سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن اللهَ يَرفعُ بهذا الكِتابِ أقْواماً ويَضَعُ به آخَرِينَ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے"۔ یعنی جو لوگ اس قرآن کو سیکھتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے اور پڑھتے ہیں، ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں بلندیاں عطا فرماتا ہے اور بعض کو دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔ جو قرآنی کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرکے اس کی احکامات پر عمل کرتا ہے اور نواہی سے بچتا ہے، اس سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، اس کے بیان کردہ اخلاق فاضلہ کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بلندیاں عطا کرتا ہے؛ کیوںکہ یہی قرآن اصل علم، علم کا سرچشمہ اور پورا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یرفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں، درجے بلند کر دے گا اور آخرت میں اس کے ذریعے بہت ساری قوموں کو نعمتوں والی جنت میں بلندیاں عطا کریں گے۔ جہاں تک ان لوگوں کی بات ہے، جنھیں اللہ قرآن کے ذریعے ذلیل کرتا ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں، جو اس کی تلاوت بہتر انداز میں کرتے ہیں؛ لیکن اس سے تکبر کرتے ہیں، اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق نہیں کرتے، اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، اس کی خبروں کو جان بوجھ کر جھٹلاتے ہیں، جیسے گزشتہ انبیا کے واقعات یا آخرت کے بارے میں قرآن کی خبریں وغیرہ۔ ان تمام امور میں شک و شبہ کی روش اپناتے ہیں-والعیاذ باللہ- اور دل سے یقین نہیں کرتے۔ بسا اوقات ان کا یہ جان بوجھ کر انکار کا رویہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے ہیں، اس کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، اوامر پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی ممنوعات سے بچتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ والعیاذ باللہ!

حوالہ

1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 3- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. 4- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. 5- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قرآن کریم میں مشغول رہنے کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com