اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ صاحب قرآن جو اس پر عمل بھی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تلاوت اور حفظ میں محو رہتا ہے، جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور ساتھ ساتھ جنت کی منزلوں پر چڑھتا جا۔ جس طرح دنیا میں غور و فکر اور اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا تھا، اسی طرح تلاوت کر۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی۔
- اعمال پر ان کى کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے بدلہ ملے گا۔
- قرآن کی تلاوت، اسے یاد کرنے، اس پر غور وفکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب۔
- جنت کے بہت سے منازل اور درجات ہیں۔ صاحب قرآن کو جنت کی سب سے بلند منزل ملے گی۔
سنن أبي داود (2/ 592) (1464)، سنن الترمذي (5/ 35) (2914)، مسند أحمد (11/ 403) (6799)، السنن الكبرى للنسائي (7/ 272) (8002)، معالم السنن (1/290)، تحفة الأحوذي (8/187)، عون المعبود وحاشية ابن القيم (4/ 237).