرا لوگوں کی گزرگاہوں کو روشن کرتا ہے یا ان پر تدبر اور ان کے معانی پر غور وخوض کرنے والوں کو صراط مستقیم پر گام زن کر دیتا ہے۔ دونوں انوار کو ان دو واقعات کے ساتھ، جو پہلے کبھی ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے، مربوط کرنے کا مقصد ان کی افضلیت اور ان کی خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے۔ پہلا نور سورۂ فاتحہ اور دوسرا سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں۔ لہٰذا اس امت کا جو شخص ان پر ایمان رکھتے ہوئے ان کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ان دونوں آیتوں میں مانگی گئی ساری چیزیں عطا کرے گا۔ ”اوتیتھما“ یعنی ”اعطیتھما“ یعنی یہ دو انوار آپ سے پہلے کسی اورنبی کو عطا نہیں کی گئیں۔

حوالہ

صحيح مسلم (1/ 554) (806). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 244). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 700). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (4/ 1464). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 760). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (13/ 122).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک صحابی رسول سورہ کھف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔

عن البراء بن عازب –رضي الله عنهما- قال: كانَ رجلٌ يَقرَأُ سُورةَ الكهفِ، وعندَه فَرَسٌ مَربُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو، وجَعلَ فَرَسُه يَنفِرُ منها، فلمّا أصبحَ أتَى النبيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكرَ ذلك له، فقالَ: «تِلكَ السَّكِينةُ تَنَزَّلَتْ للقُرآنِ».
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی سورہ کھف کی تلاوت کررہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور ان کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر جب صبح ہوئی، تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ 'سكينت' تھی، جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے اتری تھی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

براء بن عازب رضی اللہ عنہ، عہد نبوی ﷺ میں وقوع پذیر ہونے والے ایک تعجب خیز قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک صحابی، سورہ کھف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے ایک جانب گھوڑا رسی سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک سایہ جیسی کسی چیز نے انھیں ڈھانک لیا اور ان کے قریب تر ہونے لگی۔ اس کو دیکھ، ان کا گھوڑا خوف زدہ ہو کر بدکنے لگا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو یہ صحابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعے کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر نازل ہونے والی یہ سکینت تھی، جو قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے صحابی کے فضل و شرف اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بات کی گواہی کےاظہار کے طور پر نازل ہوئی کہ اس کا نازل کردہ کلام (قرآن مجید) برحق ہے۔ وہ صحابی اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - فتح الباري، تأليف الحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة. -كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - بهجة الناظرين, سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري الصديقي الشافعي, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان، الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو نماز سے خالی رکھنے سے منع کیا ہے کہ وہ قبرستان کی طرح ہو جائیں، جہاں نماز نہيں پڑھی جاتی۔ پھر آپ نے بتایا کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے، جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔

فوائد
  1. گھروں میں زیادہ سے زیادہ عبادتیں کرنا اور نفل نماز پڑھنا مستحب ہے۔
  2. قبرستان میں نماز پڑھنا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ اس سے شرک اور قبروں میں دفن لوگوں کے بارے میں غلو کے دروازے کھلتے ہيں۔ لیکن جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے۔
  3. چوں کہ قبروں کے پاس نماز نہ پڑھنے کی بات صحابہ کے یہاں ایک مسلمہ حقیقت تھی، اس لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ گھروں کو قبرستان کی طرح نہ بناؤ کہ ان کے اندر نماز نہ پڑھی جائے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 539) (780). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 240). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 682). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 757). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (4/ 1460).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قرآن کریم کی تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت نے ایک شخص کی شفاعت (سفارش) کی، تو اسے بخش دیا گیا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مِنَ القُرْآنِ سُورَةٌ ثَلاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ، وَهِي: تبارك الذي بيده الملك». وفي رواية أبي داود: «تشفع».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”قرآن مجید کی تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت نے ایک شخص کی شفاعت (سفارش) کی، تو اسے بخش دیا گیا۔ یہ سورت ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ ہے۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں ”تَشْفَعُ“ (پڑھنے والے کے حق میں سفارش کرے گی ) کا لفظ وارد ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں یہ وضاحت فرمارہے ہیں کہ قرآن مجید میں تیس آیات پر مشتمل ایک ایسی سورت ہے، جو اپنے قاری کی اس وقت تک سفارش کرتی رہی، جب تک اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ فرمادی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس کی تلاوت کرتا تھا اور اس کا خاص اہتمام کیا کرتا تھا۔ اس لیے جب اس کی وفات ہوگئی، تو اس سورت نے اس کی سفارش کی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے عذاب دور کردیا۔نبی ﷺ نے آغاز حدیث میں اس سورت کا ذکر غیر واضح اسلوب میں فرمایا اور پھر آخر حدیث میں اس کی وضاحت فرمائی؛ تاکہ یہ اسلوب، اس سورت کے شرف و عظمت اوراس کی بڑائی و شوکت کے بیان میں زیادہ مؤثر و کارگر ثابت ہو اور اس کی تلاوت میں پائیداری و ثبات قدمی اختیار کرنے کی راہ میں بھرپور ترغیب کا ذریعہ بن جائے۔

حوالہ

1/ بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2/ تحفة الأحوذي بشرج جامع الترمذي؛ للإمام محمد عبدالرحمن المباركفوري، أشرف عليه عبدالوهاب عبداللطيف، دار الفكر. 3/ جامع الأصول في أحاديث الرسول؛ للإمام مجد الدين ابن الأثير الجزري، حققه عبدالقادر الأرناؤوط، نشر مكتبة الحلواني وغيرها، 1392هـ. 4/ سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. 5/ سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره ، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ. 6/ مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. 7/ دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. 8/ رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 9/ سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. 10/ صحيح سنن أبي داود؛ تأليف الشيخ محمد ناصر الدين الألباني، غراس-الكويت، الطبعة الأولى، 1423هـ. 11/ كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. 12/ نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔

عن أبي الدرداء رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الكَهْفِ، عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ». وفي رواية: «مِنْ آخِرِ سُورَةِ الكَهْف».
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں زبانی یاد کر لیں، وہ مسیح دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ وہی مسیح دجال جو آخری زمانے میں نکلے گا اور الوہیت کا دعوی کرے گا۔ اس کا فتنہ روئے زمین پر آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک کی مدت میں سامنے آنے والا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ اسے کچھ ایسی خلاف عادت چيزیں عطا کرے گا، جن کےذریعے وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالے گا۔ سورہ کہف کے شروع کی دس آیتوں کو یاد کر لینے سے دجال کے فتنے سے تحفظ اس لیے ملے گا کہ ان آیتوں کے اندر کچھ ایسے عجائب اور خلاف عادت چیزوں کا ذکر ہوا ہے، جو دجال کے ہاتھوں ظاہر ہونے والی خلاف عادت چيزوں سے کہيں بڑھ کر ہيں۔ لہذا جو ان پر غور وفکر کر لے گا، وہ دجال کے فتنے کا شکار نہيں ہوگا۔ ایک روایت میں ہے : اس سورہ کے آخر کی دس آیتیں، جو {أفحسب الذين كفروا أن يتخذوا…} سے شروع ہوتی ہيں۔

فوائد
  1. سورہ الکہف کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ اس کی ابتدائی یا آخری آیتیں دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہیں.
  2. اس حدیث کے اندر دجال کے ظہور اور اس سے حفاظت کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
  3. پوری سورۂ کہف کو یاد کر لینے کی ترغیب۔ اگر کوئی پوری سورہ یاد نہ کر سکے تو شروع اور آخر کی دس دس آیتيں یاد کر لے۔
  4. قرطبی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے کہتے ہيں: کہا گیا ہے: چوں کہ اصحاب کہف کے قصے میں بہت سے عجائب اور نشانیاں بیان ہوئی ہیں، اس لیے جو اس قصے سے واقف ہوگا، اسے نہ دجال کا فتنہ عجیب لگے گا، نہ وہ اس سے ڈرے گا اور اس کا شکار ہوگا۔ جب کہ کسی اور نے کہا: اس کی وجہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: {لينذر بأسًا شديدًا من لدنه} (تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے۔) کیوں کہ یہاں سزا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سخت ہوگی اور اللہ کی جانب سے ہوگی، جو دجال کے دعوائے الوہیت، غلبہ اور عظیم فتنے کے مناسب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال کے فتنے کو ایک بڑا فتنہ بتایا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس سے پناہ مانگی ہے۔ اس طرح اس حدیث کے معنی ہوں گے: جس نے ان آیتوں کو پڑھا، ان پر غور وفکر کیا اور ان کے معنی سے واقفیت حاصل کی، وہ اس سے خبردار رہے گا اور نتیجے کے طور پر محفوظ بھی رہے گا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 555) (809). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 243). شرح النووي على مسلم (6/ 92). فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (6/ 119). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (13/ 115). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لملا القاري (4/ 1465). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن (2/ 760).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔

عن أبي مسعود رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ».
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں، تو اللہ اسے برائی اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ کچھ علماء اس حدیث کا مطلب یہ بتاتے ہيں یہ دونوں آیتیں اس کے لیے تہجد کی نماز کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ جب کہ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہيں کہ یہ دونوں آیتیں دیگر اذکار کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہیں کہ رات کی نماز میں کم سے کم ان دو آیتوں کو پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ اس کے کچھ اور بھی مطالب بیان کیے گئے ہيں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اوپر کہی گئی ساری باتیں صحیح ہوں حدیث کے الفاظ ان سارى باتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں۔

فوائد
  1. سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت۔ یہ آخری آیتیں اس طرح ہیں : {آمَنَ ٱلرَّسُولُ..} (رسول ایمان ﻻیا...) سورت کے اخیر تک۔
  2. سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کو رات میں پڑھنے سے انسان برائی اور شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
  3. رات سورج ڈوبنے کے بعد سے شروع ہوتی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 188) (5008-5009). صحيح مسلم (1/ 554) (807). فتح الباري بشرح صحيح البخاري، لابن حجر (9/ 56). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 240). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص593). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لملا علي القاري (4/ 1465). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 757).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟

عن أبي سعيد رافع بن المعلى رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآن قَبْلَ أنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِد؟» فَأخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أرَدْنَا أنْ نَخْرُجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إنَّكَ قُلْتَ: لأُعَلِّمَنَّكَ أعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ؟ قالَ: «الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ، هِيَ السَّبْعُ المَثَانِي وَالقُرْآنُ العَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ».
ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا، جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے، جو سبع مثانی ہے اور قرآنِ کریم جو مجھے دیا گیا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ألا“ یہ لفظ مخاطب کو ما بعد والی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ” مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟“ آپ ﷺ نے ابتداءً نہیں بتایا بلکہ یہ جملہ کہا، اس لیے کہ یہ اسلوب ان کے ذہن میں بات ڈالنے اور ان کو اس طرف متوجہ کرنے کے زیادہ مناسب تھا۔ ”پس آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا“ یعنی یہ کہنے کے بعد جب ہم چلنے لگے، ”جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے“ یعنی سورہ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت ہے، یہ اس لیے کہ اس میں قرآنِ کریم کے تمام مقاصد جمع ہیں، اسی وجہ سے اسے اُمُّ القرآن کہتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو ”سبعِ مثاني“ کا نام دے کر اسے باقی تمام سورتوں سے ممتاز کیا بلکہ اس کو ان سب میں سے بڑی سورت قرار دیا۔ ’مثاني‘ مثناة کی جمع ہے اور مثناة تثنیۃ سے ہے، اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے یا اس لیے کہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا کر اسے تثنیہ بنایا جاتا ہے یا اس کو ’مثاني‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو قسموں پر مشتمل ہیں ثناء اور دعاء یا اس لیے کہ اس میں الفاظ کی فصاحت اور معانی کی بلاغت دونوں چیزیں جمع کی گئی ہیں یا اس لیے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ اسے دُہرایا جاتا رہے گا، بار بار پڑھا جائے گا جس سے یہ ختم نہیں ہوگی، اسے پڑھایا جائے گا جس سے یہ سینوں سے نہیں مٹے گا یا اس لیے کہ اس کے فائدوں میں وقتاً فوقتاً تجدید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی انتہاء نہیں یا اس کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ ’مثناۃ‘، ’ثناء‘ سے ماخوذ ہے، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی تعریف پر مشتمل ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور یا یہ ’الثنايا‘ سے ماخوذ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے چُنا ہے۔ ”والقرآن العظيم“ یعنی اس سورت کو قرآن عظیم بھی کہتے ہیں۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس سورت کو قرآنِ عظیم کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت سے متعلق تمام موجودات اور احکام و عقائد کو جمع کیا گیا ہے۔

حوالہ

1-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.ط 1-1415 2-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. 3-رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 4-صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. 5-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
15 میں سے 8
15 احادیث
  1. رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔
  2. جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی۔
  3. ایک صحابی رسول سورہ کھف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔
  4. ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔
  5. قرآن کریم کی تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت نے ایک شخص کی شفاعت (سفارش) کی، تو اسے بخش دیا گیا۔
  6. جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔
  7. جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔
  8. کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤں؟
  9. کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’قل أعوذ بربّ الفلق‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔
  10. قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے قارئین کا سفارشی بن کر آئے گا۔
  11. اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔
  12. اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾
  13. اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے
  14. بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے
  15. آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com