سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

کتاب 9 · Shortening the Prayer

102 روایات · نمبر 326–427

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

نمبر 326کتاب 9، نمبر 1
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ ‏.‏
اعرج سے روایت ہے کہ رسول اللہ جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفر تبوک میں
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 327کتاب 9، نمبر 2
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ - قَالَ - فَأَخَّرَ الصَّلاَةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَهَا فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ وَالْعَيْنُ تَبِضُّ بِشَىْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالاَ نَعَمْ ‏.‏ فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَىْءٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ فَاسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى هَا هُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک کے سال تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع کرتے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر داخل ہوئے ایک مقام میں پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤں گے تبوک کے چشمہ پر سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس کا پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آلوں پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چھوا تم نے اس کا پانی بولے ہاں سو خفا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے پھر لوگوں نے چلووں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انے اپنے منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریب ہے اے معاذ اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 328کتاب 9، نمبر 3
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کر لیتے مغرب اور عشاء کو ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 329کتاب 9، نمبر 4
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور بغیر سفر کے امام مالک نے کہا میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہوگا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 330کتاب 9، نمبر 5
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا جَمَعَ الأُمَرَاءُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي الْمَطَرِ جَمَعَ مَعَهُمْ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمع کر لیتے حاکموں کے ساتھ مغرب اور عشاء بارش کے وقت میں۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 331کتاب 9، نمبر 6
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ نَعَمْ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ أَلَمْ تَرَ إِلَى صَلاَةِ النَّاسِ بِعَرَفَةَ
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 332کتاب 9، نمبر 7
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ يَوْمَهُ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ لَيْلَهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ‏.‏
ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں بولے کچھ حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کر تے ہیں ۔ امام زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiSalim al-Hilali
نمبر 333کتاب 9، نمبر 8
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجِدُ صَلاَةَ الْخَوْفِ وَصَلاَةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلاَ نَجِدُ صَلاَةَ السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ ‏.‏
امیہ بن عبداللہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضرت کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اے بھیتجے میرے اللہ جل جلالہ نے بھیجا ہمارے طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih LighairihiSalim al-Hilali
نمبر 334کتاب 9، نمبر 9
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ ‏.‏
حضرت ام المومنیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ کہا انہوں نے نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئیں تھیں حضر میں اور سفر میں بعد اس کے سفر میں نماز اپنے حال پر رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 335کتاب 9، نمبر 10
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتَ أَبَاكَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَالِمٌ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ بِذَاتِ الْجَيْشِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ بِالْعَقِيقِ ‏.‏
یحیی بن سعید نے کہا سالم بن عبداللہ سے کہ تم نے اپنے باپ کو کہاں تک دیر کرتے دیکھا مغرب کی نماز میں سفر میں سالم نے کہا آفتاب ڈوب گیا تھا اور ہم اس وقت ذات الجیش میں تھے پھر نماز پڑھی مغرب کی عقیق میں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 336کتاب 9، نمبر 11
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا قَصَرَ الصَّلاَةَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب مدینہ سے نکلتے مکہ کو حج یا عمرہ کے لئے تو قصر کر تے نماز کو ذوالحلیفہ سے
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 337کتاب 9، نمبر 12
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَكِبَ إِلَى رِيمٍ فَقَصَرَ الصَّلاَةَ فِي مَسِيرِهِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر مدینہ سے سوار ہوئے ریم کو جانے کے لئے تو قصر کیا نماز کو راہ میں
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 338کتاب 9، نمبر 13
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَكِبَ إِلَى ذَاتِ النُّصُبِ فَقَصَرَ الصَّلاَةَ فِي مَسِيرِهِ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَبَيْنَ ذَاتِ النُّصُبِ وَالْمَدِينَةِ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سوار ہوئے مدینہ سے ذات النصب کو تو قصر کیا نماز کو راہ میں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 339کتاب 9، نمبر 14
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ إِلَى خَيْبَرَ فَيَقْصُرُ الصَّلاَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر سفر کرتے تھے مدینہ سے خیبر کا تو قصر کرتے تھے نماز کو۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 340کتاب 9، نمبر 15
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ فِي مَسِيرِهِ الْيَوْمَ التَّامَّ ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قصر کرتے تھے نماز کو پورے ایک دن کی مسافت میں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 341کتاب 9، نمبر 16
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْبَرِيدَ فَلاَ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 342کتاب 9، نمبر 17
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ فِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ وَفِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَعُسْفَانَ وَفِي مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَجُدَّةَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا تُقْصَرُ إِلَىَّ فِيهِ الصَّلاَةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَقْصُرُ الَّذِي يُرِيدُ السَّفَرَ الصَّلاَةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ بُيُوتِ الْقَرْيَةِ وَلاَ يُتِمُّ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلَ بُيُوتِ الْقَرْيَةِ أَوْ يُقَارِبُ ذَلِكَ ‏.‏
نافع سفر کرتے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ ایک برید کا تو نہیں قصر کرتے تھے نماز کا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس قصر کرتے تھے نماز کو اس قدر مسافرت میں جتنی مکہ اور طائف کے بیچ میں ہے اور جتنی مکہ اور عسفان کے بیچ میں ہے اور جتنی مکہ اور جدہ کے بیچ میں ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 343کتاب 9، نمبر 18
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ أُصَلِّي صَلاَةَ الْمُسَافِرِ مَا لَمْ أُجْمِعْ مُكْثًا وَإِنْ حَبَسَنِي ذَلِكَ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ لَيْلَةً ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عرم کہتے تھے میں نماز قصر کیا کرتا ہوں جب تک نیت نہیں کرتا اقامت کی اگرچہ بارہ راتوں تک پڑا رہوں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 344کتاب 9، نمبر 19
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ لَيَالٍ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ إِلاَّ أَنْ يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فَيُصَلِّيهَا بِصَلاَتِهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر مکہ میں دس رات تک ٹھہرے رہے اور نماز کا قصر کرتے رہے مگر جب امام کے ساتھ پڑھتے تو پوری پڑھ لیتے۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 345کتاب 9، نمبر 20
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ مَنْ أَجْمَعَ إِقَامَةً أَرْبَعَ لَيَالٍ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَتَمَّ الصَّلاَةَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ صَلاَةِ الأَسِيرِ فَقَالَ مِثْلُ صَلاَةِ الْمُقِيمِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مُسَافِرًا ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص نیت کرے چار رات کے رہنے کی تو وہ پورا پڑھے نماز کو ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 346کتاب 9، نمبر 21
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ يَا أَهْلَ مَكَّةَ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب جب مدینہ سے مکہ آئے تو جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیتے پھر کہتے اے مکہ والو تم اپنی نماز پوری پڑھو کیونکہ میں مسافر ہوں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 347کتاب 9، نمبر 22
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 348کتاب 9، نمبر 23
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي وَرَاءَ الإِمَامِ بِمِنًى أَرْبَعًا فَإِذَا صَلَّى لِنَفْسِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر امام کے پیچھے منی میں چار رکعتیں پڑھتے تھے اور جب اکیلے پڑھتے تھے تو دو رکعتیں پڑھتے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 349کتاب 9، نمبر 24
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُمْنَا فَأَتْمَمْنَا ‏.‏
صفوان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر عیادت کرنے آئے عبداللہ بن صفوان کے پاس تو دو رکعتیں پڑھائیں پھر جب انہوں نے سلام پھیرا ہم اٹھے اور پورا کیا نماز کو ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 350کتاب 9، نمبر 25
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي مَعَ صَلاَةِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ شَيْئًا قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا إِلاَّ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الأَرْضِ وَعَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ ‏.‏
عبداللہ بن عمر سفر میں فرض کے ساتھ نفل نہیں پڑھتے تھے نہ آگے فرض کے نہ بعد فرض کے مگر رات کو زمین پر اتر کے اور کبھی اونٹ ہی پر نفل پڑھتے تھے اگرچہ منہ اونٹ کا قبلہ کی طرف نہ ہوتا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن نفل پڑھا کر تے تھے سفر میں ۔ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے بیٹے عبیداللہ کو سفر میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے پھر کچھ انکار نہ کر تے تھے ان پر ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 351کتاب 9، نمبر 26
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَأَبَا، بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانُوا يَتَنَفَّلُونَ فِي السَّفَرِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ النَّافِلَةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu DaifSalim al-Hilali
نمبر 352کتاب 9، نمبر 27
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، قَالَ بَلَغَنِي عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَرَى ابْنَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَنَفَّلُ فِي السَّفَرِ فَلاَ يُنْكِرُ عَلَيْهِ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 353کتاب 9، نمبر 28
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے گدھے پر اور رخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کی جانب تھا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 354کتاب 9، نمبر 29
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اونٹ پر سفر میں جس طرف اونٹ کا منہ ہوتا تھا اسی طرف اپنا منہ کرتے تھے عبداللہ بن دینار نے کہا کہ عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 355کتاب 9، نمبر 30
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي السَّفَرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ إِيمَاءً مِنْ غَيْرِ أَنْ يَضَعَ وَجْهَهُ عَلَى شَىْءٍ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت انس کو نماز پڑھتے تھے سفر میں گدھے پر اور منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ تھا رکوع اور سجدہ اشارہ سے کر لیتے تھے بغیر اس امر کے کہ منہ اپنا کسی چیز پر رکھیں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 356کتاب 9، نمبر 31
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ‏.‏
ام ہانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال مکہ فتح ہوا آٹھ رکعتیں چاشت کی پڑھیں ایک کپڑا اوڑھ کر ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 357کتاب 9، نمبر 32
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ - قَالَتْ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً أَجَرْتُهُ فُلاَنُ بْنُ هُبَيْرَةَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَلِكَ ضُحًى ‏.‏
ام ہانی سے روایت ہے کہ میں گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس سال فتح ہوا مکہ تو پایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرتے ہوئے فاطمہ بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھپائے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے کہا ام ہانی نے سلام کیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون ہے میں نے کہا ام ہانی بیٹی ابوطالب کی تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی ہو ام ہانی کو پھر جب فارغ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ایک کپڑا پہن کر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی علی کہتے ہیں میں مار ڈالوں گا اس شخص کو جس کو تو نے پناہ دی ہے وہ شخص فلاں بیٹا ہبیرہ کا ہے پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم نے پناہ دی اس شخص کو جس کو توں نے پناہ دی اے ام ہانی۔ کہا امی ہانی نے اس وقت چاشت کا وقت تھا ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 358کتاب 9، نمبر 33
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لأُسَبِّحُهَا وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ‏.‏
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ انہوں نے کہا نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز چاشت کی پڑھتے ہوئے کبھی بھی مگر میں پڑھتی ہوں اس کو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ ایک بات کو دوست رکھتے تھے مگر اس کو نہیں کرتے تھے اس خوف سے کہ لوگ بھی اس کو کرنے لگیں اور وہ فرض ہو جائے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 359کتاب 9، نمبر 34
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَاىَ مَا تَرَكْتُهُنَّ ‏.‏
حضرت ام المومنین حضرت عائشہ نماز ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھا کرتیں پھر کہتیں اگر میری ماں اور باپ جی اٹھیں تو بھی میں ان رکعتوں کو نہ چھوڑوں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 360کتاب 9، نمبر 35
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ ‏.‏
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا پھر فرمایا کہ کھڑے ہو تاکہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے کہا انس نے پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہو گیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے اور کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بڑھیاں نے پیچھے ہمارے تو پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پھر چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 361کتاب 9، نمبر 36
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْهَاجِرَةِ فَوَجَدْتُهُ يُسَبِّحُ فَقُمْتُ وَرَاءَهُ فَقَرَّبَنِي حَتَّى جَعَلَنِي حِذَاءَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا جَاءَ يَرْفَأُ تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ ‏.‏
عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں گیا عمر بن خطاب کے پاس گرمی کے وقت تو پایا میں نے ان کو نفل پڑھتے ہوئے پس کھڑا ہونے لگا میں یچھے ان کے سو قریب کر لیا انہوں نے مجھ کو اور کھڑا کیا آپ نے برابر داہنی طرف بعد اس کے جب آیا یرفا تو پیچھے ہٹ گیا میں اور صف باندھی ہم دونوں نے پیچھے حضرت عمر کے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 362کتاب 9، نمبر 37
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے جانے نہ دے اگر کوئی جانا چاہے تو اس کو اشارہ سے منع کرے اگر نہ مانے تو پھر زور سے منع کرے اس لئے کہ وہ شیطان ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 363کتاب 9، نمبر 38
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً ‏.‏
ابو جہیم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کتنا عذاب ہے اس پر تو چالیس (دن، یا مہنے، یابرس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 364کتاب 9، نمبر 39
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ كَعْبَ الأَحْبَارِ، قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب الاحبار نے کہا جو شخص گزرتا ہے نمازی کے سامنے سے اگر اس کو معلوم ہو عذاب اس فعل کا تو اگر دھنس جائے زمین میں تو اچھا معلوم ہو اس کو سامنے سے گزر جانے سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ تھے عبداللہ بن عمر ناپسند سمجھتے تھے یہ کہ وہ گزرے عورتوں کے آگے سے اور وہ نماز پڑھ رہی ہوں ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali
نمبر 365کتاب 9، نمبر 40
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُرَّ، بَيْنَ أَيْدِي النِّسَاءِ وَهُنَّ يُصَلِّينَ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 366کتاب 9، نمبر 41
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ أَحَدٍ وَلاَ يَدَعُ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں گزرتے تھے نماز میں کسی کے سامنے سے اور نہ اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے دیتے تھے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 367کتاب 9، نمبر 42
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاِحْتِلاَمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لِلنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَىَّ أَحَدٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اور سن میرا قریب بلوغ کے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے منی میں تو گزر گیا میں تھوڑا صف کے سامنے سے پھر اترا میں اور چھوڑ دیا گدھی کو وہ چرتی رہی اور میں صف میں شریک ہو گیا بعد نماز کے کسی نے کچھ برا نہ مانا ۔ امام مالک کو پہنچا سعد بن ابی وقاص صفوں کے سامنے سے گزر جاتے تھے نماز میں ۔ ا امام مالک کو پہنچا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے تھے نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے تو نماز اس کی نہیں ٹوٹتی ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihSalim al-Hilali
نمبر 368کتاب 9، نمبر 43
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىْ بَعْضِ الصُّفُوفِ وَالصَّلاَةُ قَائِمَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَبَعْدَ أَنْ يُحْرِمَ الإِمَامُ وَلَمْ يَجِدِ الْمَرْءُ مَدْخَلاً إِلَى الْمَسْجِدِ إِلاَّ بَيْنَ الصُّفُوفِ ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 369کتاب 9، نمبر 44
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 370کتاب 9، نمبر 45
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ مِمَّا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي ‏.‏
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ نمازی کے سامنے سے کوئی چیز بھی گزر جائے مگر اس کی نماز نہیں ٹوٹتی ۔ امام مالک کو پہنچا عبداللہ بن عمر اپنے اونٹ کو سترہ بنا لیتے جب نماز پڑھتے سفر میں
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 371کتاب 9، نمبر 46
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَسْتَتِرُ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا صَلَّى ‏.‏
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 372کتاب 9، نمبر 47
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، كَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نماز پڑھتے تھے صحرا میں بغیر سترہ کے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 373کتاب 9، نمبر 48
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْقَارِئِ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذَا أَهْوَى لِيَسْجُدَ مَسَحَ الْحَصْبَاءَ لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ مَسْحًا خَفِيفًا ‏.‏
ابو جعفر قاری سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے عبداللہ بن عمر کو جب جھکتے تھے سجدہ کرنے کے لئے اور اپنے سجدہ کے مقام سے ہلکا سا کنکریوں کو ہٹا دیتے تھے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
نمبر 374کتاب 9، نمبر 49
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، كَانَ يَقُولُ مَسْحُ الْحَصْبَاءِ مَسْحَةً وَاحِدَةً وَتَرْكُهَا خَيْرٌ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ پہنچا ان کو ابوذر کہتے تھے کنکریوں کا ایک بار ہٹانا درست ہے اور نہ ہٹانا سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf DaifSalim al-Hilali
نمبر 375کتاب 9، نمبر 50
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَإِذَا جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ كَبَّرَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب لوگوں کو صفیں برابر کرنے کا حکم دیتے تھے جب وہ لوگ لوٹ کر خبر دیتے کہ صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر کہتے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali
102 میں سے 50
102 روایات · نمبر 326–427

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔