سیدھے مواد پر جائیں
کتاب 29 · احیاء علوم الدین
کتاب 29

بيان آفة العجب

متن ماخوذ ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 94722026-10-21 کو لیا گیا

اعلم أن آفات العجب كثيرة فإن العجب يدعو إلى الكبر لأنه أحد أسبابه كما ذكرناه فيتولد من العجب الكبر ومن الكبر الآفات الكثيرة التي لا تخفى هذا مع العباد وأما مع الله تعالى فالعجب يدعو إلى نسيان الذنوب وإهمالها فبعض ذنوبه لا يذكرها ولا يتفقدها لظنه أنه مستغن عن تفقدها فينساها وما يتذكره منها فيستصغره ولا يستعظمه فلا يجتهد في تداركه وتلافيه بل يظن أنه يغفر له

وأما العبادات والأعمال فإنه يستعظمها ويتبجح بها ويمن على الله بفعلها وينسى نعمة الله عليه بالتوفيق والتمكين منها ثم إذا عجب بها عمي عن آفاتها

ومن لم يتفقد آفات الأعمال كان أكثر سعيه ضائعا فإن الأعمال الظاهرة إذا لم تكن خالصة نقية عن الشوائب قلما تنفع وإنما يتفقد من يغلب عليه الإشفاق والخوف دون العجب والمعجب يغتر بنفسه وبرأيه ويأمن مكر الله وعذابه ويظن أنه عند الله بمكان وأن له عند الله منة وحقا بأعماله التي هي نعمة وعطية من عطاياه ويخرجه العجب إلى أن يثني على نفسه ويحمدها ويزكيها وإن أعجب برأيه وعمله وعقله منع ذلك من الاستفادة ومن الاستشارة والسؤال فيستبد بنفسه ورأيه ويستنكف من سؤال من هو أعلم منه وربما يعجب بالرأي الخطأ الذي خطر له فيفرح بكونه من خواطره ولا يفرح بخواطر غيره فيصر عليه ولا يسمع نصح ولا وعظ واعظ بل ينظر إلى غيره بعين الاستجهال ويصر على خطئه فإن كان رأيه في أمر دنيوي فيحقق فيه وإن كان في أمر ديني لا سيما فيما يتعلق بأصول العقائد فيهلك به ولو اتهم نفسه ولم يثق برأيه واستضاء بنور القرآن واستعان بعلماء الدين وواظب على مدارسة العلم وتابع سؤال أهل البصيرة لكان ذلك يوصله إلى الحق

فهذا وأمثاله من آفات العجب فلذلك كان من المهلكات ومن أعظم آفاته أن يفتر في السعي لظنه أنه قد فاز وأنه قد استغنى وهو الهلاك الصريح الذي لا شبهة فيه

نسأل الله تعالى العظيم حسن التوفيق لطاعته

ترجمے

یہ ترجمہ مترجم کا ہے، سبیل کا نہیں۔ یہ ویسا ہی دکھایا گیا ہے جیسا اس کا ماخذ دیتا ہے: ہر کتاب کے نیچے مترجم کی اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر؛ یہ عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا اور جس نسخے سے پڑھا گیا اس کی غلطیاں اس میں باقی ہیں۔ سبیل نے اسے عربی سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔

یہ امام غزالی کی «احیاء علوم الدین» کا عربی متن ہے، جیسا OpenITI کے ذخیرے میں ہے، شاملہ کے نسخے سے، دارالمعرفہ کی طباعت کا۔ کسی نے اسے مطبوعہ کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ذخیرے کے مطابق بعض صفحات میں متن کا کچھ حصہ غائب ہے اور محقق کے حواشی متن میں گھل مل گئے ہیں؛ دونوں جیسے ہیں ویسے ہی دکھائے گئے ہیں۔ مطبوعہ نسخے کے ہر صفحے کے اختتام پر نشان لگایا گیا ہے۔ ترجمے اپنے مترجمین کے ہیں؛ ہر ایک اس نسخے سے لیا گیا جس کا نام اس کے ساتھ درج ہے اور ہر کتاب کے نیچے اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر دکھایا گیا ہے: کوئی بھی عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا، کریم کا انگریزی ترجمہ، بقول مترجم، اختصار کے ساتھ ہے، اور ہر ایک میں اس نسخے کی غلطیاں باقی ہیں جس سے اسے پڑھا گیا۔ سبیل نے کچھ ترجمہ نہیں کیا، کسی ترجمے کو عربی سے نہیں ملایا، اور کسی عالم نے کسی کا جائزہ نہیں لیا۔