سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 420

نمبر 420کتاب 9، نمبر 95
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ لإِنْسَانٍ إِنَّكَ فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ قُرَّاؤُهُ تُحْفَظُ فِيهِ حُدُودُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُرُوفُهُ قَلِيلٌ مَنْ يَسْأَلُ كَثِيرٌ مَنْ يُعْطِي يُطِيلُونَ فِيهِ الصَّلاَةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ يُبَدُّونَ أَعْمَالَهُمْ قَبْلَ أَهْوَائِهِمْ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ قُرَّاؤُهُ يُحْفَظُ فِيهِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُدُودُهُ كَثِيرٌ مَنْ يَسْأَلُ قَلِيلٌ مَنْ يُعْطِي يُطِيلُونَ فِيهِ الْخُطْبَةَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلاَةَ يُبَدُّونَ فِيهِ أَهْوَاءَهُمْ قَبْلَ أَعْمَالِهِمْ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا ایک شخص سے تم ایسے زمانے میں ہو کہ عالم اس میں بہت ہیں صرف لفظ پڑھنے والے کم ہیں عمل زیادہ کیا جاتا ہے قرآن کے حکموں پر اور لفظوں کا ایساخیال نہیں کیا جاتا پوچھنے والے کم ہیں جواب دینے والے بہت ہیں یا بھیک مانگنے والے کم ہیں اور دینے والے بہت ہیں لمبا کرتے ہیں نماز کو اور چھوٹا کرتے ہیں خطبہ کو نیک عمل پہلے کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے اور قریب ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کم ہوں گے عالم اس وقت میں الفاظ پڑھنے والے بہت ہوں گے یاد کئے جائیں گے الفاظ قرآن کے اور اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے گا پوچھنے والے اور مانگنے والے بہت ہوں گے اور جواب دینے والے اور دینے والے بہت کم ہوں گے لمبا کریں گے خطبہ کو اور چھوٹا کریں گے نماز کو اپنی خواہش نفس پر چلیں گے اور عمل نیک نہ کریں گے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 9 · Shortening the Prayer

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔