اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «وَاللهِ إني لأَسْتَغْفِرُ اللهَ وأَتُوبُ إليهِ في اليومِ أَكْثَرَ من سَبْعِينَ مَرَّةً».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ جن کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیے گئے ہیں، قسم کھا کر بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتے ہیں۔ نبیﷺ کے استغفار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپﷺ نے یہ استغفار ان گناہوں پر کیا ہے جو کہ آپﷺ سے سرزد ہوئے ہیں بلکہ آپﷺ کا استغفار کرنا آپﷺ کی کمالِ بندگی، اللہ سبحانہ وتعالی کے ذکر سے آپﷺ کی وابستگی، اللہ تعالی کے عظیم حق کا احساس اور بندے کا اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں شکر بجالانے سے عاجز ہونے خواہ وہ کتنا بھی عمل کرلے، آپنی امت کو استغفار کرنے کا حکم دینے وغیرہ جیسی حکمتوں پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ
-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
-شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى1418هـ.
-صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com