عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ، فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے ہوئے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہيں لیتا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو کہتا ہے : تم نے رات بتانے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے اللہ کا نام لینے کا حکم دیا ہے۔ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہتا ہے، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ تمھارے لیے اس گھر میں رات گزارنے کی جگہ اور رات کے کھانے کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ گھر کے مالک نے تم سے اللہ کی پناہ لے لی ہے۔ اس کے برخلاف جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں ان کے رات گزارنے اور کھانے کا انتظام ہو گیا ہے۔
فوائد
- گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لینا مستحب ہے۔ کیوں کہ اللہ کا نام نہ لینے کی صورت میں شیطان گھر میں رات گزارتا ہے اور کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔
- شیطان انسان کے ہر کام کو دھیان سے دیکھتا رہتا ہے اور جیسے ہی انسان اللہ کے نام سے غافل ہوتا ہے، اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔
- اللہ کا ذکر شیطان کو بھگانے کا کام کرتا ہے۔
- ہر شیطان کے کچھ پیروکار اور معاونین ہوتے ہیں، جو اس کی بات سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
حوالہ
صحيح مسلم (3/ 1598) (2018).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 50).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص467).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 190).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 700).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضيَ اللهُ عنهما أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ».
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:«اللَّهُم لَكَ أسْلَمْتُ وبِكَ آمنْتُ، وعليكَ توَكَّلْتُ، وإلَيكَ أنَبْتُ، وبِكَ خاصَمْتُ. اللَّهمَّ أعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لا إلَه إلاَّ أنْتَ أنْ تُضِلَّنِي أنْت الْحيُّ الَّذي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يمُوتُونَ»۔
ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکایا، تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا۔ میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیسرے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، یہ کہ تو مجھے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دے، تو زندہ ہے، تجھے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جن و انس مر جائیں گے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ دعا میں اپنے رب کی پناہ اور اس کے قرب میں آ رہے ہیں۔ آپ ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے رب کے مطیع وفرماں بردار ہیں اور آپ نے اپنے سارے امور اللہ کو سونپ دیے ہیں اور اس کے علاوہ آپ کو کسی پر بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے دل و جان کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آئے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ ہی کی دی گئی قوت، اس کی مدد و نصرت اور آپ ﷺ کو جو دلائل اور حجتیں دی گئی تھیں ان سے آپ ﷺ نے اس کے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔پھر نبی ﷺ اللہ کی غالبیت اور قوت کی پناہ لیتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ یہ نہ ہو کہ وہ ہدایت و راستگی کی توفیق نہ دے کر آپ ﷺ کو ہلاک کردے۔ ’’لا إله إلا أنت‘‘ کہہ کر آپ ﷺ اس کی مزید تاکید فرما رہے ہیں کہ پناہ صرف اللہ ہی سے طلب کی جاتی ہے۔ پھر نبی ﷺ بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے رب کی زندگی حقیقی زندگی ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی جب کہ انسان اور جنات مر جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے بطور خاص انہیں ذکر کیا کیونکہ وہی مکلف ہیں اور احکامِ دین کی تبلیغ بھی انہیں کو مقصود ہے۔ گویا کہ وہ اصل ہوئے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 117) (7383).
صحيح مسلم (4/ 2086) (2717).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص72).
فتح رب البرية بتلخيص الحموية، لابن عثيمين (ص79).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 109).
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، عبيد الله المباركفوري (8/ 223).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : «ألِظُّوا بـ (يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ)».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ (اپنی دعاؤں میں) کثرت کے ساتھ ”يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ“ پڑھتے رہا کرو۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث میں ”ألِظُّوْا“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے جس کا معنی ہے پابندی اور کثرت کے ساتھ یہ دعا مانگو۔ مراد یہ ہے کہ اپنی دعا میں ہمیشہ یہ الفاظ کہو اور انہیں اپنی زبان پر جاری رکھو۔
ان الفاظ میں اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسم اعظم ہے کیونکہ وہ ربوبیت اور الوہیت سے متعلق تمام صفات پر مشتمل ہے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى، 1430ه.
سنن الترمذي - محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض - شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «وَاللهِ إني لأَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إليهِ في اليومِ أَكْثَرَ من سَبْعِينَ مَرَّةً».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ جن کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیے گئے ہیں، قسم کھا کر بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتے ہیں۔ نبیﷺ کے استغفار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپﷺ نے یہ استغفار ان گناہوں پر کیا ہے جو کہ آپﷺ سے سرزد ہوئے ہیں بلکہ آپﷺ کا استغفار کرنا آپﷺ کی کمالِ بندگی، اللہ سبحانہ وتعالی کے ذکر سے آپﷺ کی وابستگی، اللہ تعالی کے عظیم حق کا احساس اور بندے کا اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں شکر بجالانے سے عاجز ہونے خواہ وہ کتنا بھی عمل کرلے، آپنی امت کو استغفار کرنے کا حکم دینے وغیرہ جیسی حکمتوں پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ
-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
-شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى1418هـ.
-صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن الْأَغَرِّ رضي الله عنه، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ».
اغر رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ دن میں سو بار سے زیادہ اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتے ہيں۔ جب کہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف تھے۔ یہ دراصل اللہ کے حضور بندگی اور عاجزی کے اظہار کا کمال تھا۔
فوائد
- ہر شخص کو، چاہے اس کا ایمان جتنا بھی مضبوط ہو، اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنے اور توبہ کے ذریعے اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص سے اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو"۔
- توبہ کا یہ حکم عام ہے۔ توبہ چاہے حرام کاموں اور گناہوں کے ارتکاب سے ہو یا واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی سے۔
- توبہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ چنانچہ غیر اللہ کے لیے کوئی گناہ ترک کرنے والا تائب نہیں کہلائے گا۔
- نووی کہتے ہيں: توبہ کی تین شرطیں ہیں : 1- گناہ سے باز آنا۔ 2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم وشرمندہ ہونا۔ 3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔ مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق تک لوٹانا یا پھر صاحب حق سے معافی وتلافی کرانا ضروری ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ آپ گناہوں کے ارتکاب پر ہی استغفار کرتے تھے، بلکہ کمال عبودیت پر فائز ہونے، اللہ پاک کے ذکر میں مصرورف رہنے، اللہ کے عظیم حق کا احساس رکھنے اور اس کوتاہی کا ادراک رکھنے کی وجہ سے کیا کرتے تھے جو بندے سے صادر ہوجایا کرتی ہے، گرچہ وہ اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بھی شکر ادا کر لے۔ اس کا مقصد اپنے بعد اپنی امت کے لیے اس عمل کو مشروع قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2075) (2702).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 33).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 97).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 52).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! میرے تمام چھوٹے اور بڑے، اگلے اور پچھلے، علانیہ اور پوشیدہ گناہ معاف فرما دے۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سجدے میں یہ دعا کرتے تھے: "اللهم اغفر لي ذنبي" یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے، درگزر اور چسم پوشی فرما۔ "كله" سارے گناہ۔ یعنی "دِقّه" چھوٹے اور معمولی گناہ۔ "وجِلّه" بڑے اور زیادہ گناہ۔ "وأوله" پہلا گناہ۔ "وآخره" آخری گناہ اور درمیان کے تمام گناہ۔ "علانيته وسره" علانیہ اور پوشیدہ گناہ، جنھیں تیرے سوا کوئی نہيں جانتا۔
فوائد
- ابن قیم کہتے ہيں: چھوٹے اور بڑے، معمولی اور غیر معمولی، پہلے اور بعد کے اور چھپے اور علانیہ تمام گناہوں سے، عموم اور شمول کے ساتھ مغفرت طلب اس لیے کی گئی ہے، تاکہ تمام گناہوں سے توبہ ہو جائے۔ بندہ جنھیں جانتا ہے ان سے بھی اور جنھیں نہیں جانتا ہے ان سے بھی۔
- کسی نے کہا ہے: آپ نے 'الجِلّ' سے پہلے 'الدِّق' کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ مانگنے والا مانگتے وقت درجہ بہ درجہ آگے بڑھتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ عام طور پر صغیرہ گناہوں پر اصرار اور ان کے بارے میں لاپرواہی کے نتیجے میں سامنے آتے ہيں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کے وسائل ہیں اور وسائل کا ذکر پہلے ہونا چاہیے۔
- عاجزی وانکساری اختیار کرکے اللہ سے چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے مغفرت طلب کرنی چاہیے۔
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں باربار دعا کرنے اور بہ کثرت دعا کے الفاظ استعمال کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اگرچہ دعا کے بعض الفاظ بعض سے بے نیاز کرتے ہوں۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 350) (483).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 506).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص780).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 509).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 111).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 979).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يكون من آخر ما يقول بين التشهد والتسليم: «اللهم اغفر لي ما قَدَّمتُ وما أخَّرْتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسْرَفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم، وأنت المؤخر، لا إله إلا أنت».
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے ليے کھڑے ہوتے تو تشہد اور سلام کے مابین آخر میں یہ کلمات پڑھتے تھے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ أَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما دے جو میں نے پہلے کیے اور وہ بھی جو بعد میں کیے، جو چھپ کر کیے اور جو علانیہ کیے اور جو میں نے زیادتی کی اور وہ گناہ جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی (برحق) معبود نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اللہ کے رسول ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تشہد وسلام کے درمیان سب سے آخر میں یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما دے جو میں نے پہلے کیے۔ ”وَمَا أَخَّرْتُ“ اور وہ بھی جو مجھ سے عمل میں کوتاہی ہوئی ہے۔ یعنی جو بھی مجھ سے گناہ کرکے زیادتی اور عمل سے کوتاہی سرزد ہوئی ہے ان سب کو معاف فرما۔ ”وَمَا أَسْرَرْتُ“ اور جو گناہ جو چھپ کر کیے ”وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ“ اور جو علانیہ کیے اور جو میں نے حد سے تجاوز کیا۔ يہاں مختلف انواع کے گناہوں اورنا فرمانيوں کو ذکر کرکے بخشش طلب کرنے ميں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے۔ ”وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي“ اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جن کو تو مجھ سےزيادہ جانتا ہے اورمیں ان کی تعداد اورحکم کو نہیں جانتا۔ ”أَنْتَ الْمُقَدِّمُ“ تو ہی آگے کرنے والا ہے يعنی بعض بندوں کو اطاعت کی توفيق دے کر۔ ”وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ“ اور تو ہی پيچھے کرنے والا ہے یعنی بعض بندوں کو ان کی مدد نہ کرکے۔ يا جسے تو چاہے اس کے درجات بلند کرکے اسے آگے کرنے والا ہے اور جسے تو چاہےاسے بلند امور سے پستی کی طرف گراکر پيچھے کرنے والا ہے،”لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ تيرے سوا کوئی معبود برحق نہيں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف: سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير- دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف ملا علي القاري، تحقيق صدقي العطار، دار الفكر، بيروت، الطبعة الأولى، 1412هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ سَعْدٍ رضي الله عنها قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُولُهُ، قَالَ: «قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» قَالَ: فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّي، فَمَا لِي؟ قَالَ: «قُلْ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي».
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایسا کلام سکھائیے، جسے میں پڑھتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: "یہ کہا کرو: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔“ (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت اللہ ہی سے مل سکتی ہے، جو غالب حکمت والا ہے) اس شخص نے کہا : ان سب کلمات کا تعلق تو میرے رب سے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "یہ کہو: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي“ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما)"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
دیہات سے آئے ہوئے ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ انھیں ایک ذکر سکھا دیں، جسے وہ پڑھا کریں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا: تم کہو : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له" آپ نے آغاز توحید کی گواہی سے کیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "الله أكبر كبيرًا" یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا اور عظیم ہے۔ "والحمد لله كثيرًا" یعنی اللہ کی بہت زیادہ تعریف ہے، اس کی صفات وافعال اور اس کى بے شمار نعمتوں پر۔ "سبحان الله رب العالمين" یعنی اللہ تعالى ہر طرح کی کمی سے پاک اور منزہ ہے۔ "لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم" یعنی ایک حال سے دوسرے حال میں جانا اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر ممکن نہيں ہے۔ اس شخص نے کہا : یہ کلمات میرے رب کے لیے ہیں۔ یعنی اس کے ذکر اور تعظیم کے لیے ہیں۔ میں اپنے لیے دعا کن الفاظ میں کروں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا : تم کہو : "اللهم اغفر لي" یعنی میرے گناہوں کو مٹا دے اور ان پر پردہ ڈال دے۔ "وارحمني" یعنی میرے دینی اور دنیوی مصالح اور منافع کو بہم پہونچا کر مجھ پر رحم کر۔ "واهدني" یعنی بہتر احوال اور صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی فرما۔ "وارزقني" یعنی مجھے حلال مال، صحت اور ہر خیر و عافیت سے نواز۔
فوائد
- تہلیل، تکبیر، تحمید اور تسبیح کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔
- دعا سے پہلے اللہ کا ذکر اور اس کی تعریف کرنا مستحب ہے۔
- مستحب یہ ہے کہ انسان بہترین دعاؤں کے ذریعے اللہ سے دعا مانگے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ایسی جامع دعاؤں کا انتخاب کرے جو دنیا اور آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہوں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو دعا چاہے، کرے۔
- بندے کو ایسی چيزیں سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، جو دنیا اور آخرت میں اس کے حق میں مفید ہوں۔
- مغفرت، رحمت اور روزی طلب کرنے کی ترغیب۔ کیوں کہ یہ خیر کے سرچشمے ہیں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ کی جانب سے اس بات کی کوشش کہ امت کو ایسی باتیں سکھائی جائيں، جو اس کے حق میں مفید ہوں۔
- رحمت کا ذکر مغفرت کے بعد اس لیے ہوا ہے کہ تطہیر کا کام مکمل طور پر ہو سکے۔ کیوں کہ مغفرت گناہوں پر پردہ ڈال دیے جانے، ان کو مٹا دیے جانے اور جہنم سے بچا لیے جانے کا نام ہے، جب کہ رحمت مختلف طرح کی خیر سے بہرہ ور کیے جانے اور جنت میں داخلے کی سعادت عطا ہونے کا نام ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2072) (2696).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 498).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 972).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (4/ 1606).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com