سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 1014

نمبر 1014کتاب 22، نمبر 1
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ عَلَىَّ مَشْىٌ فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ فَقَالُوا عَلَيْكَ هَدْىٌ ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ عُلَمَاءَهَا فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مَرَّةً أُخْرَى مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ فَمَشَيْتُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فَالأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ يَقُولُ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ رَكِبَ ثُمَّ عَادَ فَمَشَى مِنْ حَيْثُ عَجَزَ فَإِنْ كَانَ لاَ يَسْتَطِيعُ الْمَشْىَ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَرْكَبْ وَعَلَيْهِ هَدْىُ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَوْ شَاةٍ إِنْ لَمْ يَجِدْ إِلاَّ هِيَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ أَنَا أَحْمِلُكَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَقَالَ مَالِكٌ إِنْ نَوَى أَنْ يَحْمِلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْمَشَقَّةَ وَتَعَبَ نَفْسِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلْيَمْشِ عَلَى رِجْلَيْهِ وَلْيُهْدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى شَيْئًا فَلْيَحْجُجْ وَلْيَرْكَبْ وَلْيَحْجُجْ بِذَلِكَ الرَّجُلِ مَعَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ أَنَا أَحْمِلُكَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَإِنْ أَبَى أَنْ يَحُجَّ مَعَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِنُذُورٍ مُسَمَّاةٍ مَشْيًا إِلَى بَيْتِ اللَّهِ أَنْ لاَ يُكَلِّمَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ بِكَذَا وَكَذَا نَذْرًا لِشَىْءٍ لاَ يَقْوَى عَلَيْهِ وَلَوْ تَكَلَّفَ ذَلِكَ كُلَّ عَامٍ لَعُرِفَ أَنَّهُ لاَ يَبْلُغُ عُمْرُهُ مَا جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ هَلْ يُجْزِيهِ مِنْ ذَلِكَ نَذْرٌ وَاحِدٌ أَوْ نُذُورٌ مُسَمَّاةٌ فَقَالَ مَالِكٌ مَا أَعْلَمُهُ يُجْزِئُهُ مِنْ ذَلِكَ إِلاَّ الْوَفَاءُ بِمَا جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنَ الزَّمَانِ وَلْيَتَقَرَّبْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا اسْتَطَاعَ مِنَ الْخَيْرِ ‏.‏
یحیی بن سعید نے کہا میں نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر کی تھی میری ناف میں درد ہونے لگا میں سوار ہو کر مکے میں آیا اور عطا بن ابی رباح وغیرہ سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو ہدی لازم ہے جب میں مدینہ آیا وہاں لوگوں سے پوچھا انہوں نے کہا تجھ کو دوبارہ پیدل چلنا چاہئے جہاں سے سوار ہوا تھا تو پیدل چلائیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور چلے پھر عاجز ہو جائے تو سوار ہو جائے پھر دوبارہ جب آئے تو جہاں سے سوار ہوا تھا وہاں سے پیدل چلے اگر چلنے کی طاقت نہ ہو تو جہاں تک ہو سکے چلے پھر سوار ہو جائے اور ہدی میں ایک اونٹ یا گائے دے اگر نہ ہو سکے تو بکری دے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 22 · Vows and Oaths

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔