سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مرد و زن کا باہمی تعلق

6 احادیث

بریرۃ اور ان کے شوہر کی کہانی کی حدیث

عن ابن عباس رضي الله عنهما في قصة بريرة وزوجها، قال: قال لها النبي صلى الله عليه وسلم : «لو رَاجَعْتِهِ؟» قالت: يا رسول الله تأمرني؟ قال: «إنما أشْفَع» قالت: لا حاجة لي فيه.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بریره اور ان کے خاوند کے قصے ميں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان (بريرہ) سے فرمایا کہ اگر تم اس (شوہر) سےٍ رجوع کر لو (تواچھا ہے)۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا آپ مجھے (لوٹنے کا) حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

بریرۃ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ بریرۃ رضی اللہ عنہا خریدے جانے سے قبل عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کرديا اورانہیں مغیث کے ساتھ رہنے یا ان سے علیحدہ ہونے کا اختیار مل گیا تو بریرۃ رضی اللہ عنہا نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مغیث رضی اللہ عنہ اس خاندانی بندھن کے ٹوٹنے کے بعد مدینے کی گلیوں اور راستوں میں ان کے پیچھے روتے ہوئے پھرتے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے ۔ یہ حالتِ زار بریرۃ رضی اللہ عنہا سے شدت محبت کی وجہ سے تھی۔ اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور دوبارہ ان کی طرف لوٹ آئیں۔ اس پر نبی ﷺ نے بریرۃ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تم ان سے رجوع کر لو تو تمہیں اجر ملے گا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا آپ مجھے اس بات کا حکم دے رہے ہیں کہ میں لازمی طور پر ان سے رجوع کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو صرف ان کے لیے سفارش کر رہا ہوں۔ اس پر بریرۃ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے ان سے رجوع کرنے کی خواہش اور حاجت نہیں ہے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ. د . حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا الطبعة الأولى : 1430 هـ. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة ، بيروت، الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م، الطبعة الرابعة عشرة 1407 هـ 1987م. شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426 هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح البخاري، لمحمد بن إسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة : الأولى، 1422هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرائے اور اس سلسلے میں اچھی بات ان تک پہنچائے یا اچھی بات کہے۔

عن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي مُعَيط رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ليس الكذاب الذي يُصلح بين الناس فَيَنْمِي خيرًا، أو يقول خيرًا» وفي رواية مسلم زيادة، قالت: ولم أسمعه يُرَخِّصُ في شيء مما يقوله الناس إلا في ثلاث، تعني: الحرب، والإصلاح بين الناس، وحديث الرجل امرأته، وحديث المرأة زوجها.
ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرائے اور اس سلسلے میں اچھی بات ان تک پہنچائے یا اچھی بات کہے“۔ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”میں نے آپ ﷺ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے ثابت ہو کہ آپ ﷺ نے ان میں سے کسی بات کی اجازت دی ہے جس کو لوگ (جھوٹ) کہتے ہیں ما سوا تین باتوں کے یعنی حالتِ جنگ میں، لوگوں میں صلح صفائی کے لیے اور میاں بیوی کی آپس کی بات چیت کے دوران“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اصل بات تو یہی ہے کہ جھوٹ حرام ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ سے بچو۔ کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف۔ آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کے درپہ رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے“۔ (صحیح مسلم)۔ تاہم جھوٹ سے تین امور مستثنی ہیں: 1. وہ جھوٹ جس کا مقصد لوگوں کے مابین صلح کرانا ہو۔ 2. جنگ میں جھوٹ بولنا۔ 3. خاوند اور بیوی کا آپس میں جھوٹ بولنا۔ یہ تین امور ہیں جن میں از روئے حدیث جھوٹ بولنا جائز ہے کیونکہ ان میں فائدہ ہے اور ان سے کوئی برائی جنم نہیں لیتی۔ اول: جھگڑنے والے دو افراد یا دو قبیلوں کے مابین اصلاح کے لیے جھوٹ بولنا بایں طور کہ وہ اچھی بات دوسرے تک پہنچائے اور ان میں سے ہر ایک سے کہے کہ دوسرا اس کی تعریف کر رہا تھا اور اس کا اچھے انداز میں ذکر کر رہا تھا حالانکہ اس نے ایسی کوئی بھی بات نہ سنی ہو تاہم اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے اور ان کے مابین موجود نفرت و وحشت کو دور کرے۔ ایسا کرنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس کا مقصد اصلاح پیدا کرنا اور دلوں میں موجود دشمنی، رنجش اور نفرت کا ازالہ ہو۔ دوم: دورانِ جنگ جھوٹ بولنا۔ وہ اس طرح کہ وہ ایسے ظاہر کرے کہ اس میں بہت طاقت ہے اور ایسی گفتگو کرے جس سے اس کے ساتھیوں کی بصیرت تیز ہو اور اس کے دشمن کو دھوکا لگے۔ یا پھر یہ کہے کہ مسلمانوں کا لشکر بہت زیادہ ہے اور انہیں بہت کمک مل گئی ہے۔ یا کہے کہ اپنے پیچھے دیکھو، فلاں تمہارے پیچھے تمہیں مارنے کے لیے آ رہا ہے ۔۔۔ یہ سب جائز ہے کیونکہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کا بہت فائدہ ہے۔ سوم: آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا یا بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا۔ مثلاً وہ اس سے کہے تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اور مجھے تمہاری جیسی عورت اچھی لگتی ہے یا اسی طرح کے اور الفاظ کہے جن سے ان دونوں کے مابین الفت و محبت جنم لے۔ اسی طرح بیوی کا بھی اپنی شوہر سے اس طرح کی باتیں کہنا جائز ہے کیونکہ اس میں بہت فوائد مضمر ہیں۔ تاہم میاں بیوی کے مابین جھوٹ کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ایسا ہو جس سے الفت و محبت اور ان کی باہمی معاشرت کو دوام حاصل ہو۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک شوہر کا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اظہار محبت کے لیے بولا جائے یا کسی ایسی شے کا وعدہ کرتے ہوئے بولا جائے جس کا مہیا کرنا اس کے لیے لازمی نہ ہو وغیرہ۔ مرد یا عورت کا اپنے اوپر واجب ہونے والی ذمہ داریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے یا پھر کسی ایسی شے کے ہتھیانے کے لیے ایک دوسرے کو دھوکا دینا جو ان کی نہیں ہے تو اس طرح کے جھوٹ کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ حافط ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ بیوی یا شوہر کے ساتھ جھوٹ بولنے سے مراد وہ جھوٹ ہے جس کا مقصد شوہر یا بیوی پر آنے والی کسی ذمہ داری کا اسقاط نہ ہو یا اس کا مقصد کوئی ایسی شے لینا نہ ہو جو شوہر یا بیوی کی نہ ہو۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين أ. د . حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار دار كنوز اشبيليا ـ الطبعة الأولى : 1430 هـ بهجة الناظرين الشيخ: سليم بن عيد الهلالي دار ابن الجوزي نزهة المتقين د . مصطفى سعيد الخن ـ د. مصطفى البغا ـ محي الدين مستو ـ علي الشرجبي ـ محمد أمين لطفي. مؤسسة الرسالة ، بيروت الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426 هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة : الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي - بيروت. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1392. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، المؤلف: حمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1410 هـ - 1990 م. فتح الباري شرح صحيح البخاري، المؤلف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب، عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز. معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود، حمد بن سليمان الخطابي، الناشر: المطبعة العلمية - حلب، الطبعة: الأولى 1351 هـ - 1932 م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔

عَنِ الأَسْوَدِ بنِ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ -تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ-، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ.
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کريم ﷺ کے تواضع و خاکساری کی ایک جھلک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں اہلِ خانہ کی خدمت کرتے تھے، بکری کا دودھ نکالتے، جوتی ٹھیک کرتے، گھر میں گھر والوں کی خدمت کرتے۔ کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کريم ﷺ اپنے گھر ميں کيا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمايا کہ آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے۔ یہ انبیاء اور مرسلین کے اخلاق میں سے ہے کہ وہ اپنے اعمال میں تواضع و خاکساری اختیار کرتے تھے، آسائش پسندی اور ناز ونعمت کی زندگی گزارنے سے دور رہتے تھے۔

حوالہ

صحيح البخاري (1/ 136) (676). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 660). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 526). شرح صحيح البخاري، لابن بطال (2/ 296). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 516).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا لڑکا بیمار تھا۔ وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچے کا انتقال ہو گیا۔

عن أنس رضي الله عنه قال: كان ابن لأبي طلحة رضي الله عنه يشتكي، فخرج أبو طلحة، فَقُبِضَ الصَّبي، فلما رجع أبو طلحة، قال: ما فعل ابني؟ قالت أم سليم وهي أم الصَّبي: هو أسْكَن ما كان، فَقَرَّبَت إليه العشاء فتَعَشَّى، ثم أصاب منها، فلما فَرَغ،َ قالت: وارُوا الصَّبي فلما أصبح أبو طلحة أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره، فقال:«أعَرَّسْتُمُ اللَّيلَةَ؟» قال: نعم، قال: «اللَّهُمَّ بارِك لهما»، فولدت غلامًا، فقال لي أبو طلحة: احْمِلْهُ حتى تأتي به النبي صلى الله عليه وسلم وبعث معه بتمرات، فقال: «أمَعَه شيء؟» قال: نعم، تَمَرات، فأخذها النبي صلى الله عليه وسلم فمَضَغَها، ثم أخذها من فِيه فجعلها في فِيِّ الصَّبي، ثم حَنَّكَهُ وسماه عبد الله. وفي رواية: قال ابن عيينة: فقال رجل من الأنصار: فرأيت تِسْعَة أولاد كلهم قد قرؤوا القرآن، يعني: من أولاد عبد الله المولود. وفي رواية: مات ابن لأبي طلحة من أم سليم، فقالت لأهلها: لا تُحَدِّثوا أبا طلحة بابْنِهِ حتى أكون أنا أُحدِّثه، فجاء فَقَرَّبَتْ إليه عشاء فأكَل وشرب، ثم تَصَنَّعَتْ له أحْسَن ما كانت تصنع قبل ذلك، فَوَقَع بها. فلمَّا أن رأت أنه قد شَبِع وأصاب منها، قالت: يا أبا طلحة، أرأيت لو أن قومًا أعَارُوا عَارِيَتَهُم أهل بيت فطَلَبوا عَارِيَتَهُم، ألهم أن يَمْنَعُوهُم؟ قال: لا، فقالت: فَاحْتَسِبْ ابنك، قال: فغضِب، ثم قال: تَرَكْتِني حتى إذا تَلطَّخْتُ، ثم أخبرتني بابني؟! فانطلق حتى أتى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأخبره بما كان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «بارك الله في لَيْلَتِكُمَا»، قال: فَحَمَلَتْ. قال: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سَفَر وهي معه، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتى المدينة من سَفر لا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوا من المدينة، فضَرَبَها المَخَاض، فَاحْتَبَسَ عليها أبو طلحة، وانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يقول أبو طلحة: إنك لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ أنه يُعْجِبُنِي أن أخرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج وأدخل معه إذا دخل وقد احْتَبَسْتُ بما ترى، تقول أم سليم: يا أبا طلحة، ما أجِدُ الذي كنت أجِدُ، انطلق، فانطلقنا وضربها المَخَاض حين قَدِما، فولدت غلامًا. فقالت لي أمي: يا أنس، لا يُرْضِعْهُ أحدٌ حتى تَغْدُو به على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلمَّا أصبح احتَمَلْتُه فانْطَلَقتُ به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ... وذكر تمام الحديث.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا لڑکا بیمار تھا۔ وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھےکہ بچے کا انتقال ہوگیا۔ ابوطلحہ واپس آئے تو بیوی سے پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ بچے کی ماں ام سلیم نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرسکون حال میں ہے۔ پھر بیوی نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا۔ ابوطلحہ کھانے سے فارغ ہوگئے۔ اس کے بعد بیوی سے ہم بستری کی۔ جب وہ فارغ ہوگئے، توام سلیم نے کہا کہ بچے کو دفن کردو! صبح ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور آپ کو سارے واقعہ سنایا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے رات کو ہم بستری کی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی ﷺ نے یہ دعا دی: ”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما“۔ پھر ان کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچے کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھیجیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ ساتھ میں کوئی چیز بھی ہے؟ انھوں نے جواب میں کہا کہ جی ہاں کچھ کھجور ہیں! نبی کریم ﷺ نے ان کھجوروں کو لیا۔ اپنے منہ میں چبایا۔ پھر اس کو اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ ایک اور روایت میں ابن عیینۃ فرماتے ہیں: ایک انصاری شخص کا کہنا ہے کہ میں نے نو لڑکے دیکھے؛ سب کے سب قرآن مجید کے قاری تھے۔ یعنی اس نومولود عبداللہ کی اولاد میں سے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک لڑکے کا انتقال ہوگیا، جو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل خانہ کو تاکید کردی کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بیٹے کے مرنے کی خبر نہ دینا، یہاں تک کہ میں خود انھیں بتادوں، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے انھیں شام کا کھانا پیش کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھانے پینے سے فارغ ہوئے۔ پھر ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے اس سے بہتر بناؤ سنگھار کیا جو اس سے قبل کیا کرتی تھیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ہم بستری کی۔ جب ام سلیم نے دیکھا کہ وہ کھانے سے بھی سیر ہوگئے اور ان کے ساتھ بھی وقت گزار لیا، تو انھوں نے کہا:ابوطلحہ! ذرا یہ تو بتاؤ کہ اگر کچھ لوگ ایک گھرانے کو ادھار دی جانے والی کوئی چیز ادھار دیں، پھر وہ اپنی چیز واپس مانگ لیں، تو کیا ان کو حق ہے کہ ان کو منع کریں؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے کہا:تو پھر اپنے بیٹے (کی وفات) پر صبر کیجیے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر غصہ میں آگئے اور کہا:تم نے مجھے بے خبر رکھا، یہاں تک کہ میں آلودہ ہوگیا، پھرتم نے مجھے میرے بیٹے کے بارے میں بتایا!! پھر وہ چل پڑے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو ساری باتیں بتادیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا: ”تمھاری گزرنے والی رات میں اللہ تعالیٰ تمھیں برکت عطا فرمائے!“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ام سلیم رضی اللہ عنہا حاملہ ہوگئیں۔ وہ آگے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور ام سلیم آپ ﷺ کے ہم راہ تھیں، رسول اللہ ﷺ جب سفر سے مدینہ لوٹتے تو رات کو آکر مدینہ میں دستک نہیں دیتے تھے۔ سب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردزِہ نے آلیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس رکنا پڑا اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے۔ ( انس رضی اللہ عنہ) کہہتے ہيں:(اس وقت) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے:میرے پروردگار!مجھے یہی اچھا لگتا ہے کہ میں بھی تیرے رسول کے ساتھ باہر نکلوں، جب آپ (مدینہ سے) باہر نکلیں، اور جب آپ (مدینہ کے) اندر آئیں تو میں بھی آپ کے ساتھ اندر آؤں،(لیکن) میں اس بات کی وجہ سے روک دیا گیا ہوں جو تو دیکھ رہا ہے، (انس رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں:تو ام سلیم رضی اللہ عنھا کہنے لگیں:ابوطلحہ! جو (درد) مجھے محسوس ہورہا تھا، اب محسوس نہیں ہورہا ہے، لہذا چلیے! چنانچہ ہم چل پڑے۔ (انس رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں: جب دونوں (مدینہ) آگئے تو ام سلیم کو (دوبارہ) درد شروع ہوگیا اور ایک بیٹے کو جنم دیا۔ میری ماں (ام سلیم) نے مجھ سے کہا:اسے کوئی بھی دودھ نہیں پلائے گا، یہاں تک کہ صبح تم اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لےجاؤگے۔ جب صبح ہوئی، تو میں نے اسے اٹھالیا، اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث بیان فرمائی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا بیمار تھا۔ دراصل ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہا) کےشوہر تھے۔ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کے والد کے بعد انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا تھا۔ ابوطلحہ اپنے کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلےاور اس دوران بچے کی وفات ہوگئی۔ جب وہ واپس لوٹے تو بچے کی ماں سے اس کے متعلق دریافت کیا کہ میرے بیٹے کی صحت کیسی ہے؟ بیوی نے جواب دیا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرسکون حالت میں ہے۔ در حقیقت انھوں نے سچ ہی کہا تھا کہ وہ اپنی سابقہ حالت سے زیادہ پرسکون ہے؛ کیوں کہ بچے کی وفات ہوچکی تھی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ بچہ، بیماری سے صحت یاب ہو کر پرسکون حالت میں ہوگا اور اس کی بیماری دور ہوچکی ہوگی۔ بیوی نے ابوطلحہ کے سامنے شام کا کھانا پیش کردیا اور انھوں نے اس اطمینان کے ساتھ شام کا کھانا کھا لیا کہ بیٹا صحت یاب ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اپنی بیوی سے ہم بستری یعنی جماع بھی کیا۔ جب فارغ ہو گئے تو بیوی نے کہا کہ بچے کو دفنا دیجیے؛ کیوں کہ اس کی وفات ہوچکی ہے! -یہ پہلی روایت کے مطابق ہے- جب صبح ہوئی، تو بچے کو دفن کیا اور نبی کریم ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ تم نے رات میں ہم بستری کی ہے؟ ابوطلحہ نے جواب دیا کہ جی ہاں! آپ ﷺ نے دونوں کے حق میں برکت کی دعا فرمادی، چنانچہ ان کے یہاں ایک بابرکت لڑکے کی ولادت ہوئی۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابوطلحہ نے کہا کہ اس بچے کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ ساتھ ہی انھوں نے کچھ کھجوریں بھی بھیجیں؛ تاکہ ان سے آپ ﷺ تحنیک فرمادیں۔ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی ﷺ کے لعاب دہن کے ساتھ چبائی ہوئی شے داخل ہو اور اس بچے کی زندگی میں برکتیں نازل ہوں۔ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس بچے کو حاضر کیا گیا، تو آپ نے دریافت کیا کہ اپنے ساتھ کچھ لائے ہو؟ یعنی جس کے ذریعہ آپ تحنیک فرمائیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ان کے پاس ہیں۔ آپ ﷺ نے کھجور لے کر اپنے منہ میں چبایا؛ تاکہ اپنے بابرکت لعاب دہن کے ساتھ اسے ملادیں اور بچے کے لیے اس کا نگلنا آسان ہوجاۓ۔ اس طرح بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی مصطفیٰ ﷺ کے لعاب دہن کے ساتھ چبائی ہوئی کھجور داخل ہو، جو اس بچے کی نیک بختی کا باعث ہو اور اس کی زندگی میں برکتیں نازل ہوتی رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے اپنے منہ سے چبائی ہوئی کھجور نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دی۔ انھیں بچے کے منہ میں پھیرا اور اس کانام عبداللہ رکھا۔ اس بچے کے ہاں نو لڑکے ہوئے اورنبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت سے وہ سب کے سب قرآن مجید کے قاری نکلے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، ام سلیم رضی اللہ عنھا نے اپنے گھر والوں کو تاکید کردی تھی کہ"ابوطلحہ کو ان کے فرزند کے بارے میں اطلاع نہ دینا، تاآں کہ میں ہی انھیں اس کے بارے میں بتلاؤں۔"جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر تشریف لائے، انھیں رات کا کھانا پیش کیا۔ وہ کھانے پینے سے فارغ ہوگئے۔ پھر ام سلیم نے ان کے لیے بناؤ سنگھار کیا۔ خود کو خوش بو سے معطر کرلیا اور سج سنور گئیں۔ پھر ابوطلحہ نے ان سے ہم بستری کی اور جب جماع سے فارغ ہوئے تو بیوی نے اپنے بیٹے کی نسبت ادھار کے طور پر لی گئی شے سے مثال بیان کی، جسے اس کے مالک کے حوالہ کردیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا کہ اے ابوطلحہ! ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر کچھ لوگ اپنے گھر کی کوئی چیز کسی گھرانے کو ادھار کے طور پردیں اور پھر ان سے اپنی چیز واپس مانگ لیں، تو کیا لینے والے کے لیے درست ہے کہ وہ ادھار دینے والوں کو ان کی چیز واپس کرنے سے انکار کردیں؟ ابوطلحہ نے جواب میں کہا کہ نہیں! تب بیوی نے کہا کہ تو پھر اپنے فرزند کے تئیں اللہ تعالیٰ سے امید رکھو۔ ابوطلحہ یہ سن کر غصے میں آگئے اور کہا:تم نے مجھے اس بات سے اس حد تک بے خبر رکھا کہ میں (کھانے،پینے اور جماع جیسے امور میں پوری طرح) آلودہ ہوگیا اور ان سب کے بعد تم میرے بیٹے کے انتقال کی خبردے رہی ہو؟! پھر نبی کریم ﷺ سے اپنی بیوی کی شکایت کرنے اور ان کے ساتھ پیش آئے سارے ماجرے کو بیان کرنے کے لیے نکل پڑے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان دونوں کے حق میں ایسی دعا دی کہ ان دونوں کے اس عمل کا بہترین نتیجہ برآمد ہوا۔ فرمایا: "تمھاری گزرنے والی رات میں اللہ تعالیٰ تمھیں برکت عطا فرمائے!"یعنی اس رات تم دونوں کی ہم بستری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تمھیں پاکیزہ اولاد اور بہترین نسل سے نواز دے۔ بعدازاں وہ حاملہ ہوئیں۔ وہ اور ان کے شوہر رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں ہم راہ تھے۔ جب مدینے میں داخل ہونے والے تھے کہ انھیں دردزہ نے آلیا، یعنی ولادت کی تکلیف محسوس ہونی شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ سفر سے لوٹتے تو اہل مدینہ کو قافلے کی آمد کی خبر دینے کے لیے کسی قاصد کوروانہ فرماتے اور اس سے قبل مدینے میں داخل نہ ہوتے۔ اپنی بیوی کی زچگی کے امور میں مشغول ہونے کی وجہ سے ابوطلحہ کو وہیں رک جانا پڑا اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے۔ ابوطلحہ اپنے رب سے یوں گویا ہوئے کہ اے میرے پروردگار! تو بخوبی جانتا ہے کہ مجھے بس یہی اچھا لگتا ہے کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ باہر نکلیں، تو میں بھی تیرے رسول کے ساتھ نکلوں اور جب آپ مدینہ واپس آئیں تو میں بھی آپ کے ہم راہ اندر آؤں، لیکن تو دیکھ رہا ہے کہ مجھے کس وجہ سےروک دیا گیا ہے۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا کہ اے ابوطلحہ! مجھے اب وہ درد محسوس نہیں ہورہا ہے، جو پہلے ہورہا تھا۔ یعنی مجھے اب دردزہ کی وہ تکلیف محسوس نہیں ہورہی ہے، جو اس سے پہلے ہورہی تھی۔ پھر ان سے کہا کہ اب چلیے۔ جب یہ لوگ مدینہ پہنچ گئے، تو زچگی کا وقت آگیا۔ انھوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بچے کو نبی ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ اس بات کی بھی تاکید کی کہ اس کو کوئی دودھ نہ پلائے۔ تاکہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی ﷺ کا لعاب دہن داخل ہو اور اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اس کی زندگی میں آجائیں۔ اس عمل کا نتیجہ اس لڑکے میں ظاہر ہو گیا کہ اس کی نسل میں نیکوکار، پرہیزگار اور فلاح و کامرانی سے ہم کنار ہونے والے لڑکوں کی بہتات ہوئی۔ اس حدیث کی شرح کے اختتام پر یہ جاننا ازحد ضروری ہے کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے تبرک حاصل کرنا صرف اور صرف نبی ﷺ کی خصوصیات سے تعلق رکھتا ہے، جس میں اس امت کا کوئی فرد کبھی شریک و حصہ دار نہیں ہوسکتا۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ نزول وحی کا راست مشاہدہ کرنے والے اور دینی حقائق سے بھرپور واقفیت و آگہی رکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین نے خلفاے راشدین اور ان کے علاوہ عشرۂ مبشرہ میں سے کسی کے ذریعہ کبھی تبرک حاصل نہیں کیا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. تطريز رياض الصالحين، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الناشر: دار العاصمة للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1423 هـ. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ. دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أَنْ يَخْرُج أَقْرَعَ بَيْن نِسائه، فأيَّتُهُنَّ يَخْرُج سَهْمُها خَرَج بها النبي صلى الله عليه وسلم ، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا في غَزْوَةٍ غَزَاها، فَخَرج فيها سَهْمِي، فخَرَجْتُ مع النبي صلى الله عليه وسلم بَعْد ما أُنْزِلَ الحِجابُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان کمالِ عدل سے کام لیتے تھےچنانچہ جب کسی سفر کا اردہ فرماتے تو ان کے دلوں کی تسکین کے لیے ان کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے اور جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایسے ہی غزوۂ بنی مصطلق کے وقت آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کی اور قرعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام نکلا چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ واقعہ اللہ تعالی کی جانب سے پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ دوسرے سفر میں اپنی بقیہ دوسری بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کرتے کیوں کہ پہلے سفر میں جس کے نام قرعہ نکلتا وہ اپنا حق پا چکی ہوتیں، اس طرح جب ایک ہی باقی بچتیں تو اگلے سفر میں بغیر قرعہ اندازی کے انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم، تأليف مسلم بن الحجاج النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر, الطبعة: السابعة، 1323 هـ تاج العروس من جواهر القاموس, محمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسيني، أبو الفيض، الملقّب بمرتضى، الزَّبيدي, مجموعة من المحققين, الناشر: دار الهداية توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ ـ 1431 هـ بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م التيسير بشرح الجامع الصغير، للمناوي. دار النشر - مكتبة الإمام الشافعي - الرياض - 1408- 1988م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : "انھیں اپنے گھروں سے نکال دو"

عن ابن عباس، قال: لَعَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم المُخَنَّثِينَ من الرجال، والمُتَرَجِّلاَتِ من النساء، وقال: «أخرجوهم من بيوتكم» قال: فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فلانًا، وأَخْرَجَ عُمَرُ فلانًا.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم- نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے : "انھیں اپنے گھروں سے نکال دو"۔ وہ کہتے ہیں : چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اور عمر رضی اللہ عنہ- نے فلاں کو نکال دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بد دعا کی ہے۔ کیونکہ ان کا یہ رویہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی لانے کے اندر داخل ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شر سے لوگوں کو بچانے اور گھروں کی پاکیزگی اور عفت کے تحفظ کے لیے انھیں گھروں اور شہروں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان. طبعة الرسالة. الطبعة الأولى 1427 – 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية، سنة النشر: 1422 - 2001 ط 1.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com