عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شخص نے حیلہ سازی کے ارادے سے شراب فروخت کرکے نفع خوری کی تاہم اس نے اس کو پیا نہیں۔ ایسی حیلہ سازی بالکلیہ حرام ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ویسی ہی بد دعا دی، جیسی نبی ﷺ نے حیلہ سازی کرنے والے یہودیوں کو دی تھی۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو برباد کردے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ حیلہ سازی کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ بازی ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انھوں نے اس سے نفع خوری کے لیے حیلہ سازی کا سہارا لیا؛ کیوں کہ انھوں نے چربی کی صفت و کیفیت میں تبدیلی کردی، اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت کو کھایا اور -حیلہ سازی اور دھوکہ بازی اپناتے ہوئے- انھوں نے کہا: "ہم نے حرام کردہ چربی تونہیں کھائی" اور اس گمان میں رہے کہ وہ اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور اللہ انھیں اس چال بازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے۔
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق الطبعة الأولى1381هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.