سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کى طرف جاتی ہے"۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْمُنَافِقِ، كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کى طرف جاتی ہے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ منافق کی حالت اس بکری کی سی ہوتی ہے جو ہمیشہ تذبذب میں رہتی ہے اور اسے پتہ نہیں ہوتا کہ بکریوں کے کس ریوڑ کے ساتھ رہے۔ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو کبھی اس ریوڑ کی طرف۔ اس طرح منافقین ایمان و کفر کے درمیان حیرانگی وپریشانی کی زندگی گزارتے ہیں۔ نہ وہ ظاہر و باطن سے مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نہ کافروں کے ساتھ، بلکہ ظاہری طور پر مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور باطنی طور پر شک و تردد کے شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ کبھی مومنین کى طرف مائل ہوتے ہیں، تو کبھی کفار کى طرف۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
  2. منافقین کی یہ حالت بتائی گئی ہے کہ وہ شک و شبہ اور بے قراری کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
  3. منافقوں کی حالت سے دور رہنے کو کہا گیا ہے اور ایمان کے معاملے میں ظاہری وباطنی ہر طرح سے صدق و سچائی اور پختہ عزم وارادہ کی ترغیب دی گئی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2146) (2784)، إكمال المعلم بفوائد مسلم (8/ 313)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (16/ 69).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نفاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com