سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

عدالتی فیصلہ/ عدالتی حکم

13 احادیث

ایک شخص نے کسی سے زمین خریدی اور زمین خریدنے والے کو اس میں ایک گھڑا ملا، جس میں سونا تھا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: اشترى رجل من رجل عَقَارًا، فوجد الذي اشترى العَقَارَ في عَقَارِه جَرَّةً فيها ذهب، فقال له الذي اشترى العقار: خذ ذهبك، إنما اشتريت منك الأرض ولم أَشْتَرِ الذهب، وقال الذي له الأرض: إنما بِعْتُكَ الأرض وما فيها، فتحاكما إلى رجل، فقال الذي تحاكما إليه: أَلَكُمَا ولد؟ قال أحدهما: لي غلام، وقال الآخر: لي جارية قال: أنكحا الغلام الجارية، وأنفقا على أنفسهما منه وتَصَدَّقَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کسی سے زمین خریدی، اتفاقا خریدنے والے کو اس میں ایک گھڑا ملا، جس میں سونا تھا۔ اس نے بیچنے والے سے کہا: اپنا سونا لے جاؤ۔ کیوں کہ میں نے تم سے زمین خریدی ہے، سونا نہیں۔ لیکن پہلے مالک نے کہا :میں نے تم سے زمین، اس میں موجود تمام اشیا سمیت بیچ دی ہے۔ چنانچہ دونوں کسی تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا: کیا تمھاری کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا کہ دونوں کا نکاح کر دو اور سونا ان پر خرچ بھی کرو اور صدقہ بھی کرو۔
متعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے بتایا کہ ایک آدمی نے کسی سے زمین خریدی تو خریدار کو اس میں ایک سونے کا گھڑا ملا۔ اپنے تقویٰ کی وجہ سے اس نے یہ سونا بیچنے والے کو لوٹا دیا؛ کیوں کہ اس نے زمین خریدی تھی، اس میں موجود سونا نہیں۔ لیکن بیچنے والے نے بھی اپنے احتیاط کامل اور پرہیز گاری کی بنا پر لینے سے انکار کردیا۔ انکار کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے زمین اس میں موجود تمام چیزوں سمیت بیچی تھی۔ دونوں کا اختلاف ہوا تو دونوں نے قاضی سے کہا: آپ کسی آدمی کو بھیجیے جو اس پر قبضہ کرلے۔ اس کے بعد جسے چاہیں دے دیں۔ لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیااور پوچھا: کیا تمھاری کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ اس نے انھیں یہ مشورہ دیا کہ دونوں کا نکاح کر دو اور سونا ان پر خرچ بھی کرو اور اس میں سے خیرات بھی کرو۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه - 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين، لفيصل الحريملي، نشر: دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دو عورتوں جن کے ساتھ ان کے دو بچے تھے، بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كانت امرأتان معهما ابناهما، جاء الذئب فذهب بابن إحداهما، فقالت لصاحبتها: إنما ذهب بابنك، وقالت الأخرى: إنما ذهب بابنك، فتحاكما إلى داود صلى الله عليه وسلم فقضى به للكبرى، فخرجتا على سليمان بن داود صلى الله عليه وسلم فأخبرتاه، فقال: ائتوني بالسكين أَشُقُّهُ بينهما، فقالت الصغرى: لا تفعل! رحمك الله، هو ابنها، فقضى به للصغرى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”دو عورتوں جن کے ساتھ ان کے دو بچے تھے، بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔ اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ تیرے بچے کو بھیڑیا اٹھا کر لے گیا ہے۔ دوسری نے کہا کہ وہ تیرے بچے کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ وہ فیصلے کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہاں سے نکلیں اور حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان کو سارا ماجرا سنایا۔ انھوں (سلیمان علیہ السلام) نے فرمایا: مجھے چھری دو اس کو درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ چھوٹی کہنے لگی کہ اللہ آپ پر رحم کرے ! ایسا نہ کرنا یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے دو عورتوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنےبیٹوں کو لے کر باہر نکلیں تو ان میں سے ایک کے بچے کو بھیڑیا کھا گیا اور ایک کا بچ گیا۔ دونوں یہ کہنے لگیں کہ جو بچ گیا ہے یہ میرا بچہ ہے۔ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضر ت داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے اجتہاد کرتے ہوئے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا ۔کیوں کہ ممکن تھا کہ بڑی اب بچہ نہ جن سکے، جب کہ چھوٹی ابھی جوان تھی اور امید تھی کہ مستقبل میں وہ اور بچہ جن لے گی۔ وہ وہاں سے نکلیں اور بچے کو لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آ گئیں اور ان کو سارا واقعہ سنایا۔ انھوں نے چھری منگوائی اور کہا کہ میں اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں(کہ آدھا آدھا لے لو)۔ بڑی رضا مند ہو گئی جب کہ چھوٹی نے اپنا دعویٰ چھوڑ دیا اور اس کی شفقت اور رحمت غالب آئی کیوں کہ وہ حقیقتاً اس کا بچہ تھا تو وہ کہنے لگی اے اللہ کے نبی! یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو انھوں نے دلیل اور قرینے کی موجودگی میں چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔ کیوں کہ اس کا بچے پر رحم کھانا اور یہ کہنا کہ یہ بڑی کا ہی بچہ ہے اور اس کا زندہ رہنا اس کے دو حصوں میں تقسیم ہونے سے بہتر تھا۔ تو انھوں نے فیصلہ چھوٹی کے حق میں کر دیا۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com