نمبر 1015کتاب 22، نمبر 2
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ " مَا بَالُ هَذَا " . فَقَالُوا نَذَرَ أَنْ لاَ يَتَكَلَّمَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ وَلاَ يَجْلِسَ وَيَصُومَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ " . قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ بِكَفَّارَةٍ وَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتِمَّ مَا كَانَ لِلَّهِ طَاعَةً وَيَتْرُكَ مَا كَانَ لِلَّهِ مَعْصِيَةً .
حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث پوچھا لوگوں نے کہا اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا نہ سایہ لوں گا نہ بیٹھوں گا اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے ۔
ماخذ میں درج درجات
- Sahih LighairihiSalim al-Hilali