جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور اگر اجتہاد کرے پھر حکم دے لیکن اجتہاد میں غلطی کر جائے تو بھی اسے ایک اجر ملے گا
یہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ کوئی حاکم جب کسی مسئلے پر اجتہاد کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے اور سمجھے کہ اس مسئلے میں یہی حق ہے، پھر فیصلہ دے دے، تو اب اگر اس کا فیصلہ صحیح، حق کے موافق ہوا اور اللہ کی منشا کے مطابق ہوا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجتہاد کرنے کا اجر اور دوسرا حق کے موافق فیصلہ کرنے کا اجر۔ لیکن اگر اجتہاد تو کرے، لیکن صحیح فیصلے تک پہنچ نہ سکے، تو اسے ایک ہی اجر ملے گا۔ یعنی صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے اجتہاد کا اجر، کیوں کہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہادکرنا عبادت ہے۔ ہاں، اسے صحیح فیصلہ دینے کا ثواب نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اجتہاد کے بعد صحیح فیصلہ نہ دے پانے کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ جانکار ہو اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔
- صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ - صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت - توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م - فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 1431 هـ.