سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب مکھی کسی کے (مشروب سے بھرے) برتن میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه، ثم لينزعه؛ فإن في أحد جناحيه داء، وفي الآخر شفاء». وفي رواية: «وإنه يتقي بجناحه الذي فيه الداء».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”جب مکھی کسی کے پینے (کے برتن) میں گر جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے (پر) میں شفاء ہوتی ہے“۔ دوسری روایت میں ہے کہ ”اور وہ اپنے اس پر کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے مکھی کے بارے میں بتایا کہ جب وہ کسی پینے کی چیز میں گِر جائے تواس میں کچھ بھی اثر نہیں کرتی، بلکہ اس کو پورا ڈبو دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے ایک پَر میں بیماری ہوتی ہے اور یہ وہ پَر ہوتا ہے جسے وہ پانی میں ڈبوتی ہے اور دوسرے پَر میں اس بیماری کی شفاء ہوتی ہے۔ جو چیز کئی صدیوں سے مسلمان جانتے تھے، جدید طب نے اس کو درست ثابت کردیا ہے۔ مذہبِ اسلام کی اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔

حوالہ

- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428 - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- مؤسسة الرسالة - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کھانے پینے کی اشیاء کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com