Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
Sura ta 9

At-Tawba

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 49

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ٱئْذَن لِّى وَلَا تَفْتِنِّىٓ ۚ أَلَا فِى ٱلْفِتْنَةِ سَقَطُوا۟ ۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌۢ بِٱلْكَـٰفِرِينَ 49

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں، اجازت دیجیے مجھے اورنہ فتنے میں ڈالیں مجھے۔ آگاہ رہو! فتنے میں تو وہ گر چکے ہیں اور بے شک جہنم یقینا گھیرنے والی ہے کافروں کو(49)

[49] اور ان منافقین میں کچھ وہ بھی تھے جو جہاد میں نہ جانے کی اجازت مانگتے تھے اور عجیب و غریب قسم کے عذر پیش کرتے تھے۔ کوئی یہ کہتا تھا ﴿ ائۡذَنۡ لِّيۡ﴾ ’’مجھے (پیچھے رہنے کی) اجازت دیجیے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَفۡتِنِّيۡ﴾ ’’اور مجھے (گھر سے نکلنے کے باعث) فتنے میں نہ ڈالیے۔‘‘ کیونکہ جب میں بنی اصفر (رومیوں ) کی عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہیں کر سکوں گا۔ جیسا کہ جدبن قیس نے کہا تھا.... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے اس کا مقصد محض ریا اور نفاق تھا اور وہ اپنی زبان سے ظاہر کرتا تھا کہ اس کا مقصد اچھا ہے اور جہاد میں نکلنے سے وہ فتنہ اور شر میں مبتلا ہو جائے گا اور اگر وہ جہاد کے لیے نہ جائے تو عافیت میں ہوگا اور فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے فرمایا ﴿ اَلَا فِي الۡفِتۡنَةِ سَقَطُوۡا﴾ ’’خبردار، وہ تو گمراہی میں پڑ چکے‘‘ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ قائل اپنے قصد میں سچا ہے، تب بھی پیچھے رہ جانے میں بہت بڑے مفاسد اور عظیم فتنہ متحقق ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی، کبیرہ گناہ کے ارتکاب اور اس کے بہت بڑے بوجھ کو اٹھانے کی جسارت۔ رہا جہاد کے لیے نکلنا تو جہاد کے لیے نکلنے میں نہ نکلنے کی نسبت بہت تھوڑے مفاسد ہیں اور وہ بھی محض متوہم ہیں ۔ بایں ہمہ اس قائل کا مقصد پیچھے رہنے کے سوا کچھ بھی نہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک جہنم گھیر رہی ہے کافروں کو‘‘ جہنم سے بھاگ کر ان کے لیے کوئی جائے پناہ اور کوئی مفر نہیں ، جہنم سے ان کے لیے گلو خلاصی ہے نہ نجات۔