سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

دعوى جات اور ثبوت/ مقدمات اور ثبوت

7 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا۔

عن أُمُّ سَلَمَة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إلَيْهِمْ، فقال: «ألا إنما أنا بشر، وإنما يأتيني الخصم، فلعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض؛ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ؛ فَأَقْضِي لَهُ، فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من نار، فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ يَذَرْهَا».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا، تو آپﷺ ان جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ میرے پاس کوئی فیصلے کے لیے جھگڑا لےکر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بہ نسبت زیادہ عمدگی سے بات کرے، جس کی بنا پر میں سمجھ لوں کہ وہ سچا ہے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو جس شخص کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں، اسے جان لینا چاہیے کہ یہ دوزخ کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے کچھ جھگڑنے والوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، جو آپ ﷺ کے دروازے کے پاس جھگڑا اور بحث کر رہے تھے۔ آپ ﷺ ان کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے،اور فرمایا:"میں تمھاری ہی طرح ایک انسان ہوں، میں غیب نہیں جانتا اور نہ مجھے مخفی امور کے بارے میں بتایا جاتا ہے، جن کی بنا پر مجھے معلوم ہو جائے کہ تم میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ جن لوگوں کے مابین جھگڑا ہوتا ہے، وہ میرے پاس فیصلہ کرانے آتے رہتے ہیں اور میرا فیصلہ فریقین کے پیش کردہ دلائل اور قسموں پر مبنی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ فصیح و بلیغ اور قادر الکلام ہو اور میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کردوں حالاںکہ اندرونی حقائق کی رو سے اس کا مد مقابل حق پر ہو۔ تو جان لو کہ میرا فیصلہ ظاہری امور پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ باطنی امور پر۔ چنانچہ میرے فیصلے کی وجہ سے کوئی حرام شے حلال نہیں ہوجاتی۔ اس لیے اگر میں کسی کو کسی دوسرے کا حق دے دوں، حالاںکہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ تو میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ اس کا عقاب اسی کو ہو گا اور اللہ تعالی ظالم لوگوں کی گھات میں رہتا ہے۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ». قَالَ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ؛ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ». قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَنْ يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا}. إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا“۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے قصہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کا اور ان ایک شخص سے ایک کنویں کو لے کر جھگڑا پیدا ہوگیا، تو وہ اس جھگڑے کے تصفیے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا!“ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ ان کا مخالف قسم کھالے گا اور اسے اس کے گناہ کی چنداں پروا نہ ہوگی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس امکان کا اظہار بھی کردیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے...“۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت قسم کی وعید ہے، جو کسی شخص کا مال ناحق ہڑپ لیتے ہیں، وہ اپنے گناہ آمیز جھگڑے اور جھوٹی قسم کے ذریعے اس پر قبضہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، تو وہ ان پر سخت غضب ناک ہوگا اور جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگیا، اس کی ہلاکت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

حوالہ

صحيح البخاري (3/ 121) (2416). صحيح مسلم (1/ 123) (138). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 136). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص687). فتاوى اللجنة الدائمة - اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء (23/ 513).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دو عورتوں جن کے ساتھ ان کے دو بچے تھے، بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كانت امرأتان معهما ابناهما، جاء الذئب فذهب بابن إحداهما، فقالت لصاحبتها: إنما ذهب بابنك، وقالت الأخرى: إنما ذهب بابنك، فتحاكما إلى داود صلى الله عليه وسلم فقضى به للكبرى، فخرجتا على سليمان بن داود صلى الله عليه وسلم فأخبرتاه، فقال: ائتوني بالسكين أَشُقُّهُ بينهما، فقالت الصغرى: لا تفعل! رحمك الله، هو ابنها، فقضى به للصغرى.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”دو عورتوں جن کے ساتھ ان کے دو بچے تھے، بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔ اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ تیرے بچے کو بھیڑیا اٹھا کر لے گیا ہے۔ دوسری نے کہا کہ وہ تیرے بچے کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ وہ فیصلے کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہاں سے نکلیں اور حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان کو سارا ماجرا سنایا۔ انھوں (سلیمان علیہ السلام) نے فرمایا: مجھے چھری دو اس کو درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ چھوٹی کہنے لگی کہ اللہ آپ پر رحم کرے ! ایسا نہ کرنا یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے دو عورتوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنےبیٹوں کو لے کر باہر نکلیں تو ان میں سے ایک کے بچے کو بھیڑیا کھا گیا اور ایک کا بچ گیا۔ دونوں یہ کہنے لگیں کہ جو بچ گیا ہے یہ میرا بچہ ہے۔ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضر ت داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے اجتہاد کرتے ہوئے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا ۔کیوں کہ ممکن تھا کہ بڑی اب بچہ نہ جن سکے، جب کہ چھوٹی ابھی جوان تھی اور امید تھی کہ مستقبل میں وہ اور بچہ جن لے گی۔ وہ وہاں سے نکلیں اور بچے کو لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آ گئیں اور ان کو سارا واقعہ سنایا۔ انھوں نے چھری منگوائی اور کہا کہ میں اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں(کہ آدھا آدھا لے لو)۔ بڑی رضا مند ہو گئی جب کہ چھوٹی نے اپنا دعویٰ چھوڑ دیا اور اس کی شفقت اور رحمت غالب آئی کیوں کہ وہ حقیقتاً اس کا بچہ تھا تو وہ کہنے لگی اے اللہ کے نبی! یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو انھوں نے دلیل اور قرینے کی موجودگی میں چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔ کیوں کہ اس کا بچے پر رحم کھانا اور یہ کہنا کہ یہ بڑی کا ہی بچہ ہے اور اس کا زندہ رہنا اس کے دو حصوں میں تقسیم ہونے سے بہتر تھا۔ تو انھوں نے فیصلہ چھوٹی کے حق میں کر دیا۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔

عَن ابنِ عباسٍ رضي الله عنهما أنَّ رسولَ اللهِ صلي الله عليه وسلم قال: «لَو يُعطَى النّاسُ بدَعواهُم لادَّعَى رِجالٌ أموالَ قَومٍ ودِماءَهُم، ولَكِنَّ البَيِّنَةَ على المُدَّعِى، واليَمينَ على مَن أنكَرَ».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔"
رواه البيهقيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر لوگوں کو دلائل اور قرائن کی پڑتال کیے بغیر محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور جان تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لہذا مدعی کو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرنے ہوگی۔ اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو، تو دعوے کو مدعی علیہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر اس نے انکار کر دیا، تو اسے قسم کھانی ہوگی۔ اس کے بعد وہ بری ہو جائے گا۔

فوائد
  1. ابن دقیق العید کہتے ہيں: یہ حدیث اسلامی احکام کے ایک بنیادی اصول اور تنازع و جھگڑے کے وقت ایک عظیم ترین مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
  2. شریعت اسلامی کا ایک بنیادی مقصد جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی راہ کو بند کرنا اور جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
  3. قاضی اپنے علم کی روشنی میں نہیں بلکہ دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔
  4. بلا دلیل دعوی قابل قبول نہيں ہے۔ دعوی کا تعلق چاہے حقوق و معاملات سے ہو یا ایمان و علم کے مسا‏ئل سے۔
حوالہ

السنن الكبرى للبيهقي تحقيق التركي (21/ 242 - 243) (21243). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص76). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص328). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، لعبد المحسن البدر (ص114).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول الله آ اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے، چاہے اس کا رخ جس جانب بھی ہوتا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه «أن النبي صلى الله عليه وسلم عَرَضَ على قوم اليَمِين، فَأَسْرَعُوا فَأَمَرَ أن يُسْهَمَ بينهم في اليمين أَيُّهُم يَحْلِفُ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
حوالہ

صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري - تأليف حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية، 1410 هـ - 1990 م مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري - دار الفكر، بيروت - لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428 توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427 بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص میرے اس منبر کے پاس گناہ پر مبنی قسم کھائے گا، چاہے ایک مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے گا

عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يحْلِفُ أحدٌ عند مِنْبَرِي هذا على يَمينٍ آثِمَة، ولو على سِواكٍ أَخْضَرَ، إلا تَبَوَّأَ مَقْعَدَه مِن النار -أو وَجَبَتْ له النار-».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص میرے اس منبر کے پاس گناہ پر مبنی قسم کھائے گا، چاہے ایک ہری مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے گا، یا فرمایا کہ اس کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بہت بڑے گناہگار ہونے کی بات کہی ہے، جو مسجد نبوی میں رکھے ہوئے آپ کے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، چاہے اس نے قسم کسی حقیر چیز کے بارے میں ہی کیوں نہ کھائی ہو۔ کیونکہ یہ جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ اس پر کھڑے ہوکر جو کچھ کہا کرتے تھے، اسے یاد کرنے کی جگہ ہے۔ جب کہ جھوٹی قسم کھانے والا ان باتوں کے برخلاف کام کرتا ہے۔ لہذا، وہ اس طرح کی وعید کا مستحق ہے۔ ویسے تو کسی بھی جگہ جھوٹی قسم کھانا اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے، لیکن کسی مبارک جگہ پر اس کا گناہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

حوالہ

- سنن أبي داود، ت: محمد محي الدين, المكتبة العصرية. - سنن ابن ماجه، المؤلف: ت: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء الكتب العربية. - مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - 2001 م. -موطأ الإمام مالك, مالك بن أنس بن مالك بن عامر الأصبحي المدني, صححه ورقمه وخرج أحاديثه وعلق عليه: محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان, عام النشر: 1406 هـ - 1985. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل للألباني , المكتب الإسلامي الطبعة: الثانية 1405 هـ. - شرح الطيبي على مشكاة المصابيح المسمى بـ (الكاشف عن حقائق السنن) المؤلف: شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي, ت: د. عبد الحميد هنداوي, مكتبة نزار مصطفى الباز, الطبعة: الأولى، 1417 هـ. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان. دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ. - عون المعبود شرح سنن أبي داود، للعظيم آبادي دار الكتب العلمية - بيروت, الطبعة: الثانية، 1415 هـ. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح للقاري، دار الفكر، بيروت، الطبعة: الأولى، 1422هـ. - البدرُ التمام شرح بلوغ المرام للمَغرِبي, ت: علي بن عبد الله الزبن, دار هجر, الطبعة: الأولى 1428 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔

عَن ابنِ عباسٍ رضي الله عنهما أنَّ رسولَ اللهِ صلي الله عليه وسلم قال: «لَو يُعطَى النّاسُ بدَعواهُم لادَّعَى رِجالٌ أموالَ قَومٍ ودِماءَهُم، لَكِنَّ البَيِّنَةَ على المُدَّعِى، واليَمينَ على مَن أنكَرَ».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔"
اسے بیہقی وغیرہ نے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس حدیث کا کچھ حصہ صحیحین میں بھی مروی ہے۔درجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر لوگوں کو دلائل اور قرائن کی پڑتال کیے بغیر محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور جان تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لہذا مدعی کو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرنے ہوگی۔ اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو، تو دعوے کو مدعی علیہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر اس نے انکار کر دیا، تو اسے قسم کھانی ہوگی۔ اس کے بعد وہ بری ہو جائے گا۔

فوائد
  1. ابن دقیق العید کہتے ہيں: یہ حدیث اسلامی احکام کے ایک بنیادی اصول اور تنازع و جھگڑے کے وقت ایک عظیم ترین مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
  2. شریعت اسلامی کا ایک بنیادی مقصد جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی راہ کو بند کرنا اور جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
  3. قاضی اپنے علم کی روشنی میں نہیں بلکہ دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔
  4. بلا دلیل دعوی قابل قبول نہيں ہے۔ دعوی کا تعلق چاہے حقوق و معاملات سے ہو یا ایمان و علم کے مسا‏ئل سے۔
حوالہ

السنن الكبرى للبيهقي تحقيق التركي (21/ 242 - 243) (21243). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص76). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص328). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، لعبد المحسن البدر (ص114).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com