عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ القَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جو شخص کسی ایسی عورت کی دیکھ بھال کرے، جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو، اسی طرح کسی ضرورت مند غریب کی مدد کے لیے آگے آئے اور اس طرح کے لوگوں پر اس یقین کے ساتھ اپنا مال خرچ کرے کہ اس کا بدلہ اللہ کے یہاں ملنے والا ہے، تو وہ اجر و ثواب کے معاملے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا تھکے بغیر تہجد کی نماز پڑھنے والے اور بلاناغہ لگاتار روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
فوائد
- ایک دوسرے کی مدد کرنے، ایک دوسرے کی ذمے داریاں اٹھانے اور کمزور لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی ترغیب۔
- عبادت کے اندر ہر اچھا کام شامل ہے۔ بیواؤں اور مسکینوں کی مدد کرنا بھی عبادت ہے۔
- ابن ہبیرہ کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے ایک ساتھ روزہ رکھنے والے، تہجد پڑھنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا اجر عطا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بیواؤں کی ان کے شوہر کی طرح دیکھ بھال کی، اپنے خرچ چلانے کی طاقت نہ رکھنے والے غریبوں پر اپنا بچا ہوا مال خرچ کیا اور اپنی محنت سے کمائے ہوئے مال کا صدقہ کیا، اس لیے اس کا نفع روزے، تہجد اور اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 62) (5353).
صحيح مسلم (4/ 2286) (2982).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم بن عيد الهلالي (1/ 351).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك (ص198).
رياض الصالحين (ص107) (265).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 99).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (275).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ ثَوْبَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ، دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ.
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خرچ کرنے کی کچھ صورتیں بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ جب خرچ کرنے کے کئی مقامات آپس میں ٹکرانے لگیں، تو جو جتنا زیادہ اہم ہو، آغاز میں اسے اتنی فوقیت دی جانے چاہیے۔ آپ نے بتایا کہ ایک مسلمان کے ذریعے خرچ کیا گیا سب سے زیادہ ثواب والا مال وہ ہے، جسے وہ ان لوگوں پر خرچ کرے، جن کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ جیسے بیوی بچے وغیرہ۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے تیار کردہ سواری پر خرچ کیے گئے مال کا۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اپنے دوستوں اور ساتھیوں پر خرچ کرنے کا، جو اللہ کی راہ میں جنگ کر رہے ہوں۔
فوائد
- فضیلت کے معاملے میں خرچ کرنے کی ترتیب وہی ہے، جو اس حدیث میں مذکور ہے۔ ٹکراؤ کی حالت میں اس ترتیب کا خیال رکھا جائے گا۔
- اہل و عیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے کی مقابلے میں زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔
- اللہ کی راہ میں جہاد پر، جیسے ہتھیاروں اور مجاہدوں کو تیار کرنے میں کیا جانے والا خرچ، خرچ کرنے کی عظیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔
- کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سبیل اللہ (اللہ کی راہ) سے مراد ہر نیکی کا کام ہے جیسے حج وغیرہ ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (2/ 691) (994).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 315).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 156).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 291).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 374).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ -أَوِ الْمُؤْمِنُ- فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ -أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ-، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ -أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ-، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ -أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ- حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ».
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی مومن، یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔ جب وہ ہاتھ دھوتا ہے، تو جیسے ہی ہاتھوں سے پانی کے قطرے گرتے ہیں یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے ہاتھوں سے کیے تھے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو جیسے ہی اس کے پاؤں سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنے پاؤں سے کیے تھے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
شرعی وضو میں چار اعضا کو پاک وصاف کیاجاتاہے۔ چہرہ ، دونوں ہاتھ ، سر اور دونوں پاؤں۔
یہ صفائی حسی بھی ہوتی ہے اور معنوی بھی۔
اس کا حسی ہونا تو ظاہر ہے۔ کیوںکہ اس میں انسان اپنا چہرہ، دونوں ہاتھ، اور دونوں پاوں دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتاہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سر کو بھی اسی طرح دھویا جاتا، جیسے بقیہ اعضا کو دھویا جاتاہے، لیکن اللہ تعالی نے سر کے معاملے میں تخفیف فرما دی۔ کیوںکہ سر میں بال ہوتے ہیں اور یہ بدن کا سب سے اوپر والا حصہ ہے۔ چنانچہ اگر سر کو دھویا جاتا، خاص طور پر جب کہ اس میں بال بھی ہوں، تو اس میں لوگوں کے لیے مشقت ہوتی، خصوصا سردی کے دنوں میں ۔ لیکن یہ اللہ عزوجل کی رحمت ہے کہ اس نے سر کے معاملے میں صرف مسح کرنا فرض کیا۔ جب انسان وضو کرتاہے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اعضا وضو کو حسی طور پر صاف کرتاہے ۔ یہ اسلام کی اکملیت پر دلیل ہے کہ اس کے ماننے والوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ ان اعضا کو صاف کریں جو اکثر ظاہر اور کھلے رہتے ہیں ۔ اور طہارت معنویہ سے مراد ایک مسلمان بندے کا گناہوں سے پاکی حاصل کرنے کا عمل ہے۔ جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو وہ سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جن کا ارتکاب آنکھوں سے ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں آنکھ کا ذکر _واللہ اعلم_ بطور تمثیل ہے۔ ورنہ ناک سے بھی خطا ہوتی ہے، منہ سے بھی خطا ہوتی ہے؛ انسان ایسی باتیں کر لیتا ہے، جو حرام ہیں، ایسی چیزیں سونگھ لیتا ہے، جنھیں سونگھنے کا اسے حق نہیں ہوتا، لیکن آنکھ کا ذکر بطور خاص اس لیے ہواہے کہ اکثر گناہ آنکھ سے ہی سر زد ہوتے ہیں۔ اور اس حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے۔ جب کہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ ضروری ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 215) (244).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 108).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 181).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 208).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 157).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے، جب تک مؤمن نہ بن جاؤ اور مؤمن اس وقت تک نہيں بس سکتے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں، جسے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ اپنے درمیان سلام عام کرو۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جنت میں بس ایمان والے ہی داخل ہوں گے، جب کہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا اور مسلم سماج کا حال اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگ ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے محبت عام کرنے کا سب سے افضل طریقہ بتایا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان سلام عام کیا جائے۔
فوائد
- جنت میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ایمان ضروری ہے۔
- کمال ایمان میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
- سلام عام کرنا اور مسلمانوں کو سلام دینا مستحب ہے۔ کیوں کہ اس سے لوگوں کے درمیان محبت اور امن و شانتی پھیلتی ہے۔
- سلام صرف مسلمان ہی کو دیا جائے گا۔ کیوں کہ حدیث میں "تمھارے درمیان" کے الفاظ آئے ہیں۔
- سلام کرنے سے قطع تعلق، قطع کلامی اور کدورت جیسی چیزیں ختم ہو جاتی ہيں۔
- مسلمانوں کے درمیان آپسی محبت کی اہمیت اور اس کا ایمان کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہونا۔
- ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ سلام کے مکمل الفاظ "السلام عليكم ورحمة الله وبركاته" ہیں۔ حالاں کہ "السلام عليكم" کہہ دینا بھی کافی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 74) (54).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 129).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص515).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 394).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 661).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قتل وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فله كذا وكذا حسنة، ومن قتلها في الضَّرْبَةِ الثانية فله كذا وكذا حسنة دون الأولى، وإن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة». وفي رواية: «من قتل وَزَغًا في أول ضربة كتب له مائة حسنة، وفي الثانية دون ذلك، وفي الثالثة دون ذلك».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا، اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں؛ مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا, تو اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا, اس کےلیے سو نیکیاں ہیں، دوسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں اور تیسری ضرب میں مارنے میں اس سے کم نیکیاں ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے پر ابھارا اور اس کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا، اس کے لئے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اس سے کچھ کم نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جس نے اسے تیسری ضرب میں مارا، اسے اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔ اس کے مارنے میں حکمت یہ ہے کہ یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی، اور یہ کہ یہ زہریلی اور نقصان پہنچانے والی ہے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1418ه
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى1430ه
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي سعيد الخُدْرِي رضي الله عنه قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ذهب الرجال بِحَدِيثِكَ، فاجْعَل لنَا من نَفْسِك يومًا نَأتِيكَ فيه تُعَلِّمُنَا مما عَلَّمَكَ الله، قال: «اجْتَمِعْنَ يَوَم كَذَا وكَذَا» فَاجْتَمَعْنَ، فأتَاهُنَّ النبي صلى الله عليه وسلم فَعَلَّمَهُنَّ مما عَلَّمَهُ الله، ثم قال: «ما مِنْكُنَّ من امرأة تُقَدِّمُ ثَلاَثَة من الولد إلا كانوا حِجَابًا من النَّارِ» فقالت امرأة: واثنين؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «واثنين».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی باتیں تو مرد حضرات ہی لے گئے، لہذا آپ اپنی طرف سے ایک دن ہمارے ليے بھی مقرر کر دیں، اس دن ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ ہميں ان باتوں کی تعلیم دیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم فلاں فلاں دن جمع ہو جاؤ۔ پس وہ جمع ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلائی تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو بھی عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے (یعنی وہ فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائيں گے۔ ایک عورت نے کہا: اور دوبچوں کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایک عورت نے نبی کريم ﷺ سےعرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مرد حضرات آپ کاسارا وقت لے ليتے ہيں اور ہميں آپ سے ملاقات کر نے اور دين کے متعلق کچھ دريافت کرنے کا وقت ہی نہيں ملتا ہےکيونکہ وہ لوگ دن بھر آپ کے ساتھ رہتے ہيں۔ لہذا آپ ہم عورتوں کے لیےکوئی خاص دن مقرر کر دیں جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تاکہ آپ ہميں دين کی باتيں سکھلائيں۔ آپ ﷺ نے عورتوں کے اجتماع کے لیے ايک دن خاص کرديا، پس وہ خواتين اس مخصوص دن ميں جمع ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اورآپ ﷺ نے انہیں اللہ کی سکھلائي ہوئي بعض ان باتوں کی تعلیم دی جن کی وہ ضرورت مند تھيں، پھر آپ ﷺ نے انہيں خوشخبري دی کہ ان ميں سے جس بھي عورت کے تين لڑکے يا تين لڑ کيوں کا انتقال ہو جاتا ہے اور وہ عورت صبر واحتساب کے ساتھ انہيں دار آخرت کے ليے پہلے بھيج ديتي ہے تو اس خاتون کي يہ مصيبت اس کے ليے جہنم سے نجات کا ذريعہ بن جائے گی، اگر چہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہی کيوں نہ رہی ہو۔ اس پر ایک عورت نے کہا: اگر اس کے دو بچوں کی وفات ہوئی ہو، تو کيا اس کے ليے بھی وہی اجر وثواب ہے جو اس عورت کے ليے ہے جس کے تين بچوں کی وفات ہوجائے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اور اسي طرح اگر کسي عورت کے دو بچے انتقال کرجائيں، تو اس کے ليے بھی وہی اجر وثواب ہے جو اس عورت کے ليے ہے جس کے تين بچے انتقال کرجائيں۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426هـ.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَمُوتُ لأحَدٍ من المسلمين ثلاثة من الوَلَد فتَمسُّه النَّار إلا تَحِلَّة القَسَم».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، مگر قسم پوری کرنے کے لیے آگ پر سے گزرے گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں، تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آگ پر حرام کردے گا، جبکہ وہ صبر سے کام لے، ثواب کی امید رکھے اور اللہ کی قضا و قدر پر راضی برضا رہے۔اسے صرف اس قدر آگ چھوئے گی جس سے اللہ تعالی اپنی قسم کو پورا کرے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ ”تم میں سے ہر شخص کو اس (جہنم) پر سے گزرنا ہوگا“۔
حوالہ
- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- سنن أبي داود، لأبي داود السجستاني، تحقيق محمد محيي الدين، المكتبة العصرية.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ، فَمُوجِبَتَانِ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ، فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ: فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ، وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ: فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ، وَيَعْلَمَهَا اللهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً، كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ، وَأَمَّا النَّاسُ، فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».
خُرَیم بن فاتِک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک عمل کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اور ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ جہاں تک واجب کردینے والے اعمال کی بات ہے تو وہ یہ ہیں : جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ جس عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے وہ یہ ہے : جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے یہاں تک کہ اس کا دل اس نیکی کو محسوس کرنے لگے اور اللہ اس کے ارادہ کو دیکھ لے، تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں وہ برائی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جو شخص نیکی کرے تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا اجر وثواب ملتا ہے۔ جہاں تک لوگوں کی بات ہے تو کسی کو دنیا میں کشادگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں تنگی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں فراخی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی تنگی ملے گی، جب کہ کسی کو دنیا میں فراخی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی فراخی ملے گی"۔
رواه أحمددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اعمال کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ چھ قسم کے اعمال یہ ہیں:
پہلی قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
دوسری قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو اس پر جہنم واجب ہوجاتی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
یہ دونوں عمل واجب کردینے والے ہیں۔
تیسری قسم: نیت پر مبنی نیکی۔ جو شخص کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اپنی نیت میں سچا ہو، یہاں تک کہ اپنے دل میں اس نیت کو محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی اس کی اس نیت کو دیکھ لے۔ پھر کسی پیش آمدہ سبب کی بنا پر وہ اس نیکی کو انجام دینے سے قاصر رہے، تو اس کے حق میں پورے طور پر وہ نیکی لکھ دی جاتی ہے-
چوتھی قسم: انجام کردہ گناہ۔ جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔
ان دونوں عمل کا بدلہ ان کے برابر ملتا ہے۔ بغیر کسی اضافہ کے۔
پانچویں قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ یہ اس شخص کے حق میں ہوتا ہے جو کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اسے انجام بھی دے دے۔ اس کے حق میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
چھٹی قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں کوئی مال خرچ کرے، تو اس کے حق میں اس نیکی کے بدلے سات سو گنا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک وتعالی کا خاص فضل واحسان ہے۔
جہاں تک لوگوں کی چار قسموں کی بات ہے، تو وہ یہ ہیں:
پہلی قسم: وہ شخص جسے دنیا میں کشادہ رزق ملتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا کے اندر ناز ونعم کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی ساری خواہشات پوری کرتا ہے، لیکن آخرت میں اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اس سے مال دار کافر مراد ہے۔
دوسری قسم: وہ شخص جسے دنیا میں رزق کی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن آخرت میں اسے فراخی ہی فراخی ملے گی اور اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ اس سے مراد فقیر مؤمن ہے۔
تیسری قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ تنگی ہی تنگی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد فقیر کافر ہے۔
چوتھی قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ فراخی ہی فراخی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد مال دار مؤمن ہے۔
فوائد
- بندوں پر اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل واحسان ہے کہ وہ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
- اللہ تعالی کا یہ عدل اور اس کا کرم ہے کہ وہ گناہ کرنے پر ہمارے ساتھ عدل کا معاملہ کرتا ہے اور ہر برائی پر صرف ایک گناہ درج کرتا ہے۔
- اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اس سے اللہ کے کلمہ (توحید) کو بلند کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- لوگوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان کے اندر جو عملی اختلاف پایا جاتا ہے، اس کی وضاحت۔
- دنیا میں مؤمن اور غیر مؤمن ہر کسی کو فراخی ملتی ہے، لیکن آخرت میں صرف مؤمن کو ہی فراخی وکشادگی ملے گی۔
حوالہ
مسند أحمد (31/ 196) (18900)، (31/ 384)، الفتح الرباني لترتيب مسند أحمد بن حنبل الشيباني (19/198).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com