سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4641

نمبر 4641کتاب 44، نمبر 193
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ هُوَ لَكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو نَضْرَةَ وَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ‏.‏
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said:"We were traveling with the Messenger of Allah and I was riding a camel. The Messenger of Allah said to me: 'Will you sell it to me for such and such, may Allah forgive you?', I said, I said, 'Yes, it is yours, O Prophet of Allah.' He said: 'Will you sell it to me for such and such, may Allah forgive your?' I said: 'Yes, it is yours, O Prophet of "Allah.' He said: 'Will you sell it to me for such and such, may Allah forgives you?' I said: 'Yes, it is yours. '''(One of the narrators) Abu Nadrah said: "This became a phrase that was used by the Muslims: 'Do such and such, may Allah forgive you
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAbu Ghuddah
  • Sahih HadithAl-Albani
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 44 · The Book of Financial Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔