سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو بھی نبی آیا، اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے (دجال) سے ضرور ڈرایا۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «ما من نبي إلا وقد أنذر أمته الأعور الكذاب، ألا إنه أعور، وإن ربكم - عز وجل - ليس بأعور، مكتوب بين عينيه ك ف ر»
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی نبی آیا، اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے (دجال) سے ضرور ڈرایا۔ آگاہ رہو! وہ دجال کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”ک ف ر“ لکھا ہوا ہوگا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ کے فرستادہ ہر نبی نے اپنی امت کو مسیح دجال سے ڈرایا اور متنبہ کیا ہے۔ کیونکہ انہیں اس کے نکلنے اور اس کی سخت فتنہ پردازی کا علم تھا۔ نیز انہوں نے اپنی امتوں کے لیے اس کی کچھ صفات بھی بیان کی ہیں۔ اس حدیث میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کانا ہوگا، جب کہ اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔ اسی طرح اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے مابین ”ک ف ر“ (کفر) لکھا ہوگا۔

حوالہ

الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422. المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. لسان العرب, أبو الفضل جمال الدين بن منظور الرويفعي, الناشر: دار صادر, ط3 عام 1414. الإفصاح عن معاني الإفصاح, تأليف: يحيى بن هبيرة الشيباني, تحقيق: فؤاد عبدالمنعم, الناشر: دار الوطن, عام 1417. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
علاماتِ قیامت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com