عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا حَسَدَ إلا في اثنتين: رجل آتاه الله مالا، فسَلَّطَه على هَلَكَتِهِ في الحَقِّ، ورجل آتاه الله حِكْمَة، فهو يقضي بها ويُعَلِّمَها».
وعن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا حسد إلا في اثنتين: رجل آتاه الله القرآن، فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار، ورجل آتاه الله مالا، فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار».
ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ حسد کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی حسد تو وہ ہوتا ہے جو مذموم اورشرعا حرام ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ اس کے بھائی سے نعمت چھن جائے۔ ایک حسد وہ ہوتا ہے جو مباح ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی کسی دوسرے کے پاس کوئی دنیاوی نعمت دیکھتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اسی طرح کی نعمت اسے بھی مل جائے۔ اسی طرح ایک حسد وہ ہوتا ہے جو شرعا قابل تعریف اور مستحب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی اور کے پاس کوئی دینی نعمت دیکھے اور خواہش کرے کہ وہ اسے بھی مل جائے۔ نبی ﷺ کی یہاں آپ ﷺ کے فرمان ”حسد صرف دوصورتوں میں جائز ہے“ میں حسد سے مراد حسد کی یہی قسم ہے۔ یعنی یہ کہ حسد کی مختلف انواع کے اعتبار سے ان کا حکم بھی مخلتف ہوتا ہے اور یہ شرعی طور پر قابل تعریف اور مستحب صرف دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے:
پہلی صورت: کوئی ایسا شخص ہو جو مالدار بھی ہو اور صاحب تقوی بھی۔ اسے اللہ نے بہت سا حلال مال دیا ہو اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ اسے دیکھ کر آدمی تمنا کرے کہ کاش وہ بھی اس کی طرح کا ہو اور وہ اس نعمت پر اس پر رشک کرے۔
دوسری صورت: کوئی ایسا عالم شخص ہو جسے اللہ نے علم نافع سے نوازا ہو جس پر وہ خود بھی عمل کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہو اور اس کے ذریعے لوگوں کے مابین فیصلے کرتا ہو۔اسے دیکھ کر آدمی خواہش کرے کہ وہ بھی اس کی طرح کا ہو جائے۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر.
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ
منار القاري، تأليف: حمزة محمد قاسم، الناشر: مكتبة دار البيان ، عام النشر: 1410 هـ.
عن أبي أمامة رضي الله عنه قال: سمعتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يقولُ: «اقْرَؤُوا القرْآنَ؛ فَإنَّهُ يَأتِي يَوْمَ القِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نےاپنی امت کو قرآن پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ روزِ قیامت اللہ تعالی اس قرآن کے ثواب کو ایک بذاتِ خود موجود شے کی شکل دے دے گا، جو اپنے پڑھنے والوں، اس میں مشغول رہنے والوں اور اس کے احکام و نواہی کی پابندی کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔
حوالہ
1-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
2-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
3-رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
4-شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
5-صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
6-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : ”اس قرآن کی حفاظت (دیکھ بھال) کرو اور اس كى برابر تلاوت كيا كرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل جانے میں اس اونٹ سے زیادہ تیز ہے جو رسی میں بندھا ہوا ہو“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کا دھیان رکھنے اور پابندی سے اس کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ قرآن یاد ہونے کے بعد انسان کے حافظے سے نکل نہ جائے۔ آپ نے اس بات کے اندر تاکید پیدا کرنے کے لیے قسم کھاکر بتایا کہ قرآن اونٹ کے بندھن توڑ کر بھاگنے سے بھی زیادہ تیزی سے انسان کے سینے سے نکل بھاگتا ہے۔ انسان خیال رکھے تو وہ رہتا ہے اور دھیان نہ دے، تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
فوائد
اگر حافظ قرآن پابندی سے اس کی تلاوت کرتا رہے، تو وہ سینے میں محفوظ رہتا ہے، ورنہ حافظے سے نکل کر چلا جاتا ہے۔
پابندی کے ساتھ قرآن پڑھتے رہنے کا فائدہ ایک تو یہ ہے کہ ثواب ملتا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس سے قیامت کے دن انسان کے درجات اونچے ہوتے ہيں۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 545) (791).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي (2/ 231).
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين (ص299) (1002).
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين (4/ 657).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (13/ 5).
عن عثمان رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ».
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے افضل اور اونچے درجے والا مسلمان وہ ہے، جس نے قرآن سیکھا، یعنی اسے پڑھنا سیکھا، یاد کیا اور اس سے مسائل اخذ کرنا سیکھا اور اس کی تفسیر سیکھی اور ساتھ ہی اپنے پاس موجود قرآن کے علم پر عمل کرتے ہوئے اسے دوسروں کو سکھایا۔
فوائد
قرآن کی فضیلت اور اس بات کا بیان کہ قرآن سب سے اچھا کلام ہے، کیوں کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔
سب سے بہتر سیکھنے والا وہ ہے، جو علم کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کی بجائے دوسروں کو سکھائے بھی۔
قرآن سیکھنے اور سکھانے کے اندر اس کی تلاوت، معانی اور احکام سب شامل ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 192) (5027).
فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني (1/ 374).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 226).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وغيره (1/ 740).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 638).
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: «لقد أُوتيتَ مِزْمَاراً من مزامير آل داود».
وفي رواية لمسلم: أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: «لو رَأيتَنِي وأنا أستمع لقراءتك البارحة».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم مجھے دیکھ لیتے، جب کہ گزشتہ رات میں تمھاری قراءت سن رہا تھا!“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےجب ان کی ترتیل کے ساتھ پڑھی گئی دل کش و دل نشین تلاوت سماعت فرمائی، تو ان سے فرمایا:" تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں(اچھی آوازوں)میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔" یعنی خود داؤد علیہ السلام ہی کی خوش الحانی۔ در اصل داؤد علیہ السلام کو بہت بلند، دل لبھانے والی عمدہ ترین آواز عطا کی گئی تھی، حتی کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ﴾ ”اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا“۔ (سورہ سبا:10) 'آل فلان' کا اطلاق کبھی خود اسی شخص پر ہوتا ہے؛ کیوں کہ آل داؤد میں سے کسی کو بھی وہ دل کش و دل نشین آواز عطا نہیں کی گئی، جو داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔
حوالہ
1/ بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
2/ تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
3/ دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
4/ رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
5/ شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
6/ شرح صحيح مسلم؛ للإمام محي الدين النووي، دار الريان للتراث-القاهرة، الطبعة الأولى، 1407هـ.
7/ صحيح البخاري؛ عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
8/ صحيح مسلم؛ حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
9/ كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
10/ نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، سنگترے جیسی ہے، جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہ پڑھتا ہو، کھجور جیسی ہے، جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی، لیکن مٹھاس ہوتی ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے، جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے، لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا، اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن پڑھنے اور اس سے فیض یاب ہونے کے سلسلے میں لوگوں کی مختلف قسمیں بیان کی ہيں :
پہلی قسم : ایسا مومن جو قرآن پڑھتا اور اس سے فیض یاب ہوتا ہو۔ اس کی مثال سنگترے جیسی ہے۔ لذیذ بھی، خوش بو دار بھی اور خوش رنگ بھی۔ اس کے منافع بے شمار ہيں۔ جو کچھ پڑھتا ہے، اس پر عمل کرتا ہے اور اللہ کے بندوں کو فیض یاب کرتا ہے۔
دوسری قسم : ایسا مومن جو قرآن نہ پڑھتا ہو۔ وہ کھجور جیسا ہے۔ میٹھا تو ہے، لیکن خوش بو ندارد۔ جس طرح کھجور کے اندر میٹھاپن ہوتا ہے، اس طرح اس کے اندر ایمان تو ہے، لیکن اس سے خوش بو نہيں نکلتی کہ لوگوں کے ذہن و دماغ کو معطر کر سکے۔ کیوں کہ اس سے قرآن کی قراءت نہيں ہوتی، جسے سن کر لوگوں کو راحت وسکون حاصل ہو۔
تیسری قسم : ایسا منافق جو قرآن پڑھتا ہو۔ اس کی مثال ریحانہ (ایک خوشبو دار پودا) جیسی ہے۔ اس کی خوش بو تو بڑی اچھی ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا۔ کیوں کہ اس نے ایمان کے ذریعے اپنے قلب کی اصلاح نہيں کی اور قرآن پر عمل نہیں کیا اور لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ صاحب ایمان ہے۔ ریحانہ کی خوش بو منافق کی قراءت کی مانند ہے اور اس کا کڑوا پن منافق کے کفر کی مانند۔
چوتھی قسم : ایسا منافق جو قرآن نہ پڑھتا ہو۔ اس کی مثال اندرائن جیسی ہے۔ خوش بو بھی نہیں اور ذائقہ بھی کڑوا۔ اندرائن کا خوش بو سے خالی ہونا منافق کا قرآن کی تلاوت سے دور رہنے کی طرح ہے، جب کہ اس کا کڑواپن منافق کے کفر کے کڑوے پن کی طرح ہے، جس کا باطن ایمان سے خالی ہوتا ہے اور ظاہر بالکل نفع بخش نہ ہو، بلکہ ضرر رساں ہو۔
فوائد
حامل قرآن جو عامل قرآن بھی ہو, اس کی فضیلت کا بیان۔
تعلیم کا ایک طریقہ اپنی بات کو سمجھانے کے لیے مثال پیش کرنا بھی ہے۔
مسلمان کو ہر روز اللہ کی کتاب کا ایک متعینہ حصہ پڑھنا چاہیے۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 77) (5427).
صحيح مسلم (1/ 549) (797).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 227).
نزهة المتقين، لجمعٌ من المشايخ (1/ 741).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (12/ 568).
شرح رياض الصالحين، للعثيمين (4/ 642).
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ {الم} حَرْفٌ، وَلَكِنْ {أَلِفٌ} حَرْفٌ، وَ{لَامٌ} حَرْفٌ، وَ{مِيمٌ} حَرْفٌ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“
رواه الترمذيدرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھتا ہے، تو اس کے بدلے میں اسے ایک نیکی ملتی ہے اور اس کے لیے ثواب کو دس گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔
پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔" اس طرح تین حرف ہوئے، جن کو پڑھنے پر تیس نیکیاں ملیں گی۔
فوائد
زیادہ سے زیادہ قرآن تلاوت کرنے کی ترغیب۔
قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے، جسے دس گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
اللہ کا وسیع رحم و کرم کہ وہ اپنے فضل و کرم کے نتیجے میں بندوں کو اجر و ثواب بڑھا کر دیتا ہے۔
دوسرے کلام پر قرآن کی فضیلت اور اس کی تلاوت کا عبادت ہونا۔ ایسا اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 33) (2910).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 229).
سلسلة الأحاديث الصحيحة، للألباني (7/ 970).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 655).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 742).
عن أبي لبابة بشير بن عبد المنذر رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَن لَم يَتَغنَّ بِالقُرآنِ فَليسَ مِنَّا».
ابو لبابہ بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے اس حدیث میں قرآن کو سریلی آواز میں پڑھنے کی ترغیب دی۔ اس لفظ (تغنی بالقرآن)کے دو معانی ہیں:
پہلا معنی یہ کہ جو شخص اسے سریلی آواز میں نہیں پڑھتا یعنی قرآن کو اچھی آواز میں نہیں پڑھتا وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقہ کار پر کاربند نہیں۔
دوسرا معنی یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر تکیہ کرتے ہوئے دوسری ہر شے سے مستغنی نہیں ہو جاتا بایں طور کہ کسی اور شے سے بھی ہدایت چاہتا ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور شے سے ہدایت چاہتا ہے اسے یہ شے گمراہ کر دیتی ہے، العیاذ باللہ۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھی آواز میں قرآن پڑھے اور اس کی موجودگی میں دیگر تمام اشیاء سے بے نیاز ہو جائے۔
حوالہ
1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.-الطبعة الأولى 1418ه.
2- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
3- سنن أبي داود؛ للإمام أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، تعليق عزت الدعاس وغيره، دار ابن حزم-بيروت، الطبعة الأولى، 1418هـ.
4- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
5- صحيح سنن أبي داود؛ تأليف الشيخ محمد ناصر الدين الألباني، غراس-الكويت، الطبعة الأولى، 1423هـ.
6- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
7- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين -المؤلف: محمد علي بن محمد بن علان الصديقي-اعتنى بها: خليل مأمون شيحا-دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان-الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com