سیدھے مواد پر جائیں
موطا امام مالک

نمبر 869

نمبر 869کتاب 20، نمبر 165
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ مَوْلاَةً، لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى مَكَّةَ - قَالَتْ - فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَكَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ أَمَعَكِ مِقَصَّانِ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ فَقَالَتْ فَالْتَمِسِيهِ لِي ‏.‏ فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّى جِئْتُ بِهِ فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمن کی جس کا نام رقیہ تھا مجھ سے کہتی تھی کہ میں چلی عمرہ بنت عبدالرحمن کے ساتھ مکہ کو تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی وہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی تو طواف کیا خانہ کعبہ کا اور سعی کی صفا اور مروہ کے درمیان میں پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے میں نے کہا نہیں عمرہ نے کہا کہیں سے ڈھونڈھ کرلاؤ سو میں ڈھونڈھ کر لائی عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔
ماخذ میں درج درجات
  • Maqtu DaifSalim al-Hilali

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 20 · Hajj

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔