سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

امام کے خلاف بغاوت

5 احادیث

ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے

عن عُبَادَةَ بن الصَّامتِ رضي الله عنه قال: بَايَعْنَا رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم على السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وعلى أَثَرَةٍ علينا، وعلى أَلَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أهلَه، وعلى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أينما كُنَّا، لا نَخَافُ في الله لَوْمَةَ لَائِمٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ مشکل اور آسانی میں، چستی وسستی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم اقتدار کے معاملے میں اصحاب اقتدار سے تنازع نہیں کریں گے، ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے، حق بات کہیں گے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ آسان اور مشکل حالت اور مال داری اور غربت میں، حکام کے فرمان ان کو پسند ہوں یا نہ ہوں، یہاں تک کہ حکمراں عوامی دولت اور عہدوں وغیرہ کی تقسیم کے معاملے میں ان پر کسی کو ترجیح ہی کیوں نہ دیتے ہوں، حکمرانوں کی بات مان کر چلیں گے اور ان کے خلاف بغاوت کا پرچم نہيں اٹھائیں گے۔ کیوں کہ ان سے لڑنے کے نتیجے میں جو فتنہ و فساد برپا ہوگا، وہ ان کے ظلم کے نتیجے میں ہونے والے فتنہ و فساد سے زیادہ بڑا ہوگا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اس بات کا بھی عہد لیا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے، اللہ کی رضا جوئی کے لیے حق بات کہیں گے اور کسی کی سرزنش کی پرواہ نہیں کریں گے۔

فوائد
  1. حکمرانوں کی بات سننے اور ماننے کا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمان متحد رہیں گے اور ان کے درمیان اختلاف و انتشار کو راہ نہیں ملے گی۔
  2. حکمرانوں کی باتوں کو، جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں، سننا اور ماننا ضروری ہے، آسان حالت میں بھی اور مشکل حالت میں بھی، پسند ہو تب بھی اور ناپسند ہو تب بھی، یہاں تک کہ کسی اور کو ترجیح دی جائے، تب بھی۔
  3. ہم جہاں بھی رہیں، کسی کی سرزنش کی پرواہ کیے بغیر حق بات کہنا واجب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 47) (7055-7056)، (9/ 77) (7199، 7200). صحيح مسلم (3/ 1470) (1709). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 277). رياض الصالحين، للنووي (ص83) (186). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 419). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 202).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مستقبل میں ایسے حکمراں سامنے آئیں گے، جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ ایسے میں جو ان (کے برے کاموں) کو برا جانے گا، وہ گناہ سے بری رہے گا اور جو ان کے برے کاموں کو برا کہے گا، وہ سلامت رہے گا۔ لیکن جو (ان کے برے کاموں پر) مطمئن رہے گا اور ان کی پیروی کرے گا، (وہ ہلاکت میں پڑے گا۔)

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ المُؤمنين رضي الله عنها: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا».
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مستقبل میں ایسے حکمراں سامنے آئیں گے، جن کے کچھ کام تمہیں بھلے لگیں گے اور کچھ برے۔ ایسے میں جو ان (کے برے کاموں) کو برا جانے گا، وہ گناہ سے بری رہے گا اور جو ان کے برے کاموں کو برا کہے گا، وہ سلامت رہے گا۔ لیکن جو (ان کے برے کاموں پر) مطمئن رہے گا اور ان کی پیروی کرے گا، (وہ ہلاکت میں پڑے گا۔)" لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : "نہیں، جب تک کہ وہ نماڑ پڑھتے رہیں۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہماری حکمرانی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے گی، جن کے کچھ کام شریعت کے مطابق ہونے کی وجہ سے ہمیں صحیح لگیں گے اور کچھ کام شریعت مخالف ہونے کی وجہ سے ہمیں غلط لگیں گے۔ اس طرح کے حالات میں جو شخص ان کے غلط کاموں کو اپنے دل سے برا جانے گا اور اس حیثیت میں نہیں ہوگا کہ ان کی تردید کر سکے، تو وہ گناہ اور نفاق سے بری مانا جائے گا۔ اس کے برخلاف جس کے پاس ہاتھ سے روکنے یا زبان سے تردید کرنے کی طاقت ہوگی اور وہ اپنی ذمے داری ادا کرے گا، تو وہ گناہ کرنے اور اس میں شریک ہونے سے محفوظ رہے گا۔ لیکن جو ان کے ان برے کاموں سے مطمئن رہے گا اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان گناہوں میں شریک ہوگا، وہ انہی کی طرح ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ پھر صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا ہم اس طرح کے حکمرانوں سے جنگ نہ کریں، تو آپ نے ان کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ نہیں، ایسا اس وقت تک نہ کرنا، جب تک وہ تمھارے درمیان نماز قائم کرتے رہیں۔

فوائد
  1. محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے نبی ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ آپ نے مستقبل میں سامنے آنے والی کچھ غیبی باتوں کی پیشین گوئی فرمائی اور وہ باتیں ہو بہو اسی طرح سامنے آبھی گئیں، جس طرح آپ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔
  2. غلط کام سے نہ تو مطمئن ہونا جائز ہے اور نہ اس میں شریک ہونا۔ بلکہ اس کا انکار کرنا واجب ہے۔
  3. جب حکمراں شریعت مخالف کام کرنے لگیں، تو ان کاموں میں ان کی اطاعت جائز نہيں ہے۔
  4. مسلم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں فساد برپا ہوگا، خوں ریزی ہوگی اور امن و شانتی کا ماحول ختم ہوگا۔ لہذا نافرمان حکمرانوں کے غلط رویوں کو برداشت کرنا اور ان کی اذیتوں پر صبر کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے۔
  5. نماز کی بڑی اہمیت ہے۔ نماز کفر اور اسلام کے درمیان امتیاز کرنے والی چیز ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1480) (1854). المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (4/ 64). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (32/ 206). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 279). تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك (ص150). الشرح الممتع على زاد المستقنع، لابن عثيمين (11/ 323). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 435). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 211).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔

عن الزبير بن عدي، قال: أَتَيْنَا أنسَ بنَ مَالِكٍ رضي الله عنه فَشَكَوْنَا إليه ما نَلْقَى من الحَجَّاجِ، فقال: «اصْبِرُوا، فإنه لا يأتي زمانٌ إلا والذي بعده شَرٌّ منه حَتَّى تَلْقَوا رَبَّكُم» سمعتُه من نَبِيِّكُم صلى الله عليه وسلم .
زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت کی۔ انھوں نے فرمایا: صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمھارے نبی ﷺ سے سنا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زبیر بن عدی کچھ لوگوں کے ساتھ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے۔ انھوں نے ان سے حجاج بن یوسف ثقفی کی شکایت کی، جو اموی خلفا کا گورنر تھا، وہ بہت ہی جابر اور سر کش تھا اور ظلم و خون ریزی میں مشہور تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے انھیں حکمرانوں کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ لوگوں پر آنے والا ہر زمانہ اپنے سے پہلے والے زمانے سے بد تر ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملیں۔ مزید بتایا کہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ یہاں شر سے مراد مطلق شر نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض جگہوں پر تو یہ شر ہو گا اور بعض دوسری جگہوں پر خیر ہو گا۔

حوالہ

- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. - شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. - صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جو (امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دے اور اسی حال میں اس کی موت ہو جائے، تو ایسی موت جاہلیت کی موت ہے

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ ‌خَرَجَ ‌مِنَ ‌الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ، يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ، أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ، أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً، فَقُتِلَ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي، يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جو (امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور (مسلمانوں کی) جماعت چھوڑ دے اور اسی حال میں اس کی موت ہو جائے، تو ایسی موت جاہلیت کی موت ہے۔ جو شخص ایسے جھنڈے تلے لڑائی لڑے، جس کا مقصد واضح نہ ہو، وہ عصبیت کی بنا پر غصے میں آتا ہو، يا عصبیت کی دعوت دیتا ہو یا عصبیت کا تعاون کرتا ہو، پھر اسی حالت میں مارا جائے، تو اس کی موت جاہلیت والی موت ہے۔ جو میری امت کے خلاف لڑائی کے لیے نکلے اس طور پر کہ امت کے نیک و برے لوگ سبھی کو مارے، نہ مؤمن کو چھوڑے نہ معاہد کے عہد کو نبھائے، ایسا شخص مجھ میں سے نہيں ہے اور میں اس میں سے نہیں ہوں۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو شخص حکمرانوں کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکل گیا اور امام کی بیعت پر اتفاق رکھنے والی جماعت اسلام سے الگ ہو گيا، پھر اسی علاحدگی اور عدم اطاعت کی حالت میں مر گیا، تو وہ زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا، جو نہ کسی امیر کی اطاعت کرتے تھے اور نہ ایک جماعت سے جڑے ہوئے تھے۔ بلکہ الگ الگ ٹولیوں اور جتھوں میں بٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھے۔ اسی طرح آپ نے بتایا کہ جس نے کسی ایسے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر جنگ کی، جس کے بارے میں یہ واضح نہ ہو کہ وہ حق کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے یا باطل کی بنیاد پر، پھر وہ اللہ کے دین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی قوم یا اپنے قبیلے کے تعصب میں طیش میں آتا ہو اور علم و بصیرت سے خالی ہو کر محض تعصب کی بنیاد پر جنگ میں شریک ہوتا ہو اور اسی حالت میں مر جائے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔ اسی طرح جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے خلاف بغاوت کی، وہ اس کے نیک و بد سبھی لوگوں کی گردن ناپنے لگے، اپنی ان حرکتوں کی کوئی پرواہ نہ رکھے، ایمان والوں کے قتل کے انجام سے خوف نہ کھائے، معاہد غیر مسلموں اور حکمرانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا نہ کرے، تو وہ اپنے ان گناہوں کی وجہ سے، جو کبیرہ گناہوں کے ضمن میں آتے ہیں، اس شدید ترین وعید کا حق دار بن گیا۔

فوائد
  1. حکمرانوں کی اطاعت واجب ہے، جب تک وہ کسی ایسے کام کا حکم نہ دیں، جس سے اللہ تعالی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔
  2. اس حدیث میں مسلم حکمراں کی اطاعت سے باہر نکل جانے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جانے سے پر زور انداز میں خبردار کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس طرح کی حالت میں مر جاتا ہے، تو وہ دور جاہلیت کے لوگوں کی موت مر جاتا ہے۔
  3. اس حدیث میں عصبیت کی بنیاد پر جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
  4. ایفائے عہد واجب ہے۔
  5. امام (حکمراں) کی اطاعت اور جماعت سے لازمی وابستگی کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس سے امن و سکون کی فضا بنتی ہے اور سارے احوال ٹھیک رہتے ہیں۔
  6. دور جاہلیت کے لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔
  7. مسلمانوں کی جماعت سے لازمی طور پر وابستہ رہنے کا حکم۔
حوالہ

صحيح مسلم. شرح النووي على مسلم (12/ 238). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (6/ 179). سبل السلام، لمحمد الصنعاني (2/ 374). منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 338). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (6/ 2395).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔

عن عرفجة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ».
عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب مسلمان بالاتفاق کسی کو حکمراں مان چکے ہوں اور ایک جماعت کی شکل میں رہ ہے ہوں اور پھر کوئی آکر ان کے حکمراں سے اس کی حکمرانی چھیننا چاہے یا مسلمانوں کی جماعت کو ایک سے زیادہ جماعتوں میں بانٹنا چاہے، مسلمانوں پر اسے روکنا اور اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، تاکہ اس کی برائی سے بچا جا سکے اور مسلمانوں کی خوں ریزی سے تحفظ فراہم ہو سکے۔

فوائد
  1. مسلمانوں کا حکمراں جب تک کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دے، اس کی بات سننا اور اس کے حکم کی تعمیل کرنا واجب اور اس کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہوگا۔
  2. جو مسلمانوں کے حکمراں اور ان کی جماعت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، چاہے وہ عزت و شرافت اور حسب ونسب کے معاملے میں کتنے ہی اونچے مقام پر فائز کیوں نہ ہو۔
  3. اجتماعیت کو برقرار رکھنے اور تفرق و اختلاف کا شکار نہ ہونے کی ترغیب۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1480) (1852). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 349). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، للبسام (6/ 329). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 302). المفاتيح في شرح المصابيح، الحسين المُظْهِري (4/ 295).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com