سیدھے مواد پر جائیں
سنن نسائی

نمبر 4640

نمبر 4640کتاب 44، نمبر 192
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنْتُ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا سَوْءٍ فَقُلْتُ لاَ يَزَالُ لَنَا نَاضِحُ سَوْءٍ يَا لَهْفَاهُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَبِيعُنِيهِ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَقَدْ أَعَرْتُكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ هَيَّأْتُهُ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ أَعْطِهِ ثَمَنَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا أَدْبَرْتُ دَعَانِي فَخِفْتُ أَنْ يَرُدَّهُ فَقَالَ ‏"‏ هُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated tat Jabir Said:"The Messenger of Allah caught up with me when I was riding a bad camel of ours, and I said: 'We have a bad camel, mare's the pit! The Prophet said: Will you sell it to me, O Jabir?' I Said, 'No, It is yours, O Messenger of Allah.; He said: 'O Allah forgive him; O Allah, have mercy on him. I will buy it for such and such, and I will lend it to you to ride until (we reach) al-Madinah.' When Reached al-Madinah, I prepared it, and brought it to him, and he said: O Bilal, give him its price,' When I turned to leave, he called me back, and I was afraid that he would give it back at he said: 'It is yours
ماخذ میں درج درجات
  • Daif IsnaadAbu Ghuddah
  • Daif IsnaadAl-Albani
  • SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔ ڈیٹا سیٹ میں اس کتاب کا اس زبان میں کوئی ترجمہ نہیں، اس لیے انگریزی دکھائی گئی ہے۔

کتاب 44 · The Book of Financial Transactions

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔