ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔
جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔
نافع نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا : " جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کےلئے آنے کاارادہ کرے تو وہ غسل کرے ۔
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمیر سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہوئے فرمایا : " تم میں سے جو جمعے کے لئے آئے غسل کرے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
ابن جریج نے کہا : ابن شہاب نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دونوں بیٹوں سالم اورعبداللہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانندروایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ . بِمِثْلِهِ .
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، . أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ . قَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ .
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن لوگوں کوخطاب فرمارہےتھے ( کہ اسی اثناء میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ایک شخص داخل ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں آوازدی : ( آنےکی ) یہ کون سی گھڑی ہے؟انھوں نے کہا : میں آج مصروف ہوگیا ، گھر لوٹتے ہیں میں نے اذان سنی اور صرف وضو کیا ( اورحاضر ہوگیاہوں ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اور وہ بھی ( صرف ) وضو؟حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کاحکم دیتے تھے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( ایک بار ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعے کے دن لوگوں کو خطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ اسی دوران میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر تعریف کی ( اعتراض کیا ) اور کہا : لوگوں کو کیا ہوا کہ اذان کےبعد دیر لگاتے ہیں؟حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں نے اذان سننے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ وضو کیا ہے اورحاضر ہوگیاہوں ، اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اور وہ بھی ( صرف ) وضو؟ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا : " جب تم میں سے کوئی جمعے کے لئے آئے تو وہ غسل کرے؟
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ فَتَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا " .
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جمعے کے لیے لو گ اپنے گھروں سے اور عوالی سے باری باری آتے تھے وہ اونی عبائیں پہنے ہو تے تھے اور ( راستے میں ) ان پر گردو غبار بھی پڑتا تھا جس کی وجہ سے ان سے بو پھوٹتی تھی ان میں سے ایک انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف فر ما تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا ہی اچھا ہو کہ تم لو گ اس دن کے لیے صاف ستھرے ہو جا یا کرو ۔
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : لو گ کا م کا ج والے تھے ان کے نوکر چاکر نہ ہو تے تھے وہ ایسے تھے کہ ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا : کیا ہی اچھا ہو کہ تم جمعے کے دن نہا لیا کرو ۔
سعید بن ابی بلال اور بکیر بن اشج نے ابو بکر بن منکد ر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن سلیم سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالگ شخص پر واجب ہے اور مسواک کرنا بھی اور ( ہر شخص ) اپنی استطاعت کے مطا بق خوشبو استعمال کرے ۔ "" البتہ بکیر نے ( سند میں ) عبد الرحمان کا ذکر نہیں کیا اورخوشبوکے بارے میں کہا : "" چاہے وہ عورت کی خوشبو کیوں نہ ہو ۔
روح بن عباوہ اور عبد الرزاق نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے ابراہیم بن میسر ہ نے طاوس سے خبر دی اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فر ما ن بیان کیا ۔ طاوس نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : اگر اس کے گھر والوں کے پاس موجود ہو تو وہ خوشبو تیل بھی استعمال کر سکتا ہے ؟انھوں نے ( جواب میں ) کہا : میں یہ بات نہیں جا نتا ۔
طاوس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر ما یا : ہر مسلمان پر اللہ تعا لیٰ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں ( کم سے کم ) ایک بار نہائے اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے جمعے کے دن جنابت کا غسل کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد کی جانب چل پڑا، اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری گھڑی میں نکلا۔ اس نے گویا ایک گائے کی قربانی دی۔ جو تیسری گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مینڈھے کی قربانی دی۔ جو چوتھی گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مرغی صدقے میں دی۔ جو پانچویں گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک انڈا صدقے میں دیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے، تو فرشتے حاضر ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔"
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر نے حدیث بیان کی ، ابن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے عقیل بن خالد سے خبر دی انھوں نے بن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو ( اس وقت ) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا : خاموش رہو تو تم نے فضول گو ئی کی ۔
عبد الملک بن شعیب بن لیث نے کہا : مجھ سے میرے والد شعیب نے میرے دادالیث سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : مجھ سے عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عمربن عبد العزیز سے انھوں نے عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ سے روایت کی نیز انھوں نے ( ابن شہاب زہری ) نے ابن مسیب سے بھی روا یت کی ان دو نوں ( عمربن عبد العزیز اور سعید بن مسیب ) نے ان ( بن شہاب سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا ۔ ۔ ۔ ( آگے اسی سند حدیث ) کے مانند ہے ۔
ابن جریج نے کہا : ابن شہاب نے مجھے اس حدیث کی دونوں سندوں کے ساتھ اس حدیث میں اسی کے مانند خبردی البتہ ابن جریج نے ( عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ کے بجا ئے ) ابرا ہیم بن عبد اللہ بن قارظ کہا ہے ۔ ( امام مسلم نے نا م کی درستی کے لیے یہ سند بیان کی)
ابو زناد نے عرج سے انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو ( اس وقت ) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا : خا مو ش رہو تو تم نے ( خود ) شور مچا یا ۔ "" ابو زناد نے کہا : یہ ( فقد لغيت ) ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے قبیلے ) کی لغت ہے جبکہ ( عام مروج لغت ) ( فقد لغوت ) ہے ۔
یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس انھوں نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا ذکر کرتے ہو ئے فر ما یا : "" اس میں ایک گھڑی ہے اس ( گھڑی ) کی موافقت کرتے ہو ئے کو ئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہو ئے اللہ تعا لیٰ سے جو کچھ بھی مانگتا ہے اللہ تعا لیٰ اسے عطا کر دیتا ہے ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارا فر ما کر اس گھڑی کے قلیل ہو نے کو واضح کیا ۔
ایوب نے محمد سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بیشک جمعے کے دن میں ایک گھڑی ہے کوئی مسلمان بھی کھڑا نماز پڑھتے ہو ئے اس کی موافقت کر لیتا ( اسے پالیتا ) ہے ( اور ) اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی ( خیر ) عطا کر دیتا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ سے اس کے قلیل اور کم ہو نے کو بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ابن عون نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے ما نند ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
سلمہ بن علقمہ نے محمد سے اورانھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ہے
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ
محمد بن زیاد نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فر ما یا " جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت نہیں کرتا مگر اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے " فر ما یا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَقُلْ وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی لیکن انھوں نے ( وهي ساعة خفيفة ) ( وہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ) نہیں کہا ۔
ابو بردہ بن ابی مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہا : مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا تم نے اپنے والد کو جمعے کی گھڑی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ہے ؟کہ کہا : میں نے کہا : جی ہاں میں نے انھیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے : " یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہو نے تک ہے ۔
ابن شہاب نے کہا : مجھے عبد الرحمٰن اعرج نے خبر دی انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بہترین دن جس پر سورج طلوع ہو تا ہے جمعے کا دن ہے اسی دن آدم ؑپیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن اس سے نکا لے گئے ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "سب سے افضل دن جس میں سورج نکلا، جمعے کا دن ہے۔ اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن جنت سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔"
عمر و ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب سے آخری ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہو ں گے یہ اس کے باوجود ہے کہ ہر امت کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی پھر یہ دن جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا تھا اللہ تعا لیٰ نے اس کے لیے ہماری رہنما ئی فر ما ئی لو گ اس معاملے میں ہمارے بعد ہیں یہود کل ( جمعے سے اگلا دن یعنی ہفتہ منا ئیں گے ) اور نصاریٰ پرسوں ( ہفتےسے اگلا دن اتوار کا منا ئیں گے ۔)
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی نیز ( سفیان نے عبد اللہ ) بن طاوس سے انھوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہو ں گے ۔ ۔ ۔ " اسی ( مذکورہ با لا حدیث ) کے مانند ہے
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم آخری ہیں ( پھر بھی ) قیامت کے دن پہلے ہو ں گے اور ہم ہی پہلے جنت میں داخل ہوں گے البتہ انھیں ( انکی ) کتاب ہم سب سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی انھوں نے ( آپس میں ) اختلا ف کیا اور اللہ تعا لیٰ نے ہماری اس حق کی طرف رہنما ئی فر ما ئی جس میں انھوں نے اختلا ف کیا تھا یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن تھا جس کے بارے میں انھوں نے اختلا ف کیا اللہ تعا لیٰ نے ہمیں اس کی طرف رہنما ئی کردی ۔ ۔ ۔ راوی نے کہا : جمعے کا دن مرادہے ۔ ۔ آج کا دن ہمارا ہے اور کل کا دن یہودیوں کا ہے اس سے اگلا دن عیسائیوں کا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ وَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
وہب بن منبہ کے بھا ئی ہمام بن منبہ نے کہا : یہ حدیث ہے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ہم آخری ہیں ( مگر ) قیامت کے دن سبقت لے جا نے والے ہو ں گے اس کے باوجود کہ ان کے بعد دی گئی اور یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا اور وہ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑگئے پھر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فر ما ئی اس لیے وہ لو گ اس ( عبادت کے دن کے ) معاملے میں ہم سے پیچھے ہیں یہود ( اپنا دن ) کل منا ئیں گے اور عیسا ئی پر سوں ۔
ابو کریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا : ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی ( سعد بن طارق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو حازم سے اورانھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز انھوں ( ابو مالک ) نے ربعی بن حراش سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں ( صحابیوں ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں جمعہ کی راہ سے ہٹادیا ، اس لئے یہود کے لئے ہفتے کا دن ہوگیا اور نصاریٰ کے لئے اتوار کا دن ۔ پھراللہ تعالیٰ نے ہمیں ( اس دنیا میں لایا ) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری راہنمائی فرمادی ۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا ( جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں ) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے ۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کےدن سب سے پہلے ہوں گے ۔ جن کا فیصلہ ( باقی ) مخلوقات سے پہلے کردیا جائے گا ۔ "" واصل کی روایت میں ( المقضي لهم کی جگہ ) المقضي بينهم ( جن کے درمیان فیصلہ ) ہے ۔
ابن ابی زائدہ نے ( ابومالک ) سعد بن طارق سے خبر دی ، انھوں نے کہا : ربعی بن حراش نے مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہماری راہنمائی جمعے کی طرف کی گئی اور جو لوگ ہم سے پہلے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے ا س سےدوسری راہ پر لگادیا ۔ ۔ ۔ " آگے ابن فضیل کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
ابوعبداللہ اغر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو ( آنے والوں کی ترتیب کے مطابق ( پہلے پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں ، اور جب امام ( منبر پر ) بیٹھ جاتا ہے تو وہ ( ناموں والے ) صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اورآکرذکر ( خطبہ ) سنتے ہیں ۔ اور گرمی میں ( پہلے ) آنے والے کی مثال اس انسان جیسی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہےپھر ( جو آیا ) گویا وہ گائے قربان کردیتا ہے ۔ پھر ( جو آیا ) گویا وہ مینڈھا قربان کردیتاہے ، پھر ( جو آیا ) گویا وہ تقرب کے لئے مرغی پیش کرتاہے پھر ( جو آیا ) گویا وہ تقریب کے لئے انڈا پیش کرتا ہے ۔
سہیل کے والد ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتاہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے ۔ آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی ، پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ ( آخر میں ) انڈے جیسے چھوٹے ( صدقے ) کی مثال دی ۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو ( اندراج کے ) صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور ( فرشتے ) ذکر ونصیحت ( سننے ) کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں ۔
سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ آپ نے فرمایا : " جس نے غسل کیا ، پھر جمعے کے لئے حاضر ہوا ، پھر اس کے مقدر میں جتنی ( نفل ) نماز تھی پڑھی ، پھر خاموشی سے ( خطبہ ) سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہوگیا ، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی ، اس کے اس جمعے سے لے کر ایک اور ( پچھلے یا اگلے ) جمعے تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مزید تین دنوں کے بھی ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے خوب اچھی طرح وضو کیا اور پھر جمعہ پڑھنے آیا اور خاموش ہو کر خطبہ سنا، تو اس کے جمعہ سے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس نے ( جمعہ کے دوران) کنکر کو چھوا، اس نے لغو کام کیا۔"
حسن بن عیاش نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد ( محمد ) سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، پھر واپس آتے ، پھر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کا وقت دیتے ، حسن نےکہا : میں نے جعفر سے کہا : یہ ( نماز ) کس وقت ہوتی؟انھوں نے کہا : سورج کے ڈھلنے کے وقت ۔
قاسم بن زکریا نے کہا : ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی ، نیز عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حسان نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( خالد اوریحییٰ ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن بلال نے جعفر سےحدیث بیا ن کی ، انھوں نےاپنے والد ( محمد ) سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت جمعہ پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا : آپ جمعہ پڑھاتے ، پھر ہم اونٹوں کے پاس جاتے ، پھر انہیں آرام کا وقت دیتے ۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : جس وقت سورج ڈھل جاتا ۔ ( جمال سے مراد ) تواضح ، یعنی پانی لانے والے اونٹ ہیں ۔
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب ، یحییٰ بن یحییٰ اور علی بن حجر میں سے یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہم سے حدیث بیا ن کی عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے ۔ ( علی ) ابن حجر نے اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ۔
وکیع نے یعلیٰ بن حارث محاربی سے روایت کی ، انھوں نے ایاس بن سلمہ بن اکوع سے اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب سورج ڈھلتا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے ، پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے لوٹتے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ .
ہشام بن عبدالملک نے یعلیٰ بن حارث سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے پھر لوٹتے تو ہمیں دیواروں کا اتنا بھی سایہ نہ ملتا کہ ہم ( سورج سے ) اس کی اوٹ لے سکیں ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے ، پھر ( تھوڑی دیر ) بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوجاتے ۔ کہا : جس طرح آجکل ( خطبہ دینے والے ) کرتے ہیں ۔
ابو احوص نے سماک سے اور انھوں نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے درمیان آپ بیٹھتے تھے ۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت اور تذکیر فرماتے ۔
ابو خثیمہ نے سماک سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر خطبہ دیتے تھے ، پھر بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوتے اور کھڑے ہوکر خطبہ دیتے ، اس لئے جس نے تمھیں یہ بتایا کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے ، اس نے جھوٹ بولا ۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں ۔ ( جن میں بہت سے جمعے بھی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام خطبے کھڑے ہوکر دیے ۔)
جریر نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کےی دن کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آگیا ، لوگوں نے اس کا رخ کرلیا حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا تویہ آیت نازل کی گئی جو سورہ جمعہ میں ہے : " اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ . وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا .
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا : ( جب تجارتی قافلہ آیاتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ۔ یہ نہیں کہا : کھڑے ہوئے ۔
خالد طحان نے حصین سے روایت کی ، انھوں نے سالم اور ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار ( سامان بیچنے والوں کا قافلہ ) آگیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور ( صرف ) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا ، میں بھی ان میں تھا ، کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : " اور جب وہ تجارت یاکوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آ پ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں " آیت کے آخر تک ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، وَسَالِمِ، بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - قَالَ - وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا}
ہشیم نے کہا : ہمیں حصین نے ابو سفیان اور سالم بن ابی جعد سے خبر دی ، انھوں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے بیان کیا ، ایک بار جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوئے ( خطبہ دے رہے ) تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ آگیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپک پڑے حتیٰ کہ آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا ۔ ان میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے ۔ کہا : تو ( اس پر ) یہ آیت اتری : " اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں ۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔
93 میں سے 50
93 روایات · نمبر 1951–2043
عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔