سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالمِسْكِينِ، كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ القَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے یا رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جو شخص کسی ایسی عورت کی دیکھ بھال کرے، جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو، اسی طرح کسی ضرورت مند غریب کی مدد کے لیے آگے آئے اور اس طرح کے لوگوں پر اس یقین کے ساتھ اپنا مال خرچ کرے کہ اس کا بدلہ اللہ کے یہاں ملنے والا ہے، تو وہ اجر و ثواب کے معاملے میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا تھکے بغیر تہجد کی نماز پڑھنے والے اور بلاناغہ لگاتار روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔

فوائد
  1. ایک دوسرے کی مدد کرنے، ایک دوسرے کی ذمے داریاں اٹھانے اور کمزور لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی ترغیب۔
  2. عبادت کے اندر ہر اچھا کام شامل ہے۔ بیواؤں اور مسکینوں کی مدد کرنا بھی عبادت ہے۔
  3. ابن ہبیرہ کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے ایک ساتھ روزہ رکھنے والے، تہجد پڑھنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا اجر عطا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بیواؤں کی ان کے شوہر کی طرح دیکھ بھال کی، اپنے خرچ چلانے کی طاقت نہ رکھنے والے غریبوں پر اپنا بچا ہوا مال خرچ کیا اور اپنی محنت سے کمائے ہوئے مال کا صدقہ کیا، اس لیے اس کا نفع روزے، تہجد اور اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر ہوگا۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 62) (5353). صحيح مسلم (4/ 2286) (2982). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم بن عيد الهلالي (1/ 351). تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك (ص198). رياض الصالحين (ص107) (265). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 99). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (275).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اعضاء کے اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com