ورُوي عن الحسن أنه قال: "لا يحل السحر إلا ساحر".
حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے وہ کہتے ہیں: ”جادو کو جادوگر ہی اتار سکتا ہے“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام خطابی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
نُشرہ (ایک قسم کا منتر ہے جو جادو کے توڑ کے لیے پڑھا جاتا ہے) حسن بصری رحمہ اللہ کا کلام بظاہر نُشرہ کی مطلقاً نفی کرتا ہے، اس لیے کہ جادو کو وہی شخص ختم کرسکتا ہے جو اس کے بارے میں جانتا ہو۔ یہ جادو کو جادو کے ذریعے سے ختم کرنے پر محمول ہے جو کہ شیطانی کام ہے۔ ابن القیم رحمہ اللہ علیہ نے اس کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جادو کا علاج جائز دواؤں اور تلاوت قرآن کے ذریعے سے کرنا جائز ہے۔ جب کہ جادو کا علاج جادو ہی کے ذریعے سے ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ
1-فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م.
2-القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424هـ.
3-الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ - 2001م.
4-الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
5-التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن بَجَالَةَ بن عَبَدة قال: كتب عمر بن الخطاب: «أن اقتُلُوا كلّ ساحر وساحرة». قال: فقتلنا ثلاث سواحر.
وعن ابن عمر رضي الله عنه : «أن حفصة سَحَرَتْها جاريتها فاعتَرَفَتْ بسِحْرها، فأمرت عبد الرحمن بن زيد فقتلها».
وعن أبي عثمان النهدي: «أنه كان عند الوليد رجل يلعب فذبح إنسانًا، وأبان رأسه؛ فعَجِبْنا، فأعاد رأسه، فجاء جُنْدُبٌ الْأَزْديّ فقتله».
بحالہ بن عبدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: ”ہر جاوگر مرد اور عورت کو قتل کردو“۔ بحالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تین جادوگرنیوں کو قتل کیا۔
عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے انہیں جادو کردیا، تحقیق پر اس باندی نے اقرار کرلیا تو انہوں نے عبد الرحمن بن زید کو اسے قتل کردینے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کردیا۔
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ولید کے پاس ایک آدمی کرتب دکھایا کرتا تھا، اس نے ایک آدمی کو ذبح کردیا اور اس کے سر کو دھڑ سے الگ کردیا، اس پر ہمیں بہت تعجب ہوا، اس نے سر کو دوبارہ جوڑ دیا؛ چنانچہ جندب ازدی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنی تمام روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔
تشریح
چونکہ جادو اپنے یقینی مفاسد و برے نتائج یعنی قتل، باطل طریقے سے مال ہتھیانے اور میاں بیوی کے مابین تفریق پیدا کرنے کے اعتبار سے خطرناک ترین معاشرتی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے، اس کا کچھ حصہ تو کفر ہے اس لیے کہ اس میں شیطانوں سے استعانت اور ان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے جادو گر کو قتل کر دینے کا حکم دے کر اس کی مکمل طور پر بیخ کنی کے لیے ایک شافی علاج فراہم کر دیا تاکہ معاشرہ اپنے فضائل وپاکیزگی اور راست روی کے ساتھ صحیح ڈگر پر چل سکے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم پر عمل کیا۔
حوالہ
موطأ الإمام مالك، مالك بن أنس ، المحقق: بشار عواد معروف - محمود خليل، الناشر: مؤسسة الرسالة، سنة النشر: 1412 هـ.
سنن أبي داود-المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد-الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
التاريخ الكبير، محمد بن إسماعيل البخاري، الطبعة: دائرة المعارف العثمانية، حيدر آباد - الدكن، طبع تحت مراقبة: محمد عبد المعيد خان.
معجم لغة الفقهاء، محمد رواس قلعجي - حامد صادق قنيبي، الناشر: دار النفائس للطباعة والنشر والتوزيع، الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988.
ملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن عبد العزيز القرعاوي، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة.
1424هـ/2003م.
فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، عبد الرحمن بن حسن، المحقق: محمد حامد الفقي، الناشر: مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ/1957م.
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح آل الشيخ، دار التوحيد، تاريخ النشر : 1424هـ.
شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم، نشوان بن سعيد الحميرى، المحقق: د حسين بن عبد الله العمري - مطهر بن علي الإرياني - د يوسف محمد عبدالله، الناشر: دار الفكر المعاصر، بيروت - لبنان، دار الفكر، دمشق - سورية، الطبعة: الأولى، 1420 هـ - 1999 م.
مختار الصحاح، زين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر الرازي ،المحقق: يوسف الشيخ محمد، الناشر: المكتبة العصرية، الدار النموذجية، بيروت - صيدا-الطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م.
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة، محمد ناصر الدين، الألباني، دار النشر: دار المعارف، الرياض، الممكلة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1412 هـ / 1992 م.
السنن الكبرى، أحمد بن الحسين أبو بكر البيهقي، المحقق: محمد عبد القادر عطا، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنات، الطبعة: الثالثة، 1424 هـ - 2003 م.
كتاب التوحيد للإمام محمد بن عبد الوهاب تحقيق: دغش العجمي.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ، وَمَنْ عَقَدَ عُقْدَةً، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے بدشکونی لی, یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی، جس نے کہانت کی یا جس کے لیے کہانت کی گئی, یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گيا۔ جس نے کوئی گرہ لگائی اور جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کو سچ مانا، اس نے اس شریعت کا انکار کیا، جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اتاری گئی ہے۔"
رواه البزاردرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ مخصوص کام کے بارے میں فرمایا کہ میری امت کے جو لوگ ایسے کام کریں گے وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ یہ کام کچھ اس طرح ہیں :
1- "ایسا شخص جس نے بدشگونی لی یا جس کے لیے بدشگونی لی گئی"۔ اس کى اصل یہ ہے کہ: کسی بھى کام جیسے سفراور تجارت وغیرہ کے شروع کرتے وقت پرندے کو اڑایا جائے۔ پرندہ اگر دائیں اڑے، تو نیک شگون لے اور جس کام کا ارادہ ہو، اسے کرگذرے۔ لیکن اگر بائیں اڑے، تو بد شگونی لے اور جو کام کرنا ہو، اسے چھوڑ دے۔ یہ کام نہ تو خود کرنا جائز ہے اور نہ کسی سے کروانا جائز ہے۔ یاد رہے کہ اس ممانعت کے اندر کسی بھی چیز سے لی جانے والی بد شگونی داخل ہے۔ چاہے اس چیز کا تعلق سننے سے ہو یا دیکھنے سے۔ وہ چیز پرندہ ہو، جانور ہو، جسمانی معذوری والے لوگ ہوں، عدد ہوں یا دن وغیرہ۔
2- "ایسا شخص جس نے خود کہانت کی یا کسی سے کروائی"۔ پس جس نے ستاروں وغیرہ کا سہارا لے کر غیب کی بات جاننے کا دعوی کیا یا پھر کسی ایسے شخص کے پاس گیا، جو غیب کی بات جاننے کا دعوی کرتا ہو اور اس کی بات کو سچ بھی مانا، اس نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر اترنے والی شریعت کا انکار کیا۔
3- "ایسا شخص جس نے جادو کیا یا جادو کروایا"۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے، جس نے کسی کو فائدہ پہنچانے یا کسی کا نقصان کرنے کے مقصد سے جادو کیا یا جادو کروایا یا ناجائز منتر پڑھ کر دھاگہ وغیرہ پر پھونک ماری اور گرہ لگائی۔
فوائد
- اللہ پر بھروسہ کرنے اور اس کی قضا و قدر پر ایمان رکھنے کا وجوب اور بدشگونی، جادو، کہانت کرنے یا کسی سے کرانے کی حرمت۔
- غیب کی بات جاننے کا دعوی کرنا شرک اور توحید کے منافی ہے۔
- کاہنوں کی تصدیق کرنا اور ان کے پاس جانا حرام ہے اور اس حکم میں ہاتھ دیکھنا، پیالی پڑھنا اور ستاروں کی گردشوں وغیرہ کے ذریعے غیب کی بات بتانا بھی شامل ہے۔
حوالہ
مسند البزار = البحر الزخار (9/ 52) (3578).
شرح السنة للبغوي (12/ 182).
مجموع الفتاوى (35/ 173).
القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (1/ 543).
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص315).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص242).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص217).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من اقتبَسَ علْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتبَسَ شُعبَة مِن السِّحرِ، زادَ ما زادَ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا، اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا“۔
رواه أبو داود وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے ستاروں اور برجوں، ان کی حرکات، ان کے داخل ہونے اور نکلنے کی کیفیت پر غور کرکے روئے زمین پر مستقبل میں واقع ہونے والے حادثات، جیسے زندگی، موت اور بیماری وغیرہ، پر اثر پڑنے کا علم حاصل کیا، اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ انسان یہ علم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ جادو کا اتنا زیادہ علم حاصل کرتا جائے گا۔
فوائد
- ستاروں کے احوال کو دیکھ کر پیشین گوئی کرنا حرام ہے، کیوں کہ یہ غیبی علم کا دعوے میں شامل ہے۔
- ستاروں کے احوال دیکھ کر پیشین گوئی کرنا ایک طرح کا جادو ہے، جو کہ توحید کے منافی ہے۔ جب کہ جہت، قبلہ اور موسم اور مہینہ کے داخل ہونے کی جان کاری حاصل کرنے کے لیے ستاروں کو دیکھنا مباح ہے۔
- انسان علم نجوم جتنا زیادہ حاصل کرتا جائے گا، وہ اتنا زیادہ جادو کا علم حاصل کرتا جائے گا۔
- اللہ نے اپنی کتاب میں ستاروں کے تین فوائد بیان کیے ہيں: یہ آسمان کی زینت ہیں، یہ علامتیں ہیں جن سے رہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ ہيں۔
حوالہ
سنن أبي داود (6/ 50) (3905).
سنن ابن ماجه (4/ 670) (3726).
مسند أحمد (3/ 454) (2000).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، للقرعاوي (ص230).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للفوزان (ص206).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ».
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ اس دن رات کو بارش ہوئی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں، جو کہ مکہ سے قریب ایک گاؤں ہے، صبح کی نماز پڑھائی۔ اس دن رات میں بارش ہوئی تھی۔ جب سلام پھیر چکے اور نماز سے فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربنے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ بارش کے وقت لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش نازل ہوئی اور نزول بارش کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے، تو ایسا شخص اللہ پر ایمان لانے والا ہے، جو اللہ اس جہان کا خالق اور کائنات میں تصرف کرنے والا ہے۔ ایسا شخص ستارے کا منکر ہے۔ اس کے برخلاف جو یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔ کیوں کہ اس نے نزول بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا، جب کہ اللہ نے ستارے کو نہ تو بارش کا شرعی سبب بنایا ہے اور نہ تقدیری سبب۔ البتہ جو شخص نزول بارش اور دیگر زمینی حوادث کو ستاروں کے طلوع ہونے یا ٹوٹ کر گرنے جیسی حرکات کی طرف منسوب کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہی حقیقی فاعل ہیں، تو وہ شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے۔
فوائد
- نزول بارش کے بعد یہ کہنا مستحب ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش نازل ہوئی۔
- جس نے نزول باراں وغیرہ کو ستارے کی طرف اس حیثیت سے منسوب کیا کہ وہی اس کی تخلیق کرتا اور اسے وجود میں لاتا ہے، تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہے۔ لیکن منسوب اس بنیاد پر کرے کہ ستارہ نزول باراں کا سبب ہے، تو وہ کفر اصغر کا مرتکب ہے، کیوں کہ ستارہ نزول باراں کا نہ تو شرعی سبب ہے اور نہ حسی۔
- جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے تو وہ کفر کا سبب بن جاتی ہے اور اگر اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے، تو وہ ایمان کا سبب بن جاتی ہے۔
- یہ کہنے سے منع کیا گیا ہے کہ "ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی۔" خواہ اس کا مقصد بارش کا وقت بتانا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ممانعت دراصل شرک کا دروازہ بند کرنے کے لیے ہے۔
- نعمتوں سے فیض یاب ہونے اور مصائب ومشکلات سے دور رہنے کے لیے دل کو اللہ تعالی سے وابستہ رکھنا واجب ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 169) (846)، صحيح مسلم (1/ 83) (71)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (2/ 484)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 260).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن جابرٍ رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرض نماز چھوڑنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ انسان اور کفر و شرک میں پڑنے کے درمیان جو چیز حائل ہے، وہ ہے نماز چھوڑنا۔ نماز اسلام کا دوسرا رکن اور بہت ہی اہم فریضہ ہے۔ جس نے نماز کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے نماز چھوڑ دیا، وہ کافر ہوگیا، اس بات پر سارے مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اگر کسی نے سستی اور کاہلی کی وجہ سے بھی اسے پورے طور پر چھوڑ دیا، تو وہ بھی کافر ہے، اس بات پر صحابہ کا اجماع نقل کیا گيا ہے۔ لیکن اگر کبھی چھوڑ دے اور کبھی پڑھ لے، تو وہ اس سخت وعید کی زد میں ہوگا۔
فوائد
- نماز اور پابندی کے ساتھ اسے ادا کرنے کی اہمیت۔ نماز ہی کفر وایمان کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔
- نماز چھوڑنے اور اسے ضائع کرنے والے کے لیے سخت تنبیہ۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 88) (82)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 271)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (2/ 622).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ».
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“
رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں و منافقوں کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی، اس نے کفر کیا۔
فوائد
- اس سے نماز کی عظمت شان واضح ہوتی ہے۔ یعنی نماز مومن اور کافر کے درمیان نشان امتیاز ہے۔
- احکامِ اسلام انسان کے باطن سے نہيں، بلکہ ظاہری حال سے ثابت ہوں گے۔
حوالہ
سنن النسائي (1/ 231) (463)، سنن الترمذي (4/ 365) (2621)، سنن ابن ماجه (2/ 181) (1079)، مسند أحمد (38/ 20) (22937)، فيض القدير (4/ 395)، ذخيرة العقبى في شرح المجتبى (6/ 192) (6/ 193).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com