سیدھے مواد پر جائیں
سورت 2 · آیت 207

Al-Baqara 2:207

البقرة

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ

معنی

اور بعض لوگ وه بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں [1] اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے واﻻ ہے۔

[1] یہ آیت، کہتے ہیں حضرت صہیب (رضي الله عنه) رومی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ ہجرت کرنے لگے تو کافروں نے کہا کہ یہ مال سب یہاں کا کمایا ہوا ہے، اسے ہم ساتھ نہیں لے جانے دیں گے، حضرت صہیب (رضي الله عنه) نے یہ سارا مال ان کے حوالے کردیا اور دین ساتھ لے کر حضور جکی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے سن کر فرمایا: ”صہیب نے نفع بخش تجارت کی ہے“ دو مرتبہ فرمایا (فتح القدیر) لیکن یہ آیت بھی عام ہے، جو تمام مومنین متقین اور دنیا کے مقابلے میں دین کو اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کو شامل ہے، کیوں کہ اس قسم کی تمام آیات کے بارے میں، جو کسی خاص شخص یا واقعہ کے بارے میں نازل ہوئیں یہ اصول ہے: ”الْعِبْرَةُ بِعُمُومِ اللَّفْظِ لا بِخُصُوصِ السَّبَبِ“ یعنی لفظ کے عموم کا اعتبار ہوگا، سبب نزول کے خصوص کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ پس اخنس بن شریق (جس کا ذکر پچھلی آیت میں ہوا) برے کردار کا ایک نمونہ ہے جو ہر اس شخص پر صادق آئے گا جو اس جیسے برے کردار کا حامل ہوگا اور صہیب (رضي الله عنه) خیر اور کمال ایمان کی ایک مثال ہیں ہر اس شخص کے لئے جو ان صفات خیر وکمال سے متصف ہوگا۔

معنی: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. Translated by Muhammad Ibrahim Junagarhi, developed under the supervision of the Rowwad Translation Center. The original translation is available for the purpose of expressing opinion, evaluation, and continuous development. ورژن 1.1.3، 2025-08-13۔ QuranEnc.com

Al-Baqara

عربی متن Tanzil کا ہے، بغیر کسی تبدیلی کے۔ معانی اپنے ناشرین کے ایڈیشن ہیں، بغیر کسی تبدیلی کے؛ سبیل کے اپنے جائزہ لینے والوں نے ابھی ان کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی: Tanzil عثمانی متن، ورژن 1.1۔ ماخذ: tanzil.net