تَکَبُّر اور خودپسندی کا بیان
یہ ترجمہ مترجم کا ہے، سبیل کا نہیں۔ یہ ویسا ہی دکھایا گیا ہے جیسا اس کا ماخذ دیتا ہے: ہر کتاب کے نیچے مترجم کی اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر؛ یہ عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا اور جس نسخے سے پڑھا گیا اس کی غلطیاں اس میں باقی ہیں۔ سبیل نے اسے عربی سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔
ترجمہ: Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںماخوذ از dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)2026-10-22 کو لیا گیا
ماخذ اس کے بارے میں کیا کہتا ہے: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں جو بنانے والا،پیدا کرنے والا، ہر ایک کو صورت دینے والا اور عزت اور
عظمت وبڑائی والا ہے ۔ وہ ایسا بلند ہے کہ کوئی اس کی بزرگی چھین نہیں سکتا اور ایسا جبّار ہے کہ ہرسرکش اس کے سامنے ذلیل ورُسوا ہے ۔ ہر مُتکبِر اس کی بارگاہ ِعزت میں مسکین اور عاجز ہے ۔ ایسا غالب ہے کہ کوئی اسے اس کا ارادہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتا ۔ وہ بےنیاز ہے، کوئی اس کا شریک ہے نہ کوئی اس سے جھگڑنے والا ۔ مخلوق کی آنکھوں پر اس کا جلا ل و جمال غالب ہے ۔ اس کے اِستوا، بلندی اور وِلا یت نے عرشِ مجید کو جھکا دیا ۔ اس کی حمدوثنا کے احاطےسے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی زبانیں بھی عاجز ہیں ۔ اس کے جلال کی حقیقت کو بیان کرنے سے اس کے فرشتوں اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے بھی عجز کا اعتراف کیا ہے ۔ اس کے غلبہ وبلندی اور عظمت وکبریائی کے سامنے ایرانی ورومی بادشاہوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔ عظمت اس کا ازار ا ور کبریائی اس کی چادر ہے اور جو شخص ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اس سے جھگڑتاہے تو وہ اسے ایسی ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے جس سے بچنا ممکن نہیں ۔ وہ بزرگ تر ہے اور اس کے اَسما تمام عُیوب سے پاک ہیں ۔ دُرُوْدوسلام ہو حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرجن پر ایسا نور نازل ہوا جس کی روشنی تمام عالَم میں پھیل چکی ہے اور آپ کے آل و اصحاب پر بھی درودوسلام ہو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمحبوب، دوست اور اس کے منتخب بندے ہیں ۔
بڑائی اللہ عَزَّ وَجَلّ کی چادر ہے :
حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:بڑائی میری چادر اور عظمت میراتہبند ہے جو کوئی ان میں کسی ایک کے بارے میں بھی مجھ سے جھگڑے گامیں اسے تباہ کردوں گا ۔ (1 ) (2 )
[1] المستدرک ، کتاب الایمان ، اھل الجنة المغلوبون الضعفاء ...الخ ، ۱ / ۲۳۵ ، حدیث : ۲۱۰سنن ابی داود ، کتاب اللباس ، باب ماجاء فی الکبر ، ۴ / ۸۱ ، حدیث : ۴۰۹۰
[2] مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مراٰۃ المناجیح ، جلد6 ، صفحہ659پر اس کے تحت فرماتےہیں : کبر سے مراد ذاتی بڑائی ہے اور عظمت سے مراد صفاتی بڑائی۔چادراورتہبندفرمانا ہم کو سمجھانے کے لئے ہے کہ جیسےایک چادر ، ایک تہ بند دو آدمی نہیں پہن سکتے یوں ہی عظمت وکبریائی سوائے میرے دوسرے کے لئے نہیں ہوسکتی۔
ہلاکت میں ڈالنے والی تین چیزیں:
سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے کہ تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں: (۱)بخل جس کی پیروی کی جائے(۲)نفسانی خواہش جس کی اطاعت کی جائےاور (۳)انسان کا خود کو اچھا جاننا ۔ (1 )
تکبر اور خود پسندی دونوں ہلاکت میں مبتلا کرنے والی بیماریاں ہیں ۔ متکبر اور خودپسنددونوں مریض ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن اوراس کے غضب کا شکاربھی ہیں ۔ جب اس جِلد میں ہلاک کرنےوالے امور کا ذکر ہورہا ہے تو ضروری ہوا کہ تکبر اور خود پسندی کی وضاحت بھی کی جائے کیونکہ یہ دونوں بہت زیادہ ہلاک کرنے والے ہیں،لہٰذا ہم انہیں دو حصوں میں بیان کریں گے ۔ پہلے حصے میں تکبر اور دوسرے میں خود پسندی کا ذکر کریں گے ۔
پہلا حصہ:تَکَبُّر کا بیان
(اس میں دس فصلیں ہیں)
اس حصے میں یہ باتیں (دس فصلوں میں) ذکر کی جائیں گی:(۱)… تکبّرکی مَذمت (۲)…متکبرانہ چال چلنے کی مذمت (۳)…عاجزی کی فضیلت (۴)…تکبر کی حقیقت اورا س کی آفت (۵)…جن پر تکبر کیا جاتا ہے ان کے اعتبار سے تکبر کے درجات (۶)…تکبُّر پراُبھارنے والے ظاہری اسباب (۷)…تکبُّرپراُبھارنے والے باطنی اسباب (۸)…عاجزی کرنے والوں کے اخلاق اور کس صورت میں تکبر کا ظہور ہوتا ہے؟(۹)…تکبر کا علاج اورتکبر کے سلسلے میں نفس کا امتحان (۱۰)…کونسی عاجزی قابل تعریف ہے اور کونسی مذموم؟
پہلی فصل: تَکَبُّر کی مَذَمَّت
تکبر کے متعلق چھ فرامین باری تعالیٰ:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر تکبُّر کی مَذمَّت فرمائی اورسرکش مُتکَبِّر کی برائی بیان فرمائی:
(1)…سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ
ترجمۂ کنز الایمان :اور میں اپنی آیتوں سے انھیں پھیر دوں
[1] شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللّٰہ ، ۱ / ۴۷۱ ، حدیث : ۷۴۵
فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ- (پ۹،الاعراف:۱۴۶)
گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں ۔
(2)…كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ(۳۵) (پ۲۴،المؤمن:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر ۔
(3)…وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ(۱۵) (پ۱۳،ابراھیم:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان :اور انھوں نے فیصلہ مانگا اور ہرسرکش ہٹ دھرم نامراد ہوا ۔
(4)…اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) (پ۱۴،النحل:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان :بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا ۔
(5)…لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا(۲۱) (پ۱۹،الفرقان:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان :بےشک اپنے جی میں بہت ہی اُونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پر آئے ۔
(6)…اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰) (پ۲۴،المؤمن:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان :بےشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبُّر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر ۔
تکبُّر کے متعلق 17فرامین مصطفٰے:
(1)…جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور وہ شخص جَہَنَّم میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہو ۔ (1 )
(2)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:بڑائی میری چادر اور عظمت میراتہبند ہےجو کوئی ان میں کسی ایک کے
[1] مسلم ، کتاب الایمان ، باب تحریم الکبروبیانہ ، ص ۶۱ ، حدیث : ۹۱
بارے میں بھی مجھ سے جھگڑے گاتو میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ۔ (1 )
(3)…حضرت سیِّدُنا ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ مقامِ صفا پر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عَمْرو اور حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمْ کی ملاقات ہوئی کچھ دیر ٹھہر نے کے بعد حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عَمرو رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہاں سے چلے گئے لیکن حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہیں کھڑے روتے رہے ۔ حاضرین نے عرض کی:اے ابوعبدالرحمٰن! آپ کیوں روتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اِس شخص یعنی حضرت عبد اللہ بن عَمْرو رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا کہنا ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبُّر ہوگا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اوند ھے منہ جہنم میں ڈالے گا ۔ (2 )
(4)…آدمی اپنے نفس کےمتعلق بڑائی بیان کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے جبّار(سرکش) لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اسے بھی وہی عذاب پہنچتا ہے جو ان کو پہنچتا ہے ۔ (3 )
حضرت سیِّدُناسلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ایک دن پر ندوں، انسانوں، جنّوں اور حیوانات سے فرمایا: نکلو ۔ چنانچہ آپ دولاکھ انسانوں اور دولاکھ جنّوں کولےکر نکلے،آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو بلند کیا گیا حتّٰی کہ آپ نے آسمانوں میں فرشتوں کی تسبیح سنی پھر نیچے لایا گیا حتّٰی کہ آپ کے پاؤں سمندر کو چھونے لگے ۔ پھر ایک آواز سنی گئی کہ اگر تمہارے آقا(یعنی حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام ) کے دل میں ذرّہ برابر بھی تکبر ہوتا تو ان کو جس قدر بلند کیا گیا اس سے زیادہ انہیں دھنسا دیا جاتا ۔
جہنّمی گردن:
(5)…جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جس کے دوکان ہوگے جو سنیں گے، دو آنکھیں ہوں گی جو دیکھیں گی اور ایک زبان ہوگی جو کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مُقَرَّر کیا گیا ہے:(۱)ہر بڑےسرکش ہٹ دھرم پر (۲)ہر اس شخص پر جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کوشریک کرے اور (۳)تصویریں بنا نے والوں پر ۔ (4 )
متن ماخوذ ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 94722026-10-21 کو لیا گیا
یہ امام غزالی کی «احیاء علوم الدین» کا عربی متن ہے، جیسا OpenITI کے ذخیرے میں ہے، شاملہ کے نسخے سے، دارالمعرفہ کی طباعت کا۔ کسی نے اسے مطبوعہ کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ذخیرے کے مطابق بعض صفحات میں متن کا کچھ حصہ غائب ہے اور محقق کے حواشی متن میں گھل مل گئے ہیں؛ دونوں جیسے ہیں ویسے ہی دکھائے گئے ہیں۔ مطبوعہ نسخے کے ہر صفحے کے اختتام پر نشان لگایا گیا ہے۔ ترجمے اپنے مترجمین کے ہیں؛ ہر ایک اس نسخے سے لیا گیا جس کا نام اس کے ساتھ درج ہے اور ہر کتاب کے نیچے اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر دکھایا گیا ہے: کوئی بھی عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا، کریم کا انگریزی ترجمہ، بقول مترجم، اختصار کے ساتھ ہے، اور ہر ایک میں اس نسخے کی غلطیاں باقی ہیں جس سے اسے پڑھا گیا۔ سبیل نے کچھ ترجمہ نہیں کیا، کسی ترجمے کو عربی سے نہیں ملایا، اور کسی عالم نے کسی کا جائزہ نہیں لیا۔