سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ»، قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو، پھر ناک خاک آلود ہو"۔ کسی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ کس کی بات کر رہے ہيں؟ آپ نے فرمایا : "اس شخص کی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا، ان ميں سے کسی ایک کو یا دونوں کو، پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوسکا۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کے حق میں ذلت اور رسوائی کی بد دعا کرتے ہوئے ناک خاک آلود ہونے تک کی بات کہہ ڈالی اور یہ بات تین بار کہی۔ کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! یہ بد دعا آپ کس کے حق میں فرما رہے ہيں؟ آپ نے کہا : جس نے اپنے والد اور والدہ دونوں یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور دونوں کو اپنے لیے جنت میں داخل ہونے کا سبب نہيں بنا سکا۔ کیوں کہ نہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور نہ ان کی فرماں برداری کی۔

فوائد
  1. والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ضروری ہے۔ ان کی فرماں برداری دخول جنت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان کے بڑھاپے میں اور کمزوری کی حالت میں۔
  2. والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 1978) (2551). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 394). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 308). فيض القدير شرح الجامع الصغير، زين الدين المناوي (4/ 34). شرح النووي على مسلم، (16/ 108).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
والدین کی فرماں برداری کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com