سیدھے مواد پر جائیں
سورت 3 · آیت 142

Aal-i-Imraan 3:142

آل عمران

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَـٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّـٰبِرِينَ

معنی

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے[1] ، حاﻻنکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ﻇاہر نہیں کیا کہ تم سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟[2]

[1] یعنی بغیر قتال وشدائد کی آزمائش کے تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ نہیں بلکہ جنت ان لوگوں کو ملے گی جو آزمائش میں پورے اتریں گے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا»( البقرۃ: 214) ”کیا تم نے گمان (کیا کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھی، انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ خوب ہلائے گئے“ مزید فرمایا «أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ» (العنکبوت:2) ”کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی؟“۔
[2] یہ مضمون اس سے پہلے سورۂ بقرۃ میں گزر چکا ہے۔ یہاں موضوع کی مناسبت سے پھر بیان کیا جا رہا ہے کہ جنت یوں ہی نہیں مل جائے گی، اس کے لئے پہلے تمہیں آزمائش کی بھٹی سے گزارا اور میدان جہاد میں آزمایا جائے گا وہاں نرغۂ اعدا میں گھر کر تم سرفروشی اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کرتے ہو یا نہیں؟۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Aal-i-Imraan

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net