سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔

عن أبي الدرداء رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الكَهْفِ، عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ». وفي رواية: «مِنْ آخِرِ سُورَةِ الكَهْف».
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں حفظ کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔" ایک روایت ہے: "سورہ کہف کے آخر کی۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے سورہ کہف کے شروع کی دس آیتیں زبانی یاد کر لیں، وہ مسیح دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ وہی مسیح دجال جو آخری زمانے میں نکلے گا اور الوہیت کا دعوی کرے گا۔ اس کا فتنہ روئے زمین پر آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک کی مدت میں سامنے آنے والا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ اسے کچھ ایسی خلاف عادت چيزیں عطا کرے گا، جن کےذریعے وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالے گا۔ سورہ کہف کے شروع کی دس آیتوں کو یاد کر لینے سے دجال کے فتنے سے تحفظ اس لیے ملے گا کہ ان آیتوں کے اندر کچھ ایسے عجائب اور خلاف عادت چیزوں کا ذکر ہوا ہے، جو دجال کے ہاتھوں ظاہر ہونے والی خلاف عادت چيزوں سے کہيں بڑھ کر ہيں۔ لہذا جو ان پر غور وفکر کر لے گا، وہ دجال کے فتنے کا شکار نہيں ہوگا۔ ایک روایت میں ہے : اس سورہ کے آخر کی دس آیتیں، جو {أفحسب الذين كفروا أن يتخذوا…} سے شروع ہوتی ہيں۔

فوائد
  1. سورہ الکہف کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ اس کی ابتدائی یا آخری آیتیں دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہیں.
  2. اس حدیث کے اندر دجال کے ظہور اور اس سے حفاظت کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
  3. پوری سورۂ کہف کو یاد کر لینے کی ترغیب۔ اگر کوئی پوری سورہ یاد نہ کر سکے تو شروع اور آخر کی دس دس آیتيں یاد کر لے۔
  4. قرطبی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے کہتے ہيں: کہا گیا ہے: چوں کہ اصحاب کہف کے قصے میں بہت سے عجائب اور نشانیاں بیان ہوئی ہیں، اس لیے جو اس قصے سے واقف ہوگا، اسے نہ دجال کا فتنہ عجیب لگے گا، نہ وہ اس سے ڈرے گا اور اس کا شکار ہوگا۔ جب کہ کسی اور نے کہا: اس کی وجہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: {لينذر بأسًا شديدًا من لدنه} (تاکہ اپنے پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کردے۔) کیوں کہ یہاں سزا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سخت ہوگی اور اللہ کی جانب سے ہوگی، جو دجال کے دعوائے الوہیت، غلبہ اور عظیم فتنے کے مناسب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال کے فتنے کو ایک بڑا فتنہ بتایا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس سے پناہ مانگی ہے۔ اس طرح اس حدیث کے معنی ہوں گے: جس نے ان آیتوں کو پڑھا، ان پر غور وفکر کیا اور ان کے معنی سے واقفیت حاصل کی، وہ اس سے خبردار رہے گا اور نتیجے کے طور پر محفوظ بھی رہے گا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 555) (809). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 243). شرح النووي على مسلم (6/ 92). فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (6/ 119). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (13/ 115). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لملا القاري (4/ 1465). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن (2/ 760).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
سورتوں اور آیات کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com