Al-Mujaadila 58:3
المجادلةوَٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا۟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں[1] تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے[2] ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے.
[1] اب اس حکم کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ رجوع کا مطلب ہے، بیوی سے ہم بستری کرنا چاہیں۔
[2] یعنی ہم بستری سے پہلے وہ کفارہ ادا کریں۔ 1۔ ایک غلام آزاد کرنا۔ 2۔ اس کی طاقت نہ ہو تو پے درپے بلاناغہ دو مہینے کے روزے۔ اگر درمیان میں بغیر عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دیا تو نئے سرے سے پورے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے بھی روزہ چھوڑے گا تو نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے۔ 3۔ اگر پے درپے دومہینے کے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر مسکین کو دو مد (نصف صاع یعنی سوا کلو) اور بعض کہتے ہیں ایک مد کافی ہے۔ لیکن قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اس طرح کھلایا جائے کہ وہ شکم سیر ہو جائیں یا اتنی ہی مقدار میں ان کو کھانا دیا جائے۔ ایک مرتبہ ہی سب کو کھلانا بھی ضروری نہیں بلکہ متعدد اقساط میں یہ تعداد پوری کی جاسکتی ہے۔(فتح القدیر) تاہم یہ ضروری ہے جب تک یہ تعداد پوری نہ ہوجائے، اس وقت تک بیوی سے ہم بستری جائز نہیں۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net