ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اللہ کی راہ میں جہاد اور ہجرت کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگا۔ یہ شخص اپنے پیچھے اپنے والدین کو چھوڑ کر آیا تھا ۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ "وہ رو رہے تھے " اس اندیشے کی وجہ سے کہ وہ مارا جائے گا۔ (یہ شخص گویا آپ ﷺ سے اپنے اس فعل کی تصدیق چاہتا تھا)۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے مزید پوچھا: کیا تم واقعی اللہ تعالی سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اپنے والدین کے پاس لوٹ جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ان کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں اسی طرح ہنساؤ جس طرح سے تم نے انہیں رلایا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے اس کام کی طرف لوٹا دیا جس کا کرنا اس کے لیے زیادہ لائق اور زیادہ ضروری تھا۔ یعنی والدین کے پاس جا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ اس سے مراد ان کی خدمت ، رضا جوئی اور فرماں برداری میں جد وجہد کرنا ہے ۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔ اس حدیث میں یہ صراحت ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر عمل ہے ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نماز۔ اس نے پوچھا : اس کے بعد کون سا عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد۔ وہ کہنے لگا کہ میرے تو والدین ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ اس حدیث کو ابن حبان نے ذکر کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہے ۔ ماسوا اس وقت کے جب جہاد فرض عین ہوجائے کیونکہ فرض ہونے کی وجہ سے اسے والدین کی فرماں برداری پر مقدم رکھا جائے گا۔
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، المؤلف: حمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية،عام النشر: 1410هـ - 1990م. بهجة الناظرين، لسليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سيعد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى،1397هـ - 1977م، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. دليل الفالحين، محمد بن علان، دار الكتاب العربي. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح البخاري، محمد بن اسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.