سیدھے مواد پر جائیں
صحیح مسلم

نمبر 1514

نمبر 1514کتاب 5، نمبر 347عربی نمبر شمار 663.01
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ رَجُلاً أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ - قَالَ - فَقِيلَ لَهُ أَوْ قُلْتُ لَهُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ وَفِي الرَّمْضَاءِ ‏.‏ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَاىَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ ‏"‏ ‏.‏
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار میں ایک آدمی تھا میں نہیں جانتا کہ کسی اور شخص کا گھر مسجد سے اس سے زیادہ دور تھا، اور اس سے کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی۔ تو اس سے کہا گیا: اگر تو ایک گدھا خرید لے جس پر تو اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں سوار ہو کر آیا کرے؟ اس نے کہا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور پھر وہاں سے میرا لوٹنا، جب میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹوں یہ سب کچھ میرے حساب میں لکھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے یہ سب تیرے لیے جمع کردیا ہے“۔

ترجمہ: HadeethEnc.comاس کی تشریح

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

جہاں ترجمہ شدہ احادیثِ نبویہ کے انسائیکلوپیڈیا (HadeethEnc.com) میں کسی روایت کا بعینہٖ متن موجود ہے، وہاں اس کا ترجمہ اسی روایت کے نیچے ماخذ کے نام کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ دونوں کو پروگرام کے ذریعے، صرف عربی متن کی بنیاد پر جوڑا گیا ہے: انسائیکلوپیڈیا کی حدیث کا پورا متن، اس میں مذکور صحابی کے نام سمیت، روایت کا آخری حصہ ہے، حرف بہ حرف۔ اس جوڑ کو کسی نے نہیں جانچا، اور سبیل کے جائزہ کاروں نے ترجمے کا جائزہ نہیں لیا۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 5 · The Book of Mosques and Places of Prayer

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔