سیدھے مواد پر جائیں
سورت 3 · آیت 141

Aal-i-Imraan 3:141

آل عمران

وَلِيُمَحِّصَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَيَمْحَقَ ٱلْكَـٰفِرِينَ

معنی

(یہ وجہ بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بالکل الگ کر دے اور کافروں کو مٹا دے.[1]

[1] احد میں مسلمانوں کوجو عارضی شکست ان کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہوئی، اس میں بھی مستقبل کے لئے کئی حکمتیں پنہاں تھیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ آگے بیان فرما رہا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہر کر دے (کیونکہ صبر واستقامت ایمان کا تقاضا ہے) جنگ کی شدتوں اور مصیبتوں میں جنہوں نے صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا، یقیناً وہ سب مومن ہیں۔ دوسری یہ کہ کچھ لوگوں کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کر دے۔ تیسری یہ کہ ایمان والوں کو ان کے گناہوں سے پاک کر دے۔تَمْحِيصٌ کے ایک معنی اختیار (چن لینا) کے لئے گئے ہیں۔ ایک معنی تطہیراور ایک معنی تخلیص کے کئے گئے ہیں۔ آخری دونوں کا مطلب گناہوں سے پاکی اور خلاصی ہے۔ (فتح القدیر) مرحوم مترجم نے پہلے معنی کو اختیار کیا ہے۔ چوتھی، یہ کافروں کو ہٹا دے۔ اور اس طرح کہ وقتی فتح یابی سے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگا اور یہی چیز ان کی تباہی وہلاکت کا سبب بنے گی۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Aal-i-Imraan

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net