Ash-Shura 42:17
الشورىٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ وَٱلْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٌ
اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے اور ترازو بھی (اتاری ہے)[1] اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت قریب[2] ہی ہو.
[1] الکتاب سے مراد جنس ہے یعنی تمام پیغمبروں پر جتنی کتابیں بھی نازل ہوئیں، وہ سب حق اور سچی تھیں۔ یا بطور خاص قرآن مجید مراد ہے اور اس کی صداقت کو واضح کیا جا رہا ہے ۔میزان سے مراد عدل و انصاف ہے۔ عدل کو ترازو سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ یہ برابری اور انصاف کا آلہ ہے۔ اس کے ذریعے سے ہی لوگوں کے درمیان برابری ممکن ہے۔اسی کے ہم معنی یہ آیات بھی ہیں«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ» (الحديد:25) ”یقینا ہم نے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھجوایا اور ان کے ساتھ کتاب اور انصاف نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں“ ۔«وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ، أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ» (سورة الرحمن: 7-9) اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو ،انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں جمی نہ کرو"۔
[2] قريب، مذکر اور مونث دونوں کی صفت کے لیے آجاتا ہے۔ خصوصاً جب کہ موصوف مونث غیرحقیقی ہو۔ إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ۔ (فتح القدير)۔
معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com
عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net