سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کھانے پینے کی اشیاء کے احکام

5 احادیث

میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟

عن أبي ثَعْلبة الخُشني رضي الله عنه قال: «أَتَيْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، إنا بأرض قوم أهل كتاب، أَفَنَأْكُلُ في آنِيَتِهِم؟ وفي أرض صيد، أَصِيدُ بِقَوْسِي وبِكَلْبِي الذي ليس بِمُعَلَّمٍ، وبِكَلْبِي المُعَلَّمِ، فما يَصلح لي؟ قال: أمَّا مَا ذَكَرْتَ- يعني من آنية أهل الكتاب-: فإِنْ وجدْتُمْ غيرها فلا تأكلوا فيها، وإِنْ لم تَجِدُوا فاغسِلوهَا، وكلوا فِيهَا، وما صدتَ بِقَوْسِكَ، فذَكَرْتَ اسمَ الله عَلَيه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ، فَذَكَرْتَ اسْمَ الله عليه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ غيرِ المُعَلَّمِ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ».
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے، تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے، تو اگر تمھیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے، تو اس میں نہ کھاؤ، لیکن کوئی دوسرا برتن نہ ملے، تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔ (1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔ انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔ جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔

حوالہ

-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423ه.ـ -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، 1426ه. -عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ تعالیٰ، یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا۔

عن عبد الله بن عباسٍ رضي الله عنهما قال: بلغَ عمرَ رضي الله عنه أن فلانًا باعَ خمرًا. فقال: قاتلَ الله فلانًا! ألم يعلم أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: "قاتلَ الله اليهودَ، حُرِّمت عليهم الشُّحومُ، فجَمَلُوها، فباعُوها".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فلاں کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کرے! کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شخص نے حیلہ سازی کے ارادے سے شراب فروخت کرکے نفع خوری کی تاہم اس نے اس کو پیا نہیں۔ ایسی حیلہ سازی بالکلیہ حرام ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ویسی ہی بد دعا دی، جیسی نبی ﷺ نے حیلہ سازی کرنے والے یہودیوں کو دی تھی۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو برباد کردے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ حیلہ سازی کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ بازی ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انھوں نے اس سے نفع خوری کے لیے حیلہ سازی کا سہارا لیا؛ کیوں کہ انھوں نے چربی کی صفت و کیفیت میں تبدیلی کردی، اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت کو کھایا اور -حیلہ سازی اور دھوکہ بازی اپناتے ہوئے- انھوں نے کہا: "ہم نے حرام کردہ چربی تونہیں کھائی" اور اس گمان میں رہے کہ وہ اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور اللہ انھیں اس چال بازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق الطبعة الأولى1381هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے

عن جابر رضي الله عنه : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ أَهْلَهُ الأُدُمَ، فقالوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ، فَدَعَا بِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ، وَيَقُولُ: «نِعْمَ الأُدُمُ الخَلَّ، نِعْمَ الأُدُمُ الخَلَّ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے وہی منگوایا اور کھانا شروع کردیا اور فرمانے لگے: ”سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے روٹی کے ساتھ تناول فرمانے کے لئے کوئی سالن مانگا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے لانے کے لئے کہا۔ جب سرکہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کھانا شروع کر دیا اور فرمانے لگے: سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے یہ سرکہ کی تعریف ہے اگرچہ سرکہ ایک مشروب ہے جسے پیا جاتا ہے، لیکن پینے کی شی پر بھی کھانے کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”جس نے اس میں سے پی لیا وہ میرے ساتھیوں میں سے نہیں، اور جس نے اسے نہ چکھا (کھایا) وہ میرے ساتھیوں میں سے ہے“۔ اس کے لیے کھانے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اس کا ایک ذائقہ ہوتا ہے جسے چکھا جاتا ہے۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الرابعة عشر، 1407ه - 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة، 1426ه. كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه - 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب مکھی کسی کے (مشروب سے بھرے) برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه، ثم لينزعه؛ فإن في أحد جناحيه داء، وفي الآخر شفاء». وفي رواية: «وإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”جب مکھی کسی کے پینے (کے برتن) میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے“۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”اور وہ اپنے اس پر کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے مکھی کے بارے میں بتایا کہ جب وہ کسی پینے کی چیز میں گِر جائے تواس میں کچھ بھی اثر نہیں کرتی، بلکہ اس کو پورا ڈبو دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے ایک پَر میں بیماری ہوتی ہے اور یہ وہ پَر ہوتا ہے جسے وہ پانی میں ڈبوتی ہے اور دوسرے پَر میں اس بیماری کی شفاء ہوتی ہے۔ جو چیز کئی صدیوں سے مسلمان جانتے تھے، جدید طب نے اس کو درست ثابت کردیا ہے۔ مذہبِ اسلام کی اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔

حوالہ

- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428 - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- مؤسسة الرسالة - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور بعض سے قریب بھی ہوتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے۔

عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحِبُّ الحَلْواء والعسل، فكان إذا صلَّى العصر دارَ على نسائه، فَيَدْنُو منهنَّ، فدَخَل على حفصة، فَاحْتَبَسَ عندها أكثرَ ممَّا كان يحْتَبِس، فسألتُ عن ذلك، فقيل لي: أهْدَتْ لها امرأة من قومها عُكَّةً من عسل، فسَقَتْ رسول الله صلى الله عليه وسلم منه شرْبة، فقلتُ: أمَا والله لنَحْتالَنَّ له، فذكرتُ ذلك لسَوْدَة، وقلتُ: إذا دخل عليكِ، فإنه سَيَدْنُو منكِ، فقولي له: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فإنه سيقول لك: «لا»، فقولي له: ما هذه الرِّيح؟ وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشْتَدُّ عليه أنْ يوجد منه الريح، فإنه سيقول لك: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، فقولي له: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وسأقول ذلك له، وقولِيه أنتِ يا صفية، فلما دخَل على سودة قالت: تقول سودة: والذي لا إله إلا هو لقد كدتُ أن أبادئه بالذي قلتِ لي، وإنه لعلى البابِ فرقًا منكِ، فلما دَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالت: يا رسول الله، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قال: «لا»، قالت: فما هذه الريح؟ قال: «سَقَتْني حفصة شربة عسل»، قالت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فلما دخل عليَّ، قلتُ له: مثل ذلك، ثم دخل على صفية، فقالت بمثل ذلك، فلما دخل على حفصة، قالت: يا رسول الله، ألا أسْقِيك منه؟ قال: «لا حاجةَ لي به»، قالت: تقول سودة: سبحان الله، والله لقد حَرَمْنَاهُ، قالت: قلتُ لها: اسْكُتِي.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے، نبی ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور اُن سے قریب بھی ہوتے تھے- ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے رہ گیے۔ (مجھے اس پر غیرت آئی) اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی ﷺ کے لیے پیش کیا ہے- میں نے اپنے جی میں کہا : اللہ کی قسم ! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ ﷺ تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نفی میں جواب دیں گے- اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے؟ اور آپ ﷺ (مغافیر کی) بو کو ناپسند کرتے تھے۔ اس پر نبی ﷺ کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا! میں بھی آپ ﷺ سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا- عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! نبی ﷺ جوں ہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی ﷺ سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔چنانچہ جب نبی ﷺ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تو! انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو میں آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی ﷺ حفصہ کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ رسول! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں، سبحان اللہ! اللہ کی قسم ہم آپ ﷺ کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا (ابھی) چپ رہو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ شہد کو پسند کرتے تھے، جب آپ ﷺ عصر کی نماز سے واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی کسی کو بوسہ دیتے اور جماع کے بغیر ان سے بغل گیر ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گیے تو ان کے پاس کچھ زیادہ ہی دیر رُک گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے چھوٹے ڈبے میں شہد ہدیہ کیا ہے جس میں سے آپ ﷺ پیتے ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیرت آئی اور انہوں نے سودہ و صفیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ جب آپ ﷺ کسی کے پاس آئیں تو وہ آپ ﷺ سے پوچھے کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ مغافیر ایک قسم کے بدبو دار گوند کو کہتے ہیں اور نبی ﷺ خوشبو کے علاوہ کسی اور چیز کے بو کو ناپسند کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے شہد پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دوبارہ نہ پینے کی قسم کھالی۔ روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی کس بیوی کے یہاں شہد پیا، کہا گیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا، بعض علماء نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حفصہ رضی اللہ عنہا مخالفت کرنے والی تھیں اور بعض لوگوں نے اسے تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے اس لیے کہ ایک ہی چیز کے لیے تعددِ سبب کا ہونا مانع نہیں ہے، اس طرح یہ دوسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392هـ. التوضيح لشرح الجامع الصحيح, ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي, ت: دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث، دار النوادر، دمشق – سوريا, الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر, الطبعة: السابعة، 1323 هـ فتح الباري شرح صحيح البخاري, أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي, دار المعرفة - بيروت، 1379, رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي, قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب. إكمال المعلم بفوائد مسلم لعياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، المحقق: الدكتور يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1998 م. معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود, أبو سليمان حمد بن محمد بن إبراهيم بن الخطاب البستي المعروف بالخطابي, المطبعة العلمية - حلب, الطبعة: الأولى 1351 هـ - 1932 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com