سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تقوم الساعة حتى تُقاتِلوا خُوزًا وكِرْمان من الأعاجم، حُمْر الوجوه، فُطْس الأُنوف، صِغار الأعين، وجوههم المِجَانُّ المُطْرَقة، نعالهم الشعر».
ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

قیامت اس وقت تک نہ آئےگی جب تک کہ مسلمان بلادِ عجم (ایران) کے خوز اور کرمان کے لوگوں سے جنگ نہ کر لیں۔ ان کا حلیہ یہ ہوگا کہ ان کے چہرے، ان کےجسموں پر سردی کے غلبے کی وجہ سے، سفید سُرخی مائل ہوں گے، ان کی ناک چپٹی (بیٹھی ہوئی) اور آںکھیں چھوٹی ہوں گی، ان کے چہرے گولائی اور کشادگی میں ڈھال کی مانند ہوں گے۔ نیز موٹے اور زیادہ گوشت والے ہونے کی وجہ سے تہ بہ تہ چمڑے کی ڈھال کے مشابہ ہوں گے۔۔ وہ بالوں کی جوتیاں پہن کر چلیں گے۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري ، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، أحمد بن محمد القسطلاني القتيبي، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة 1323 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
علاماتِ قیامت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com