Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Kahf
Sura ta 18

Al-Kahf

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 28

وَٱصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُۥ عَن ذِكْرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمْرُهُۥ فُرُطًا 28

اور روک رکھیے اپنے آپ کو ساتھ ان لوگوں کے جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، وہ چاہتے ہیں چہرہ اس (اللہ) کااور نہ تجاوز کریں آپ کی آنکھیں ان سے، ارادہ کرتے ہیں آپ زینت کا زندگانیٔ دنیا کی اور مت اطاعت کریں آپ اس شخص کی کہ غافل کر دیا ہم نے اس کے دل کو اپنے ذکر سے اور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی اور ہے معاملہ اس کا حد سے بڑھا ہوا (28)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو اور دوسروں کو، جو اوامر و نواہی میں آپ کے نمونہ پر عمل پیرا ہیں ، حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مومنوں کے ساتھ جوڑے رکھیں جو اللہ کے بندے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ ﴾ ’’جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح وشام‘‘ یعنی دن کے پہلے اور آخری حصے میں ، اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بندگی اور اس میں ان کے اخلاص کو بیان کیا ہے۔ پس اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے، ان کی صحبت اختیار کرنے اور ان کے ساتھ اختلاط میں نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے۔ خواہ یہ نیک لوگ فقرا ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ان کی صحبت میں اتنے فوائد ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنٰكَ عَنۡهُمۡ﴾ ’’اور تمھاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کی نظریں ان سے تجاوز کریں نہ آپ اپنی نظروں کو ان سے ہٹائیں۔ ﴿ تُرِيۡدُ زِيۡنَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کی زندگی کی رونق کی تلاش میں ‘‘ کیونکہ یہ چیز نقصان دہ ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں یہ تمام دینی مصالح کی قاطع ہے یہ دنیا سے دل کے تعلق کی موجب بنتی ہے، دل میں اندیشے اور وسوسے جاگزیں ہو جاتے ہیں اور دل سے آخرت کی رغبت زائل ہو جاتی ہے۔ دنیا کی زیب و زینت دیکھنے والے کو بہت خوش کن نظر آتی ہے، قلب پر جادو کر دیتی ہے جس سے قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہو کر لذات و شہوات میں مگن ہو جاتا ہے تب وہ اپنے وقت کو ضائع کرکے اپنے معاملے میں کوتاہی کا شکار ہوتا ہے۔ وہ دائمی خسارے میں پڑ جاتا ہے اور ابدی ندامت اس کا نصیب بن جاتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا﴾ ’’اس شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو سزا دی کہ اسے اپنے ذکر سے غافل کر دیا۔ ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ﴾ ’’اور وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا‘‘ اس کے نفس نے جو چاہا وہ کیا اور اس کو پالینے کی کوشش کرنے لگا خواہ اس میں اس کی ہلاکت اور اس کے لیے خسارہ ہی کیوں نہ ہو۔ پس اس نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾(الجاثیۃ:45؍23) ’’کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا۔‘‘ ﴿ وَؔكَانَ اَمۡرُهٗ﴾ ’’اور اس کا کام ہے‘‘ یعنی اس کے دین و دنیا کے مصالح ﴿ فُرُطًا ﴾ ’’حد سے نکل جانا‘‘ یعنی ضائع اور معطل ہونے والے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی اطاعت سے روکا ہے کیونکہ اس کی اطاعت اس کی پیروی کرنے کی دعوت دیتی ہے، نیز اس لیے کہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے وہ خود متصف ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہی شخص اطاعت کے لائق اور لوگوں کا امام بننے کے قابل ہے جس کا دل محبت الٰہی سے لبریز ہو اور اس کی زبان پر محبت الٰہی کا فیضان ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرتا ہو اور اسے اپنے نفس کی خواہشات پر مقدم رکھتا ہو۔ پس اس طرح وہ اپنے وقت کی حفاظت کرے گا، اس کے تمام احوال درست اور تمام افعال ٹھیک ہو جائیں گے۔ وہ لوگوں کو اس چیز کی طرف دعوت دے گا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کیا ہے۔ پس یہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے اور اس کو امام بنایا جائے۔ آیت مقدسہ میں جس صبر کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر ہے۔ یہ صبر کی بلند ترین قسم ہے اس کی تکمیل سے صبر کی باقی تمام اقسام کی تکمیل ہوتی ہے۔ آیت مبارکہ سے ذکر الٰہی، دعا اور دن کے دونوں حصوں میں عبادت کا استحباب مستفاد ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل پر ان کی مدح کی ہے اور جس فعل پر اللہ تعالیٰ فاعل کی مدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس فعل کو پسند کرتا ہے تو اس کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا ہے۔