قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی اوران کے چہرے ایسے ہوں گے کہ گویا چمڑا لگی ڈھال ہو، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو، جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تقومُ الساعةُ حتى تُقاتلوا التُّرْكَ: صِغارَ الأَعين، حُمْرَ الوجوه، ذُلْفَ الأنوف، كأنَّ وجوهَهم المِجانُّ المُطْرَقة، ولا تقومُ الساعةُ حتى تقاتلوا قومًا نِعالُهم الشَّعر».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی اوران کے چہرے ایسے ہوں گے کہ گویا چمڑا لگی ڈھال ہو، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو، جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک مسلمان ترکوں سے جنگ نہ کرلیں، جن کا حلیہ یہ ہوگا کہ ان کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے سرخی مائل سفید ہوں گے، کیوںکہ ان کے جسموں پر سردی کے اثرات کا غلبہ ہو گا اور ان کی ناک چھوٹی اور پھیلی ہوئی ہو گی اور ان کے چہرے پھیلاؤ اور گولائی میں ڈھال سے مشابہہ ہوں گے اور موٹاپے اور گوشت کی زیادتی کی وجہ سے چمڑے سے لپٹی ہوئی ڈھال کے طرح معلوم ہوں گے۔ اسی طرح قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک مسلمان ایک ایسی قوم سے نہ لڑ لیں جو بالوں کے جوتے پہنے گی۔ یہ بھی ترک ہی ہیں لیکن آپ ﷺ نے ان کا ذکر ایک اور صفت کے ساتھ کیا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، محمود بن أحمد بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.
مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م.
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، أحمد بن محمد القسطلاني القتيبي، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة 1323هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com