سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔

عن عرفجة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ».
عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب مسلمان بالاتفاق کسی کو حکمراں مان چکے ہوں اور ایک جماعت کی شکل میں رہ ہے ہوں اور پھر کوئی آکر ان کے حکمراں سے اس کی حکمرانی چھیننا چاہے یا مسلمانوں کی جماعت کو ایک سے زیادہ جماعتوں میں بانٹنا چاہے، مسلمانوں پر اسے روکنا اور اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، تاکہ اس کی برائی سے بچا جا سکے اور مسلمانوں کی خوں ریزی سے تحفظ فراہم ہو سکے۔

فوائد
  1. مسلمانوں کا حکمراں جب تک کسی گناہ کے کام کا حکم نہ دے، اس کی بات سننا اور اس کے حکم کی تعمیل کرنا واجب اور اس کے خلاف بغاوت کرنا حرام ہوگا۔
  2. جو مسلمانوں کے حکمراں اور ان کی جماعت کے خلاف علم بغاوت بلند کرے، اس سے جنگ کرنا واجب ہوگا، چاہے وہ عزت و شرافت اور حسب ونسب کے معاملے میں کتنے ہی اونچے مقام پر فائز کیوں نہ ہو۔
  3. اجتماعیت کو برقرار رکھنے اور تفرق و اختلاف کا شکار نہ ہونے کی ترغیب۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1480) (1852). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 349). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، للبسام (6/ 329). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 302). المفاتيح في شرح المصابيح، الحسين المُظْهِري (4/ 295).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
امام کے خلاف بغاوت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com

جو شخص تمھارے پاس اس حال میں آئے کہ تم لوگ بالاتفاق کسی کو خلیفہ مان کر اس کی اطاعت کر رہے ہو، وہ تمھارے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے یا تمھاری جماعت کے شیرازے کو منتشر کرنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔ · تشریح کے ساتھ احادیث · سبیل