سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔

عن الزبير بن عدي، قال: أَتَيْنَا أنسَ بنَ مَالِكٍ رضي الله عنه فَشَكَوْنَا إليه ما نَلْقَى من الحَجَّاجِ، فقال: «اصْبِرُوا، فإنه لا يأتي زمانٌ إلا والذي بعده شَرٌّ منه حَتَّى تَلْقَوا رَبَّكُم» سمعتُه من نَبِيِّكُم صلى الله عليه وسلم .
زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت کی۔ انھوں نے فرمایا: صبر کرو، کیوں کہ تم پر ہر بعد میں آنے والا دور پہلے سے برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمھارے نبی ﷺ سے سنا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زبیر بن عدی کچھ لوگوں کے ساتھ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو رسول اللہ ﷺ کے خادم تھے۔ انھوں نے ان سے حجاج بن یوسف ثقفی کی شکایت کی، جو اموی خلفا کا گورنر تھا، وہ بہت ہی جابر اور سر کش تھا اور ظلم و خون ریزی میں مشہور تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے انھیں حکمرانوں کے ظلم پر صبر کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ لوگوں پر آنے والا ہر زمانہ اپنے سے پہلے والے زمانے سے بد تر ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملیں۔ مزید بتایا کہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ یہاں شر سے مراد مطلق شر نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض جگہوں پر تو یہ شر ہو گا اور بعض دوسری جگہوں پر خیر ہو گا۔

حوالہ

- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. - شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. - صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
امام کے خلاف بغاوت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com