سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

والدین کی فرماں برداری کے فضائل

10 احادیث

تم لوٹ جاؤ اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: أقبَلَ رجل إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: أُبَايِعُكَ على الهجرة والجهاد أَبْتَغِي الأجر من الله تعالى قال: «فَهَل لَكَ من وَالِدَيك أحد حيٌّ؟» قال: نعم، بل كلاهما، قال: «فتبتغي الأجر من الله تعالى؟» قال: نعم، قال: «فَارْجِع إلى وَالِدَيك، فَأَحْسِن صُحْبَتَهُمَا». وفي رواية لهما: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فاستأذنه في الجهاد، فقال: «أَحَيٌّ والداك؟»، قال: نعم، قال: «فَفِيهِمَا فجاهد».
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کے لیے بیعت کرتا ہوں اور اللہ سے اس کا اجر چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم واقعی ﷲ سے (اپنی ہجرت اور جہاد کا) بدلہ چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ جی ہاں (میں اللہ سے اجر چاہتا ہوں)، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ تم لوٹ جاؤ، اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ بخاری ومسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آکر آپ ﷺ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت چاہی۔ آپ نے پوچھا : کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اللہ کی راہ میں جہاد اور ہجرت کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگا۔ یہ شخص اپنے پیچھے اپنے والدین کو چھوڑ کر آیا تھا ۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ "وہ رو رہے تھے " اس اندیشے کی وجہ سے کہ وہ مارا جائے گا۔ (یہ شخص گویا آپ ﷺ سے اپنے اس فعل کی تصدیق چاہتا تھا)۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے مزید پوچھا: کیا تم واقعی اللہ تعالی سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اپنے والدین کے پاس لوٹ جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ان کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں اسی طرح ہنساؤ جس طرح سے تم نے انہیں رلایا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے اس کام کی طرف لوٹا دیا جس کا کرنا اس کے لیے زیادہ لائق اور زیادہ ضروری تھا۔ یعنی والدین کے پاس جا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ اس سے مراد ان کی خدمت ، رضا جوئی اور فرماں برداری میں جد وجہد کرنا ہے ۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔ اس حدیث میں یہ صراحت ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر عمل ہے ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نماز۔ اس نے پوچھا : اس کے بعد کون سا عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد۔ وہ کہنے لگا کہ میرے تو والدین ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ اس حدیث کو ابن حبان نے ذکر کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہے ۔ ماسوا اس وقت کے جب جہاد فرض عین ہوجائے کیونکہ فرض ہونے کی وجہ سے اسے والدین کی فرماں برداری پر مقدم رکھا جائے گا۔

حوالہ

منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، المؤلف: حمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية،عام النشر: 1410هـ - 1990م. بهجة الناظرين، لسليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سيعد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى،1397هـ - 1977م، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. دليل الفالحين، محمد بن علان، دار الكتاب العربي. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح البخاري، محمد بن اسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن کا امدادی لشکر آتا تو آپ رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے کہ :کیا تمھارے اندر اویس بن عامر ہیں؟

عن أُسَير بن عمرو، ويقال: ابن جابر قال: كَانَ عُمر بن الخطاب رضي الله عنه إِذَا أَتَى عَلَيه أَمْدَادُ أَهْلِ اليَمَن سَأَلَهُم: أَفِيكُم أُوَيس بنُ عَامِر؟ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيس رضي الله عنه فقال له: أَنْت أُوَيس بنُ عَامِر؟ قال: نَعَم، قال: مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرْنٍ؟ قَالَ: نَعَم، قَال: فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ، فَبَرَأَتَ مِنُه إِلاَّ مَوْضِعّ دِرهَم؟ قال: نعم، قَالَ: لَكَ وَالِدة؟ قال: نعم، قال: سَمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يَأتِي عَلَيكُم أُوَيس بنُ عَامِر مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ اليَمَن مِنْ مُرَاد، ثُمَّ مِنْ قَرْن كَانَ بِهِ بَرَصٌ، فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوضِعَ دِرْهَم، لَهُ وَالِدَة هُوَ بِهَا بَرُّ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى الله لَأَبَرَّه، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ» فَاسْتَغْفِرْ لِي فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقَالَ لَه عُمر: أَيْنَ تُرِيد؟ قَالَ: الكُوفَة، قال: أَلاَ أَكتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلِهَا؟ قال: أَكُون فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ العَام الْمُقْبِل حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِم، فَوَافَقَ عُمَر، فَسَأَلَه عَنْ أُوَيس، فقال: تَرَكْتُهُ رَثَّ البَّيت قَلِيلَ الْمَتَاعِ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يَأْتِي عَلَيكُم أُوَيس بنُ عَامِر مَعَ أَمْدَادٍ مِنْ أَهْلِ اليَمَن مِنْ مُرَاد، ثُمَّ مِنْ قَرْن، كَانَ بِهِ بَرَص فَبَرَأَ مِنْه إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَم، لَهُ وَالِدَة هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلى الله لَأَبَرَّهُ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِر لَكَ، فَافْعَلْ» فَأَتَى أُوَيسًا، فقال: اسْتَغْفِر لِي، قال: أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ، فَاسْتَغْفِرْ لِي، قال: لَقِيتَ عمر؟ قال: نَعَم، فاستغفر له، فَفَطِنَ لَهُ النَّاس، فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْهِهِ. وفي رواية أيضا عن أُسَير بن جابر: أنَّ أَهلَ الكُوفَةِ وَفَدُوا على عمر رضي الله عنه وفيهم رَجُلٌ مِمَّن كان يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ، فقال عمر: هَل هاهُنَا أَحَدٌ مِنَ القَرَنِيِّين؟ فَجَاء ذلك الرجل، فقال عمر: إِنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قَدْ قال: «إِنَّ رَجُلاً يَأْتِيكُم مِنَ اليَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أُوَيْسٌ، لاَ يَدَعُ بِاليَمَنِ غَيرَ أُمٍّ لَهُ، قَد كَان بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا الله تعالى ، فَأَذْهَبَهُ إِلاَّ مَوضِعَ الدِّينَارِ أَو الدِّرْهَمِ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ، فَلْيَسْتَغْفِر لَكُم». وفي رواية له: عن عمر رضي الله عنه قال: إِنِّي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ خَيرَ التَّابِعِين رَجُلٌ يُقَال لَهُ: أُوَيسٌ، وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ، فَمُرُوهُ، فَلْيَسْتَغْفِر لَكُم».
اسیر بن عمرو (انہیں اسیر بن جابر بھی کہا جاتا ہے) کہتے ہیں کہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن کا امدادی لشکر آتا تو عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے کہ :کیا تمھارے اندر اویس بن عامر ہیں؟ یہاں تک کہ( ایک جماعت میں) اویس آگئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ قبیلۂ مراد اور خاندانِ قرن سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو کہ ایک درہم جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہوگئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کی والدہ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرما تے ہوئے سنا ہے کہ: ”تمہارے پاس اویس بن عامر یمن کی کمک کے ساتھ آئیں گے جو قبیلۂ مراد اور خاندانِ قرن سے ہوں گے، ان کو برص کی بیماری تھی، جو ایک درہم جتنی جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہوگئی۔ ان کی والدہ ہیں اور وہ اپنی والدہ کے بڑے فرماں بردار ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا۔ اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کروانا“۔ لھٰذا آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں۔ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کر دی۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ اویس رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: کوفہ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کے لیے وہاں کے گورنر کو لکھ کر نہ دے دوں؟۔ اویس رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: مجھے مسکین لوگوں میں رہنا زیادہ پسند ہے۔ پھر جب آئندہ سال آیا تو کوفہ کے معزز لوگوں میں سے ایک آدمی حج کے لئے آیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے اویس رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ میں اویس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان کا گھر بوسیدہ اور ان کے پاس نہایت کم سامان تھا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ: ”تمہارے پاس اویس بن عامر یمن کی ایک امدادی لشکر کے ساتھ آئیں گے جو کہ قبیلۂ مراد اور خاندانِ قرن سے ہوں گے، ان کو برص کی بیماری تھی، جو اچھی ہوگئی یے مگر ایک درہم جتنی جگہ برص باقی ہے، ان کی والدہ ہیں جن کے وہ بڑے فرماں بردار ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا، اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا“۔ چنانچہ وہ آدمی اویس رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آیا اور ان سے کہا: میرے لئے دعائے مغفرت کردیں۔ اویس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تم ایک نیک سفر سے نئے نئے آئے ہو، لھٰذا تم میرے لئے مغفرت کی دعا کرو۔ اويس رحمۃ اللہ علیہ نے اس آدمی سے پوچھا کہ: کیا تم عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تھے؟ اس آدمی نے کہا: ہاں۔ تو پھر اویس رحمۃ اللہ علیہ نے اس آدمی کے لئے دعائے مغفرت فرما دی۔ اس وقت لوگ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ سمجھے، اور وہ وہاں سے سیدھے چل پڑے۔ اور مسلم ہی کی ايک دوسری روايت میں اسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کوفہ کے لوگ ایک وفد لے کر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آئے۔ اس وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تمسخر کیا کرتا تھا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: کیا یہاں قرنیوں میں سے بھی کوئی ہے؟ چنانچہ وہی آدمی آیا۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”تمہارے پاس یمن سے ایک آدمی آئے گا جسے اویس کہا جاتا ہوگا۔ وہ یمن میں کسی کو نہ چھوڑے گا سوائے اپنی ماں کے، اور اسے برص کی بیماری ہوگئی تھی، اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس سے اس بیماری کو دور فرمادیا مگر ایک دینار یا ایک درہم کے برابر باقی ہے (یعنی ایک دینار یا درہم کے بقدر برص کا داغ باقی رہ گیا ہے) تو تم میں سے جو کوئی بھی اس سے ملاقات کرے وہ اپنے لئے اس سے مغفرت کی دعا کروائے“۔ اور مسلم ہی کی ايک اور روايت میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ”تابعین میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جسے اویس کہا جاتا ہے اس کی ماں (زندہ) ہیں اور اس کے جسم پر سفید داغ تھے۔ تم اس سے کہنا کہ وہ تمھارے لیے مغفرت کی دعا کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب بھی یمن سے مجاہدین کی کوئی امدادی جماعت آتی تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے پوچھتے کہ کیا تم میں کوئی اویس بن عامر ہے؟ یہاں تک کہ ایک جماعت میں اویس رحمہ اللہ آگئے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ قبیلہ مراد سے اور پھر قرن خاندان سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو برص کی بیماری تھی اور آپ کو اس سے شفا مل گئی سوائے ایک درہم جتنی جگہ کے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کی والدہ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے کہ ”تمہارے پاس یمن کے مجاہدین کی ایک جماعت کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے جو کہ قبیلہ مراد اور خاندانِ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری تھی پھر اللہ نے انہیں اس بیماری سے شفا عطا فرمائی صرف درہم کے بقدر باقی ہے، ان کی ایک ماں ہیں اور وہ اپنی والدہ کے بڑے فرماں بردار ہیں، اگر وہ کسی چیز کی حصول یابی کے لیے اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا، اے عمر! اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا“۔ ليکن اس کا يہ معنیٰ نہيں ہے کہ اويس رحمہ اللہ عمر رضی اللہ عنہ سے افضل ہيں اور عمر مغفورين ميں سے نہيں ہيں، اس لئے کہ اس پر لوگوں کا اجماع ہے کہ عمر رضي اللہ عنہ اويس رحمہ اللہ سے افضل ہيں کيوں کہ اویس تابعی ہیں اور صحابی تابعی سے افضل ہوتا ہے، بس اس واقعہ سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ اويس ان لوگوں ميں سے ہيں جن کی دعا قبول ہوتی ہے، اور عمر رضي اللہ عنہ کو زيادہ نيکی کرنے اور ايسے لوگوں سے جن کی دعا قبول ہوتی ہے، ان سے دعا کروانے کی طرف رہنمائی کرنا مقصود ہے۔ اور يہ اسی قبيل سے ہے جس کا حکم آپ ﷺ نے ہم کو ديا ہے کہ ہم آپ ﷺ لیے دعا کريں اور آپ پر درود بھیجيں اور آپ کے لیے اللہ سے وسيلہ کی دعا کريں حالاں کہ آپ ﷺ تمام اولادِ آدم سے افضل ہيں، پھر عمر رضي اللہ عنہ نے ان سے دعا کی درخواست کی کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا فرما دیں، اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کر دی۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ اویس رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: کوفہ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں وہاں کے گورنر کو لکھ دوں کہ بيت المال سے آپ کوکچھ دے ديں جو کہ آپ کے لیے کافی ہو؟ اویس رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ: مجھے مسکین و فقیر لوگوں میں رہنا زیادہ پسند ہے۔ پھر جب آئندہ سال آیا تو کوفہ کے سرداروں میں سے ایک آدمی حج کے لئے آیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے اویس رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں پوچھا، تو وہ آدمی کہنے لگا کہ: میں اویس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان کا گھر معمولی سا اور ان کے پاس نہایت کم سامان تھا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”تمہارے پاس یمن کی ایک جماعت کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے جو کہ قبیلہ مراد اور خاندانِ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری تھی پھر اللہ نے انہیں اس بیماری سے شفا عطا فرمائی بس ایک درہم کے برابر بیماری باقی ہے، ان کی ایک والدہ ہیں اور وہ اپنی والدہ کے بڑے فرماں بردار ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا، عمر! اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا“۔ وہ آدمی اویس رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہنے لگا: میرے لئے دعائے مغفرت کردیں۔ اویس رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تم جلد ہی ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو، تو تم میرے لئے مغفرت کی دعا کرو۔ اویس رحمۃ اللہ علیہ کو يہ احساس ہوا کہ شايد يہ عمر رضي اللہ عنہ سے مل کر آيا ہے، انہوں نے اس آدمی سے پوچھا کہ: کیا تم عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تھے؟ اس آدمی نے کہا: ہاں۔ تو پھر اویس رحمۃ اللہ علیہ نے اس آدمی کے لئے دعائے مغفرت فرما دی۔ پھر لوگوں نے اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے مقام کو جان لیا اور آپ کے پاس دعا کی غرض سے آنے لگے، چنانچہ وہ کوفہ سے نکل کر کسی ايسی جگہ چلے گئے جہاں ان کو کوئی نہيں جانتا تھا۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

باپ سے محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی، بہت بڑی نیکی ہے

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأعرَاب لَقِيهَ بِطَريق مَكَّة، فَسَلَّم عَلَيه عَبد الله بنُ عمر، وَحمَلهُ على حمار كان يركَبُهُ، وَأعطَاه عِمَامَة كَانت على رأسه، قال ابن دينار: فقُلنا له: أَصْلَحَك الله، إنَّهم الأعراب وهُم يَرْضَون بِاليَسِير، فقال عبدُ الله بنَ عُمر: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمر بنِ الخطَّاب رضي الله عنه وإنِّي سَمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ صِلَةُ الرَّجُل أَهْلَ وُدِّ أَبِيه». وفي رواية عن ابن دينار، عن ابن عمر: أنَّه كان إذَا خَرَج إلى مكة كان له حمار يَتَرَوَّحُ عليه إذا ملَّ رُكُوبَ الرَّاحِلة، وَعِمَامة يَشُدُّ بها رأسه، فَبينَا هو يومًا على ذلك الحمار إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِي، فقال: أَلَسْتَ فُلاَن بنَ فُلاَن؟ قال: بَلَى. فَأَعْطَاهُ الحِمَار، فقال: ارْكَب هَذَا، وَأَعْطَاهُ العِمَامَةَ وَقَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ بَعض أصحَابِه: غفر الله لك أَعْطَيت هذا الأعرابي حمارا كنت تَرَوَّحُ عليه، وعِمَامَة كُنتَ تشدُّ بها رأسَك؟ فقال: إِنِّي سمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ البِّر أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدَّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ» وَإِنَّ أَبَاه كان صَدِيقًا لِعُمَرَ رضي الله عنه .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ کے کسی راستے میں ایک اعرابی ملا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا، اپنے گدھے پر سوار کیا، جس پر وہ خود سوار تھے اور اپنا عمامہ اتار کر پہنایا۔ ابن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے (عبداللہ بن عمر سے) کہا: اللہ خیر فرمائے! یہ بدو لوگ معمولی دی ہوئی چیز پر راضی ہو جاتے ہیں! تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کا والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن دینار کی ایک روایت میں ہے کہ وہ جب مکے کی طرف روانہ ہوئے، تو ان کے پاس ایک گدھا تھا، جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر آرام کرتے، پھر اونٹ پر سوار ہوجاتے اور ایک عمامہ تھا، جسے سر پرباندھتے تھے۔ ایک دن وہ اسی گدھے پر تھے کہ ان کے پاس سے ایک اعرابی گزرا، توانھوں نے اس سے کہا: تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا: ہاں! توانھوں نے اسے گدھا دے دیا اور اس سے کہا کہ اس پر سوار ہوجاؤ، پھر عمامہ دے دیا اور فرمایا: اسے اپنے سر پر باندھ لو۔ ان کے بعض احباب نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، اس بدو کو آپ نے گدھا دے دیا، جس پر آپ آرام فرماتے ہیں اور عمامہ بھی، جسے آپ اپنے سر پر باندھتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ اس اعرابی کا باپ عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پاس ایک گدھا تھا۔ جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر (کچھ دیر) آرام کرتے پھراونٹ پر سوار ہوجاتے۔ انہی ایام میں ایک دن ایک اعرابی سے ملاقات ہوئی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا:ہاں! چنانچہ آپ اپنے گدھے سے اتر آئے اور اس سے کہا کہ تم اس پر سوار ہو جاؤ اور اپںے سر پر بندھا ہوا عمامہ اتار کر اس کو دے دیا اور اس سے کہا کہ اس کو اپنے سرپر باندھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے یامغفرت فرمائے! یہ بدو لوگ ہیں اور بدو تو اس سے کم پر بھی راضی ہو جاتے ہیں!! لوگ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ نے اپنا گدھا، جس پر آپ سوار ہوتے تھے اور عمامہ جسے سر پر باندھتے تھے، اسے دے کر پیدل چلنا کیسے گوارا کر لیا، جب کہ وہ ایک اعرابی ہے، اس سے کم پر بھی راضی ہوجاتا؟ تو انھوں نے فرمایا: ”سب سے بہتر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ یعنی جب انسان کا باپ، ماں یا کوئی قریبی فوت ہو جائے تو، ان سے لگاؤ اور انسیت رکھنے والوں سے حسن سلوک کرے۔ یعنی صرف ان کے دوست کے ساتھ نہیں بلکہ اس دوست کے عزیز و اقارب کے ساتھ بھی۔ اس اعرابی کا باپ عمر کا رضی اللہ عنہ کادوست تھا۔ یعنی عبداللہ کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ اس لیے اپنے والد گرامی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نیک برتاؤ کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کی۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423 هـ. رياض الصالحين، للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ»، قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کے حق میں ذلت اور رسوائی کی بد دعا کرتے ہوئے ناک خاک آلود ہونے تک کی بات کہہ ڈالی اور یہ بات تین بار کہی۔ کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ بد دعا آپ کس کے حق میں فرما رہے ہيں؟ آپ نے کہا : جس نے اپنے والد اور والدہ دونوں یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور دونوں کو اپنے لیے جنت میں داخل ہونے کا سبب نہيں بنا سکا۔ کیوں کہ نہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور نہ ان کی فرماں برداری کی۔

فوائد
  1. والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ضروری ہے۔ ان کی فرماں برداری دخول جنت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں اور کمزوری کی حالت میں۔
  2. والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 1978) (2551). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 394). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 308). فيض القدير شرح الجامع الصغير، زين الدين المناوي (4/ 34). شرح النووي على مسلم، (16/ 108).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا ہاں اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے خریدے اور آزاد کردے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لاَ يَجْزِي ولدٌ والدًا إلا أن يجده مملوكًا، فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا ہاں (ایک صورت ہے) اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے خریدے اور آزاد کردے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا اور نہ ہی اس کے احسان کا بدلہ دے سکتا الّا یہ کہ اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے آزاد کرا دے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري، تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة1425ه. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں کون شخص ہے جو بہترین ساتھی ہے؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں اور پھر تمہارا باپ، پھر اس سے قریب پھر اس سے قریب والا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، مَنْ أحقُّ الناس بِحُسن صَحَابَتِي؟ قال: «أمك» قال: ثم مَنْ ؟ قال: «أمك»، قال: ثم مَنْ؟ قال: «أمك»، قال: ثم مَنْ؟ قال: «أبوك». متفق عليه. وفي رواية: يا رسول الله، مَنْ أحقُّ بحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قال: «أمك، ثم أمك، ثم أمك، ثم أباك، ثم أدْنَاك أدْنَاك».
ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ (متفق علیہ) ایک دیگر روایت میں ہے کہ (ایک آدمی نے عرض کیا) اے اللہ کے رسول ! سب سے زیادہ میرے حُسنِ سلوک کا کون حقدار ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں۔ اِس کے بعد تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ والدین میں سے ہر ایک حُسنِ مصاحبت اور ان کے سارے کاموں کی مکمل دیکھ بھال کے حقدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ ”دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا“۔ تاہم ماں کا حق باپ پر کئی گناہ زیادہ ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے ماں کے حق کو تین مرتبہ کی تاکید کے ساتھ خوب مؤکد کرنے کے بعد باپ کا حق ذکر کیا ہے۔ ماں کا درجہ باپ سے بڑھ گیا باوجودیکہ بچے کی پرورش میں دونوں والدین شریک ہوتے ہیں۔ والد اپنے مال اور نگرانی کے ساتھ اور والدہ کھانے پینے اور پہننے اور بچھانے میں خدمت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔الخ، اس لیے کہ ماں بچے کے لیے وہ تکلیفیں برداشت کرتی ہیں جو باپ نہیں کرتا، ماں نو ماہ تک اسے پیٹ میں لے کر حمل کی حالت میں تکلیف در تکلیف اور کمزوری در کمزوری برداشت کرتی ہے، پھر اسے جننے کی تکلیف برداشت کرتی ہے، وہ تکلیف جو برداشت کرتی ہے اس سے ایسا لگتا ہے جیسے موت اس کو اچک لے۔ اسی طرح پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی ہے، اس کی راحت کے لیے راتوں کو جاگتی ہے، اس کی بہتری کے کام کرتی ہے اگرچہ خود کئی ساری تکلیفیں سہ لے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے“۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت کی ہے اور ماں کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف انہی اسباب کی طرف اشارہ فرمایا جو ماں تکلیفیں برداشت کرتی ہیں۔ والدین کے ساتھ حُسنِ مصاحبت کا مظہر یہ بھی ہے کہ ان کے کھانے پینے، رہنے سہنے، اوڑھنے بچھانے اور دیگر معاشی ضروریات کے لیے ان پر خرچ کرنا۔ اگر وہ محتاج ہیں بلکہ اگر وہ کم یا درمیانے درجے کی زندگی گزار رہے ہوں اور تم خوشحال و خوشگوار زندگی گزار رہے ہو تو انہیں اپنے درجے تک لے آنا یا اس سے بھی اچھا کرنا۔ یہ صحبت میں احسان کا تقاضا ہے۔ یاد کیجیے حکومت ملنے اور تخت نشینی کے بعد یوسف علیہ السلام نے جو کچھ اپنے والدین کے ساتھ کیا کہ انہیں دیہات سے لے آئے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بلکہ ان کے تمام امور کو شامل جامع حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں ذکر فرما دیا ہے: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ ”اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا، اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے“۔ ان سے بے ہودہ زبان کے استعمال سے بچو اور ہر طرح کی تکلیف دینے سے بچو، اپنی گفتگو کو ان کے سامنے نرم کردو، ان کے لیے اپنے بازؤوں کو پست کردو، ان کی اطاعت میں اپنے آپ کوجھکا دو، ان کے لیے دعا مانگتے رہو، اپنے دل کو ان کے ساتھ مخلص کرلو اور کہو اے اللہ ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح سے کہ انہوں نے بچپن میں میری تربیت کی تھی اور وحی الہی میں موجود اشارے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نیز حدیث کی منطقیت کے شانہ بہ شانہ چلتے ہوئے ماں کا زیادہ خیال رکھنا نہ بھولو۔

حوالہ

- شرح صحيح البخارى لابن بطال - تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم مكتبة الرشد - السعودية، الرياض الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م. - الأدب النبوي لمحمد الخَوْلي، ط4، دار المعرفة - بيروت، 1423 هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. - رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. - رياض الصالحين، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، ط4، 1428هـ. - شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. - شرح صحيح البخارى لابن بطال، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ط2، مكتبة الرشد - السعودية، الرياض، 1423هـ. - صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، ط1، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کی خوشنودی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «رضا الله في رضا الوالدين، وسَخَطُ الله في سَخَطِ الوالدين».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی خوشنودی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی خفگی والدین کی ناراضگی میں ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَن لغيره
تشریح

اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی اور خفگی کو والدین کی رضا مندی اور ناراضگی کے تابع قراردیا ہے۔ سو جس شخص نے اپنے والدین کو خوش کیا اس نے اپنے اللہ کو خوش کر لیا اور جس نے ان دونوں کو ناراض کیا اس نے اپنے اللہ کو ناراض کر دیا۔

حوالہ

تسهيل الالمام، للشيخ الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى 1427 – 2006 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1 1428هـ. توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، مدار الوطن للنشر، الطبعة الأولى 1430 - 2009م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار الفلق، الرياض، الطبعة: السابعة، 1424هـ. صحيح الترغيب والترهيب، الألباني، مكتبة المعارف، الرياض. سنن الترمذي، محمد بن عيسى أبو عيسى الترمذي السلمي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھک آئی۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال: «خرج ثلاثةُ نَفَرٍ يمشون فأصابهم المَطَر، فدَخَلوا في غارٍ في جبَل، فانْحَطَّت عليهم صَخْرةٌ، قال: فقال بعضُهم لبعض: ادعوا اللهَ بأفضلِ عَمَلٍ عَمِلتموه، فقال أحدُهم: اللهمَّ إني كان لي أبَوَانِ شَيْخانِ كبيران، فكنتُ أخرج فَأَرْعى، ثم أَجيء فأحْلِب فأجيء بالحِلاب، فآتي به أبويَّ فيَشْربان، ثم أسِقِيَ الصِّبْيَة وأهلي وامرأتي، فاحتَبَستُ ليلة، فجئتُ فإذا هما نائمان، قال: فكرهتُ أن أُوقِظَهما، والصِّبية يَتَضَاغَوْن عند رِجْلي، فلم يزل ذلك دَأْبي ودَأْبَهما، حتى طلَع الفجر، اللهم إن كنتَ تَعْلَمُ أنِّي فعلتُ ذلك ابْتغاء وجهِك، فافرُجْ عنا فُرْجة نرى منها السماء، قال: فَفُرِج عنهم، وقال الآخر: اللهم إن كنتَ تعلم أني كنتُ أُحبُّ امرأةً مِن بنات عمي كأشَدِّ ما يُحبُّ الرجلُ النساء، فقالت: لا تَنال ذلك منها حتى تعطيها مائة دينار، فسَعيْتُ فيها حتى جَمَعتُها، فلما قَعَدتُ بيْن رِجليْها قالت: اتقِ الله ولا تَفُضَّ الخاتَمَ إلا بحقِّه، فقمتُ وتركتُها، فإن كنتَ تعْلَم أنِّي فعلتُ ذلك ابتغاء وجهِك، فافرُجْ عنا فُرْجَة، قال: ففُرِج عنهم الثُّلُثيْنِ، وقال الآخر: اللهم إن كنتَ تعْلَم أني اسْتَأجَرْتُ أجيرًا بفَرَق من ذُرَة فأعْطيتُه، وأَبَى ذاك أنْ يأخُذَ، فعَمَدتُ إلى ذلك الفَرَق فزرعتُه، حتى اشتريتُ منه بقرًا وراعِيها، ثم جاء فقال: يا عبد الله أعْطِني حَقِّي، فقلتُ: انطلقْ إلى تلك البقر وراعِيها فإنها لك، فقال: أتستهْزِئ بي؟ قال: فقلت: ما أستهزئ بك ولكنها لك، اللهم إن كنتَ تعلم أنِّي فعلتُ ذلك ابتغاء وجهك، فافْرُجْ عنا فكُشِف عنهم».
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی: اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے، میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چَراتا تھا، پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا، جب میرے والدین پی لیتے تو پھر بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا، اتفاق سے ایک رات مجھے دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے، اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں، بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے، میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ بنا دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: چناچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے، اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو، میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی، پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا، تو وہ بولی: اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ، اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا، اب اگر تیرے نزدیک میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (نکلنے کا) راستہ بنا دے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور ایک ’فرق‘ جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا، (اس میں اتنی برکت ہوئی کہ) میں نے اس سے ایک بیل اور چرواہا خرید لیا، کچھ عرصہ بعد اس نے آکر مزدوری مانگی کہ اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دیدے، میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ سب تمھارا ہی ہے، اس نے کہا: مجھ سے مذاق کرتے ہو، میں نے کہا: میں مذاق نہیں کرتا واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹا کر) راستہ بنا دے، چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

تین لوگ کہیں جا رہے تھے کہ اچانک انہیں بارش نے گھیر لیا، بارش کی شدت سے بچنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہوئے، اچانک ایک چٹان گری اور غار کا راستہ بند ہو گیا، انھوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: اپنے کیے ہوئے سب سے افضل عمل کے ذریعہ اللہ سے دعا کرو، امید کہ اللہ کشادگی پیدا کرے اور اس چٹان کو ہٹا دے، تینوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے، میں چراہ گاہ جاکر اپنے اونٹ چرایا کرتا تھا، پھر چراگاہ سے واپس آتا اور اونٹنی کو دوہتا، اپنے ماں باپ کو دودھ پیش کرتا اور وہ اسے پیتے، پھر اپنے چھوٹے بچوں، بیوی اور بھائی بہن وغیرہ کو پلاتا تھا، ایک مرتبہ کسی وجہ سے گھر واپس آنے میں تاخیر ہوگئی، واپس آکر کیا دیکھتا ہوں کہ میرے والدین سو چکے ہیں، پہلے کی طرح میں نے دودھ دوہا اور دونوں کے سرہانے کھڑا ہوگیا، انہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ان کے پینے سے پہلے اپنی آل اولاد کو بھی پلانا مناسب نہیں سمجھا جب کہ میرے بچے بھوک کی شدت کے سبب میرے پیروں کے پاس رو رہے تھے، میں ایسے ہی مستقل کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، وہ دونوں بیدار ہوئے دودھ پیا اور پھر میں نے اپنے بچوں کو پلایا، اےاللہ! اگر تیرے نزدیک میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے تو اس چٹان کو تھوڑا سا ہٹا دےتاکہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، اللہ تعالی نے اس پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ وہ آسمان دیکھ سکیں۔ دوسرے شخص نےکہا: اے اللہ! مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے بڑی شدید محبت تھی، میں نے اسے اپنے لیے بہکانا چاہا وہ مجھے روکتی رہی لیکن (مجبوری میں) سو دینار کے عوض وہ راضی ہو گئی، میں نے سو دینار حاصل کیے اور اسے دے دیا، جب میں اس پر قابض ہو گیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھا تو وہ مجھ سے کہنے لگی: اللہ سے ڈرو اور حرام کا ارتکاب نہ کرو اور ناجائز طریقے سے میری بکارت نہ زائل کرو، چنانچہ میں اس کے دونوں پیروں کے درمیان سے اٹھ گیا اور اسے چھوڑ دیا، اے اللہ! تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام تیری رضا پانے کے لیے کیا ہے تو ہم سے اس چٹان کو دور کردے، چنانچہ اللہ نے اس چٹان کو ہٹا کر دو تہائی راستہ بنا دیا۔ اور تیسرے شخص کہا: اے اللہ! میں نے سولہ رطل جوار کے عوض ایک مزدور اجرت پر رکھا، جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے اس کو اس کی اجرت دے دی جسے اُس وقت لینے سے اس نے انکار کردیا، میں نے اس جوار کو کھیتی میں لگا دیا اور مسلسل اس سے کھیتی اور خرید وفروخت کرتا رہا یہاں تک کہ اس سےایک گائے اور ایک چرواہا خرید لیا، پھر ایک مدت کے بعد وہ مزدور آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دے دے۔ میں نے کہا: اس بیل اور چرواہے کے پاس جاؤ وہ تمھارا ہی ہے سب کو لے جاؤ ، مزدور نے کہا: کیا تم مجھ سے مذاق کرتے ہو؟ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کررہا، واقعی یہ تمھارے ہی ہیں، پس اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر راستہ بنا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے باقی راستہ کو کھول دیا اور وہ تینوں باہر آگئے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. - شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ. - الشرح الممتع على زاد المستقنع, محمد بن صالح بن محمد العثيمين, دار ابن الجوزي, الطبعة: الأولى، 1422 - 1428 هـ. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, بيروت – لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
10 میں سے 8
10 احادیث
  1. تم لوٹ جاؤ اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔
  2. عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن کا امدادی لشکر آتا تو آپ رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے کہ :کیا تمھارے اندر اویس بن عامر ہیں؟
  3. باپ سے محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی، بہت بڑی نیکی ہے
  4. ’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘
  5. کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا ہاں اگر وہ اسے کسی کی غلامی میں پائے تو اسے خریدے اور آزاد کردے۔
  6. اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں کون شخص ہے جو بہترین ساتھی ہے؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں اور پھر تمہارا باپ، پھر اس سے قریب پھر اس سے قریب والا۔
  7. اللہ کی خوشنودی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔
  8. تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھک آئی۔
  9. میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔
  10. واپس جاکر دونوں سے اجازت مانگو، اگر دونوں اجازت دے دیں تو جہاد میں شریک ہو سکتے ہو، ورنہ ان کی بات مانو اور ان کى خدمت میں لگے رہو

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com