سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 870

نمبر 870کتاب 20، نمبر 166
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ كُنْتُ مَعَكَ أَوْ سَأَلْتَنِي لأَمَرْتُكَ أَنْ تَقْرِنَ ‏.‏ فَقَالَ الْيَمَانِيُّ قَدْ كَانَ ذَلِكَ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَهْدِ ‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَدْيُهُ ‏.‏ فَقَالَتْ لَهُ مَا هَدْيُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ أَنْ أَذْبَحَ شَاةً لَكَانَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ ‏.‏
صدقہ بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا عبداللہ بن عمر کے پاس اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو تو کہا اے ابا عبدالرحمن میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا عبداللہ بن عمر نے کہا اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قران کا حکم کرتا اس شخص نے کہا اب تو ہو چکا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے، ایک عورت عراق کی رہنے والی بوالی اے ابا عبدالرحمن کیا ہدی ہے اس کی؟ انہوں نے کہا جو ہدی ہے اس کی، اس عورت نے کہا کیا ہدی ہے؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Mauquf SahihSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 20 · Hajj

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔