نمبر 1513کتاب 5، نمبر 346عربی نمبر شمار 662
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاَةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى فَأَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ " حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ " .
عبداللہ بن براداشعری اور ابو کریب دونوں نے کہا : ہم سے ابو اسامہ نے برید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوبردہ سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ‘ ‘ نماز میں سب سے زیادہ ثواب اس کا ہے جو اس کے لیے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے ۔ پھر ( اس کے بعد ) جو ان میں سے سب سے زیادہ دور سے چل کر آتا ہے ۔ اور جوآدمی نماز کا انتظار کرتا ہے تاکہ اسے امام کے ساتھ ادا کرے ، اجر میں اس سے بہت بڑھ کر ہے جو نماز پڑھتا ہے ، پھر سو جاتا ہے ۔ ’’ ابو کریب کی روایت میں ہے : ‘ ‘ یہاں تک کہ وہ اسے امام کے ساتھ جماعت میں ادا کرے ۔ ’’
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔