سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾

عَنْ ‌عَائِشَةَ رضي الله عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا: {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ}، وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}، وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھتے۔ پھر ان دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر مبارک اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے۔ آپ ﷺ یہ عمل تین مرتبہ کرتے تھے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب آپ سونے کے لیے بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اوپر اٹھاتے -جیسے دعا کرنے والا اٹھاتا ہے- پھر دونوں میں اپنے منہ سے معمولی تھوک کے ساتھ ہلکی پھونک مارتے اور ان تین سورتوں کی تلاوت کرتے: ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے۔ پہلے سر پھر چہرے اور جسم کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرتے۔ ایسا تین دفعہ کرتے۔

فوائد
  1. سونے سے قبل سورۃ الاخلاص اور معوذتین کی تلاوت کرنا اور ہتھیلیوں میں پھونک مارنا اور جہاں تک ممکن ہو جسم پر ہاتھ پھیرنا مستحب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 190) (5017)، (7/ 133) (5748)، الكاشف عن حقائق السُّنن (5/1651)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/ 35)، التوضيح لشرح الجامع الصحيح ( 24/ 91)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص 929)، شرح سنن أبي داود لابن رسلان (19/268).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
سورتوں اور آیات کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com