اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سجدے میں یہ دعا کرتے تھے: "اللهم اغفر لي ذنبي" یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے، درگزر اور چسم پوشی فرما۔ "كله" سارے گناہ۔ یعنی "دِقّه" چھوٹے اور معمولی گناہ۔ "وجِلّه" بڑے اور زیادہ گناہ۔ "وأوله" پہلا گناہ۔ "وآخره" آخری گناہ اور درمیان کے تمام گناہ۔ "علانيته وسره" علانیہ اور پوشیدہ گناہ، جنھیں تیرے سوا کوئی نہيں جانتا۔
- ابن قیم کہتے ہيں: چھوٹے اور بڑے، معمولی اور غیر معمولی، پہلے اور بعد کے اور چھپے اور علانیہ تمام گناہوں سے، عموم اور شمول کے ساتھ مغفرت طلب اس لیے کی گئی ہے، تاکہ تمام گناہوں سے توبہ ہو جائے۔ بندہ جنھیں جانتا ہے ان سے بھی اور جنھیں نہیں جانتا ہے ان سے بھی۔
- کسی نے کہا ہے: آپ نے 'الجِلّ' سے پہلے 'الدِّق' کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ مانگنے والا مانگتے وقت درجہ بہ درجہ آگے بڑھتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ عام طور پر صغیرہ گناہوں پر اصرار اور ان کے بارے میں لاپرواہی کے نتیجے میں سامنے آتے ہيں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کے وسائل ہیں اور وسائل کا ذکر پہلے ہونا چاہیے۔
- عاجزی وانکساری اختیار کرکے اللہ سے چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے مغفرت طلب کرنی چاہیے۔
- نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں باربار دعا کرنے اور بہ کثرت دعا کے الفاظ استعمال کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اگرچہ دعا کے بعض الفاظ بعض سے بے نیاز کرتے ہوں۔
صحيح مسلم (1/ 350) (483). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 506). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص780). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 509). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 111). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 979).